Al-Bayan
Arabic size
ا
Urdu size
ا

Juz 12

۞ وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ

6

وَمَا مِنْ دَآبَّةٍزمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو ۔ وہ اُس کے ٹھکانے کو بھی جانتا ہے اور اس جگہ کو بھی جہاں وہ (مرنے کے بعد زمین کے) سپرد کیا جائے گا ۔ یہ سب کچھ کھلی کتاب میں درج ہے

وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۗ وَلَئِن قُلْتَ إِنَّكُم مَّبْعُوثُونَ مِن بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ

7

اور وہی ہے (اللہ تمھارا خالق) جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا اور (اس سے پہلے) اؙس کا عرش پانی پر تھا ۔ (تخلیقِ کائنات کا مقصد) تاکہ تمہیں آزما کر دیکھے کہ تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے اور اگر آپۖ ان سے کہیں کہ تم لوگ مرنے کے بعد (زندہ کر کے) دوبارہ اؙٹھائے جاؤ گے تو منکرین فوراً بول اؙٹھیں گے کہ یہ صریح جادو کے سوا (اور) کچھ نہیں

وَلَئِنْ أَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِلَىٰ أُمَّةٍ مَّعْدُودَةٍ لَّيَقُولُنَّ مَا يَحْبِسُهُ ۗ أَلَا يَوْمَ يَأْتِيهِمْ لَيْسَ مَصْرُوفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ

8

اور اگر ہم کچھ مدت کے لئے ان سے عذاب کو ٹال دیں تو وہ ضرور کہیں گے اسے کس چیز نے روک رکھا ہے ۔ خبردار۔۔۔۔۔ جس دن وہ (عذاب) ان پر آ پڑے گا تو ان سے پھیرا نہ جاسکے گا اور وہ (عذاب) انہیں گھیر لے گا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے

وَلَئِنْ أَذَقْنَا الْإِنسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاهَا مِنْهُ إِنَّهُ لَيَئُوسٌ كَفُورٌ

9

اور اگر ہم انسان کو اپنی طرف سے رحمت کا مزہ چکھائیں ۔ پھر ہم اسے (کسی وجہ سے) محروم کر دیں تو وہ مایوس ہو جاتا ہے (اور) نا شکر گزار بن جاتا ہے

وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ نَعْمَاءَ بَعْدَ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ السَّيِّئَاتُ عَنِّي ۚ إِنَّهُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ

10

اور اگر ہم اُسے تکلیف کے بعد جو اُسے پہنچی تھی آسائش کا مزہ چکھائیں تو (خوش ہو کر) کہہ اُٹھتا ہے (آہا) سب تکلیفیں جاتی رہیں ۔ پھر وہ پھولا نہیں سماتا اور اکڑنے لگتا ہے

إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَـٰئِكَ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ

11

سوائے اُن لوگوں کے جنہوں نے صبر کیا اور نیک اعمال کرتے رہے ۔ یہ وہی ہیں جن کے لئے مغفرت اور بڑا اجر ہے

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌ بَعْضَ مَا يُوحَىٰ إِلَيْكَ وَضَائِقٌ بِهِ صَدْرُكَ أَن يَقُولُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ كَنزٌ أَوْ جَاءَ مَعَهُ مَلَكٌ ۚ إِنَّمَا أَنتَ نَذِيرٌ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ

12

کیا بھلا ایسا ہو سکتا ہے کہ اس میں سے کچھ حصہ چھوڑ دیں جو آپۖ کی طرف وحی کیا گیا ہے اور (اس بات پر) آپۖ تنگ دل ہو رہے ہوں کہ یہ (لوگ) کہیں گے کہ اس (رسولۖ) پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اُتارا گیا یا اسکے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ آیا ؟ (آپۖ پر ایمان لانے کے لئے ان چیزوں کی ضرورت نہیں) آپۖ تو صرف خبردار کرنے والے ہیں اور (آگے) ہر چیز کا نگہبان خود اللہ ہے

أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ

13

کیا (کافر) یہ کہتے ہیں کہ اس نے (یہ قرآن) خود گھڑ لیا ہے ! آپۖ فرمائیے کہ (اگر ایسی بات ہے تو) تم بھی ایسی گھڑی ہوئی دس سورتیں (بنا کر) لے آؤ ۔ اور اللہ کے سوا جن کو بلا سکتے ہو بلا لو ۔ اگر تم (انہیں معبود سمجھنے میں) سچے ہو

فَإِلَّمْ يَسْتَجِيبُوا لَكُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا أُنزِلَ بِعِلْمِ اللَّهِ وَأَن لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ

14

(اے مسلمانو!) پھر اگر وہ (کافر) تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ درحقیقت یہ (قرآن) صرف اللہ کے حکم سے اُتارا گیا ہے اور یہ (بھی یقین کر لو) کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ تو پھر اب بھی تم ثابت قدم رہتے ہو (یا نہیں ؟)

