Juz 21
۞ وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ ۖ وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِي أُنزِلَ إِلَيْنَا وَأُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَإِلَـٰهُنَا وَإِلَـٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ
اور (اے مسلمانو !) اہلِ کتاب سے بحث مباحثہ نہ کیا کرو مگر اچھے طریقے سے ، سوائے اُن لوگوں کے جو اؙن میں سے ظالم ہوں ۔ اور (اؙن سے) کہہ دو کہ ہم اؙس (کتاب) پر ایمان لائے ہیں جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہے ۔ اور ہمارا معبود اور تمہارا معبود ایک ہی ہے ۔ اور ہم اُسی کے فرماں بردار ہیں
وَكَذَٰلِكَ أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ ۚ فَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يُؤْمِنُونَ بِهِ ۖ وَمِنْ هَـٰؤُلَاءِ مَن يُؤْمِنُ بِهِ ۚ وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلَّا الْكَافِرُونَ
(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) اور اِسی طرح ہم نے آپۖ کی طرف کتاب اؙتاری اور جن لوگوں کو ہم نے (پہلے سے) کتاب (یعنی توریت) عطا کر رکھی تھی وہ (حق شناس) اس کتاب پر (بھی) ایمان لاتے ہیں ۔ اور ان (اہلِ مکہ) میں سے (بھی) ایسے ہیں جو اس (قرآن) پر ایمان لا رہے ہیں ۔ اور ہماری آیتوں کا انکار تو (بس) کا فر ہی کرتے ہیں
وَمَا كُنتَ تَتْلُو مِن قَبْلِهِ مِن كِتَابٍ وَلَا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ ۖ إِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ
اور (اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم) اس سے پہلے آپۖ کوئی کتاب نہیں پڑھا کرتے تھے اور نہ ہی آپۖ اسے اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے ۔ ورنہ اہلِ باطل اؙسی وقت ضرور شک میں پڑ جاتے ۔ (آپۖ اؙمّی تھے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن نبیۖ کا نہیں اللہ کا کلام ہے)
بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ ۚ وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلَّا الظَّالِمُونَ
)بلکہ وہ (قرآن ہی کی) روشن آئتیں ہیں جو اُن لوگوں کے سینوں میں (محفوظ) ہیں ۔ جنہیں علمِ (نافع) بخشا گیا ۔ اور ظالموں کے سوا ہماری آیات کا کوئی انکار نہیں کر سکتا
وَقَالُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ آيَاتٌ مِّن رَّبِّهِ ۖ قُلْ إِنَّمَا الْآيَاتُ عِندَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ
اور (یہ کافر ) کہتے ہیں کہ ان پر (یعنی نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر) ان کے رب کی طرف سے نشانیاں (یعنی معجرات) کیوں نہیں اُتارے گئے ۔ آپۖ کہہ دیجئے کہ نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں اور مَیں تو صاف صاف (اللہ کے عذاب سے) ڈرانے والا ہوں
أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَرَحْمَةً وَذِكْرَىٰ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
کیا ان کے لئے یہ (نشانی) کافی نہیں جو ہم نے آپۖ پر کتاب نازل فرمائی ہے جو ان پر پڑھی جاتی ہے ۔ بے شک اس (کتاب) میں اہلِ ایمان کے لئے رحمت ہے اور نصیحت (بھی) ہے
قُلْ كَفَىٰ بِاللَّهِ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ شَهِيدًا ۖ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَالَّذِينَ آمَنُوا بِالْبَاطِلِ وَكَفَرُوا بِاللَّهِ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ
(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) آپۖ فرمائیے (اِن منکرین سے کہ) میرے اور تمہارے درمیان الله ہی بطور گواہ کافی ہے ۔ وہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب کا حال) جانتا ہے ۔ اور جو لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ سے کفر کرتے ہیں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں
وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ ۚ وَلَوْلَا أَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَاءَهُمُ الْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
اور یہ لوگ آپۖ سے عذاب میں جلدی چاہتے ہیں اور اگر (عذاب کا) وقت مقرر نہ ہوتا تو ان پر عذاب آچکا ہوتا ۔ اور وہ ضرور (اپنے وقت پر) ان پر اچانک آئے گا اور انہیں خبر بھی نہ ہو گی
يَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ
وہ آپۖ سے عذاب کے جلد آنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ اور بے شک جہنم تو کافروں کو گھیر لینے والی ہے
يَوْمَ يَغْشَاهُمُ الْعَذَابُ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ وَيَقُولُ ذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(اور اؙنہیں پتہ چلے گا) اُس روز جب کہ عذاب اُنہیں ڈھانپ لے گا اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے ۔ تو ارشاد ہوگا ۔ لو اب اپنے کرتوتوں کا مزا چکھو
يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ أَرْضِي وَاسِعَةٌ فَإِيَّايَ فَاعْبُدُونِ
اے میرے بندو ! جو ایمان لائے ہو (اگر کفارِ مکہ تمہیں تنگ کر رہے ہیں تو فکر کی کوئی بات نہیں) میری زمین وسیع ہے (ہجرت کر جاؤ) پس تم میری ہی بندگی بجا لاؤ
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
�ر جان کو موت کا مزا چکھنا ہے ۔ پھر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُبَوِّئَنَّهُم مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ نِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے ۔ ہم اُنہیں لازماً جنت کے بالائی محلّات میں جگہ دیں گے جن کے دامن میں نہریں رواں دواں ہوں گی ۔ وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے ۔ (اور ذرا دیکھو تو) کیا ہی عمدہ صلہ ہے (نیک) اعمال کرنے والوں کا !!
الَّذِينَ صَبَرُوا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ
�ہ وہ (خوش نصیب ) ہوں گے جنہوں نے (اللہ کی رضا کے لئے تکالیف برداشت کرتے ہوئے) صبر کیا اور وہ اپنے رب پر ہی تو کّل کرتے رہے
وَكَأَيِّن مِّن دَابَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللَّهُ يَرْزُقُهَا وَإِيَّاكُمْ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
اور (ذرا غور تو کرو) کتنے ہی زمین پر چلنے والے (جانور) ایسے ہیں جو اپنا رزق اُٹھائے نہیں پھرتے ، اللہ اؙنہیں بھی رزق دیتا ہے اور تمہیں بھی ۔ اور وہ (ہماری پکار کو) سننے والا اور (ہمارے حالات کو) جاننے والا ہے
وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ ۖ فَأَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ
اور (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اگر آپۖ ان (مشرکوں) سے پوچھیں کہ آسمانوں اللہ زمین کو کس نے پیدا کیا ہے اور سورج اور چاند کو کس نے مسّخر کر رکھا ہے تو ضرور کہیں گے اللہ نے ۔ پھر یہ کدھر سے دھوکا کھا رہے ہیں ؟
اللَّهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
اللہ ہی ہے کہ وہ اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے لئے (چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے ۔ بے شک الله (اپنے بندوں کے حالات کو) خوب جاننے والا ہے
وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّن نَّزَّلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ مِن بَعْدِ مَوْتِهَا لَيَقُولُنَّ اللَّهُ ۚ قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ
اور اگر آپۖ ان سے پوچھیں کہ آسمان سے پانی کس نے برسایا ہے پھر اس کے ذریعے بنجر زمین کو سرسبز و شادابی کس نے بخشی ہے تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے ۔ آپۖ فرما دیں ۔ الحمد للہ (حق واضح ہو گیا) بلکہ ان میں سے اکثر عقل سے عاری ہیں
وَمَا هَـٰذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ ۚ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
اور یہ دنیا کی زندگی کچھ نہیں مگر کھیل تماشہ اور دل کا بہلاوا ۔ اور حقیقت میں آخرت کا گھر ہی (اصل) زندگی ہے (جسے موت نہیں) ۔ کاش یہ (لوگ اس حقیقت کو) جان لیتے !
فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاهُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا هُمْ يُشْرِكُونَ
اور جب یہ (لوگ) کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو (مشکل وقت میں بُتوں کو چھوڑ کر) اپنے دین کو اُس کے لئے خالص کر کے اللہ کو پکارتے ہیں ۔ پھر جب وہ (اللہ) اؙنہیں بچا کر خشکی تک پہنچا دیتا ہے تو اس وقت وہ (دوبارہ) شرک کرنے لگ جاتے ہیں