Al-Bayan
Arabic size
ا
Urdu size
ا

Juz 4

۞ كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَىٰ نَفْسِهِ مِن قَبْلِ أَن تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ ۗ قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ

93

کھانے کی یہ سب چیزیں (جو شریعتِ محمدیۖ میں حلال ہیں) بنی اسرائیل کے لئے بھی حلال تھیں ، سوائے اُن (چیزوں) کے جو (حضرت) یعقوبؑ نے نزولِ تورات سے پہلے (کسی وجہ سے) خود اپنے اوپر حرام کرلی تھی ۔ آپۖ کہہ دیں کہ اگر تم سچے ہو تو تورات لاؤ (اور) اسے پڑھو

فَمَنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ

94

پھراس کے بعد بھی جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھیں تو وہی ظالم ہیں

قُلْ صَدَقَ اللَّهُ ۗ فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ

95

آپۖ کہہ دیں کہ اللہ نے سچ فرمایا ہے ، سو تم (چھوڑو ان تعصبات کو) اور ملتِ ابراہیمؑ کی پیروی کرو جو سیدھی راہ پر چلنے والے تھے ۔ اور ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے

إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ

96

بے شک (سب سے) پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لئے بنایا گیا ، وہی ہے جو مکہ میں ہے ۔ برکت والا ہے اور تمام جہان (والوں) کے لئے (سرچشمہءِ) ہدایت ہے

فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ ۖ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا ۗ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ

97

اس میں ؙکھلی نشانیاں ہیں (مثلاً) مقامِ ابراہیم ہَے اور جو اِس (گھر) میں داخل ہو گیا وہ اَمان پا گیا اور لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اِس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے ۔ (یہ اؙسکی نشانیاں ہیں) اور جس نے (اسکے بعد بھی) انکار کیا (تو اللہ کو اُسکی کوئی پروا نہیں کیونکہ) بےشک اللہ سب جہان (والوں) سے بے نیاز ہے

قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ شَهِيدٌ عَلَىٰ مَا تَعْمَلُونَ

98

(اِن سے) پوچھیں ۔ اے اہلِ کتاب ! تم اللہ کی آیات کا انکار کیوں کرتے ہو ؟ اور (یاد رکھو) اللہ تمہاری حرکتوں کا مشاہدہ کر رہا ہے

قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ آمَنَ تَبْغُونَهَا عِوَجًا وَأَنتُمْ شُهَدَاءُ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ

99

کہہ دیجیئے ۔ اے اہلِ کتاب ! جو شخص ایمان لے آیا ہے تم اُسے اللہ کی راہ سے کیوں روکتے ہو ! چاہتے ہو کہ وہ بھی ٹیڑھی راہ چلے ۔ حالانکہ تم خود (اُسکی راستی کے) گواہ ہو ۔ اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تُطِيعُوا فَرِيقًا مِّنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ يَرُدُّوكُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ كَافِرِينَ

100

اے ایمان والو ۔ اگر تم اہلِ کتاب میں سے (کسی) گروہ کی بات مانو گے تو وہ تمہارے ایمان (لانے) کے بعد پھر تمہیں کفر کی طرف لوٹا کر چھوڑیں گے

وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنتُمْ تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ آيَاتُ اللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُ ۗ وَمَن يَعْتَصِم بِاللَّهِ فَقَدْ هُدِيَ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ

101

اور بھلا (اب) تم کس طرح کفر کرو گے ؟ (اور جب کہ) تم وہ (خوش نصیب) ہو کہ تم پر اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں ۔ اور (سب سے بڑی بات یہ ہے کہ) تم میں اُس کے رسول (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) موجود ہیں اور جو شخص اللہ (کے دامنِ رحمت) کو مضبوطی سے تھام لیتا ہے تو اؙسے ضرور سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی جاتی ہے

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ

102

اے ایمان والو ۔ اللہ کی ناراضی سے بچو ، جیسا اُس سے بچنے کا حق ہے ۔ اور (خبردار) مرنا تو بس مسلمان ہی مرنا

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ۚ وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ

103

اور تم سب مل کر اللہ کی رَسی کو مضبوطی سے تھام لو ۔ اور (ہرگز) فرقہ بندی کا شکار نہ ہونا اور اللہ کے اُس احسان کو (بھی) یاد رکھو جو اُس نے تم پر کیا (وہ یہ کہ) جب تم (ایک دوسرے کے) دشمن تھے تو اُس نے تمہارے دلوں میں اُلفت ڈال دی اور تم اُس کے فضل و کرم کے باعث آپس میں بھائی بھائی بن گئے ۔ اور تم آگ کے ایک گڑھے کے بالکل کنارے پر (پہنچ چکے) تھے پھر اؙس نے تمہیں اِس (میں گرنے) سے بچا لیا ۔ اِسی طرح اللہ اپنی آیات کو تمہارے لئے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پا جاؤ

وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ

104

اور تم میں سے (لوگوں کی) ایک ایسی جماعت ضرور ہونی چاہئیے جو (لوگوں کو) نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور ؙبرائی سے روکے اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ ۚ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ

105

اور (دیکھو) اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور روشن نشانیاں آ جانے کے بعد بھی اختلافات میں مبتلا ہو گئے ۔ اور ایسے ہی (ہٹ دھرم) لوگوں کے لئے بہت بڑا عذاب ہے

يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ

106

جس دن (بہت سے) چہرے روشن ہونگے اور (بہت سے) چہرے سیاہ ہوں گے تو جن کے چہرے سیاہ ہوں گے (اُن سے پوچھا جائے گا) کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا تھا ؟ تو جو کفر تم کرتے رہے تھے ۔ (اس کے بدلے میں) اب اس عذاب (کی اذیتیں) چکھ لو

وَأَمَّا الَّذِينَ ابْيَضَّتْ وُجُوهُهُمْ فَفِي رَحْمَةِ اللَّهِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

107

اور جن لوگوں کے چہرے روشن ہوں گے تو وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے اور وہ اس (رحمت کے سائے) میں ہمیشہ رہیں گے

تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ ۗ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْمًا لِّلْعَالَمِينَ

108

�ہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم آپۖ کو حق کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں ۔ (وہ اس لئے کہ) اللہ دنیا والوں پر ظلم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا

وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ

109

اور (یاد رکھو) جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے اور سارے معاملات اللہ ہی کے حضور لوٹائے جاتے ہیں

كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ۗ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُم ۚ مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ

110

(اے ایمان والو ) تم ایک بہترین اُمت ہو جو لوگوں (کی اصلاح و ہدایت) کے لئے نکالی گئی ہو ۔ تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور ؙبرائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو یقیناً اؙن کے لئے بہتر ہوتا ! اِن میں کچھ ماننے والے بھی ہیں اور اکثریت نافرمانوں کی ہے

لَن يَضُرُّوكُمْ إِلَّا أَذًى ۖ وَإِن يُقَاتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنصَرُونَ

111

(صحابہ کرام کو حوصلہ دیتے ہوئے ارشادِ باری تعالٰی ہے کہ) یہ (اہلِ کتاب یہودی ذہنی) اذیت دینے کے سوا تمھارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گے ۔ اور اگر وہ تمہارے ساتھ جنگ کریں گے تو تمہارے سامنے پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے ۔ (اور ایسے بے بس ہو جائیں گے کہ) پھر ان کی مدد بھی نہیں کی جائے گی

ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوا إِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ ۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا وَّكَانُوا يَعْتَدُونَ

112

وہ جہاں کہیں بھی پائے گئے اُن پر ذلت مسلّط کردی گئی ہے ۔ ہاں البتہ کہیں اللہ کے ذمہ یا انسانوں کے ذمہ میں پناہ مل گئی (تو یہ اور بات ہے) ۔ وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے ہیں اور اُن پر محتاجی مسلّط کر دی گئی ہے یہ اس لئے کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے ۔ اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے تھے ۔ کیونکہ وہ نافرمان ہو گئے تھے اور (سرکشی میں) حد سے بڑھ گئے تھے