مَن كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ

15

جو لوگ (بس اسی) دنیا کی زندگی اور اسکی ﺰیب و زینت کے طلب گار ہیں ، ہم ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ اِسی دنیا میں دے دیتے ہیں ۔ اور اس میں اُن کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی

أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ ۖ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ

16

�ہی لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں ۔ اس (دنیا) میں جو کچھ اُنہوں نے بنایا وہ سب ضائع گیا اور ان کا کیا دھرا اب برباد ہےآخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں)

أَفَمَن كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَمِن قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَىٰ إِمَامًا وَرَحْمَةً ۚ أُولَـٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۚ وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ ۚ فَلَا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِّنْهُ ۚ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ

17

)تو کیا وہ شخص (انکار کر سکتا ہے) جس کے پاس اُسکے رب کی طرف سے روشن دلیل ہو پھر (اس کی تائید میں) اللہ کی طرف سے ایک (سچا) گواہ بھی آ گیا ہو اور اس سے قبل کتابِ موسیٰؑ (توریت) بھی راہنما اور رحمت بن کر آچکی ہو (ہرگز نہیں) ۔ اس طرح کے لوگ تو اس پر ایمان ہی لائیں گئے اور جو مختلف طبقوں میں سے جو کوئی اس کا انکار کرے تو اس کے وعدے کی جگہ (جہنم کی) آگ ہی ہو سکتی ہے ۔ پس (اے سننے والے) تم اس بارے میں کسی شک میں نہ پڑنا بلا شبہ یہ تیرے رب کی طرف سے کھرا سچ ھَے ۔ مگر اکثر لوگ نہیں مانتے

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا ۚ أُولَـٰئِكَ يُعْرَضُونَ عَلَىٰ رَبِّهِمْ وَيَقُولُ الْأَشْهَادُ هَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ ۚ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ

18

(اِنہیں بتا دو) اس سے بڑھ کر اور کون ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹا بہتان لگاتا ہے ۔ یہ لوگ اپنے رب کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور گواہ شہادت دیں گے یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ گھڑا تھا ۔ جان لو کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے

الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا وَهُم بِالْآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ

19

وه (ظالم) جو (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ۔ اور چاہتے ہیں کہ اسراہ کو ٹیڑھا بنا دیں ۔ اور وہی آخرت کے منکر ہیں

أُولَـٰئِكَ لَمْ يَكُونُوا مُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ وَمَا كَانَ لَهُم مِّن دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ۘ يُضَاعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ ۚ مَا كَانُوا يَسْتَطِيعُونَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوا يُبْصِرُونَ

20

�ہ لوگ زمین میں (اللہ کو) عاجز کرنے والے نہیں تھے اور نہ ہی ان کااللہ کے سوا کوئی حمائتی تھا ۔ اؙنہیں اب دوہرا عذاب دیا جائے گا (اس لئے کہ شدّتِ کفر کی وجہ سے) نہ وہ ( آپۖ کی بات) سُننے کی سکت رکھتے تھے اور نہ (آپۖ کی شخصیت کو) دیکھ سکتے تھے

أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ

21

�ہی وہ (بد نصیب) ہیں جنہوں نے خود اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا اور جو باتیں وہ گھڑتے رہے تھے سب اُن سے گُم ہو گئیں

لَا جَرَمَ أَنَّهُمْ فِي الْآخِرَةِ هُمُ الْأَخْسَرُونَ

22

اس میں کوئی شک نہیں کہ آخرت میں یہی لوگ سب سے زیادہ خسارے میں رہیں گے

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَخْبَتُوا إِلَىٰ رَبِّهِمْ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

23

(ہاں البتہ ان کے برعکس) جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرتے رہے اور اپنے رب کے حضور (ہمیشہ) عجز و انکسار سے جھکتے رہے ۔ یہی (خوش نصیب) جنتی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

۞ مَثَلُ الْفَرِيقَيْنِ كَالْأَعْمَىٰ وَالْأَصَمِّ وَالْبَصِيرِ وَالسَّمِيعِ ۚ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلًا ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

24

ان دونوں فریقوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا اور بہرا ہو اور (دوسرا) دیکھنے اور سُننے والا ہو ، کیا ان دونوں کا حال برابر ہو سکتا ہے ؟ کیا تم (اس مثال سے) اب بھی کوئی نصیحت قبول نہیں کرتے !!

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ

25

اور (اِسی طرح کے حالات تھے جب) ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اُن کی قوم کی طرف (رسول بنا کر) بھیجا ۔ (اؙنہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا) میں تمہیں صاف صاف خبردار کرتا ہوں