Al-Bayan
Arabic size
ا
Urdu size
ا

Juz 3

۞ تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۘ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ اللَّهُ ۖ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ ۚ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ۗ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِينَ مِن بَعْدِهِم مِّن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَلَـٰكِنِ اخْتَلَفُوا فَمِنْهُم مَّنْ آمَنَ وَمِنْهُم مَّن كَفَرَ ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلُوا وَلَـٰكِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ

253

یہ (سب) رسول ہیں ۔ ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ۔ (مثلاً) اِن میں سے کسی سے اللہ نے (بلا واسطہ) کلام فرمایا (یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام) اور بعض کے درجات بلند کئے (یعنی سید المرسلین محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم) اور ہم نے مریمؑ کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) کو کھلی نشانیاں عطا کیں ۔ اور روح القدس (یعنی جبرئیلِ امینؑ) سے اِن کی تائید فرمائی ۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان (رسولوں) کے بعد آنے والے لوگ اتنی واضح نشانیاں آجانے کے بعد کبھی بھی (باہم) قتل و غارت نہ کرتے مگر اُنہوں نے اختلاف کیا ۔ (پس) اِن میں سے کوئی (اِن رسولوں پر) ایمان لے آیا اور کوئی منکر ہو گیا (اور اے میرے حبیبۖ ، آپۖ کو نہ ماننے کی بھی یہی ایک وجہ ہے) ۔ اور اگر اللہ چاہتا تو یہ کبھی قتل وغارت نہ کرتے ۔ لیکن اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ ۗ وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ

254

اے ایمان والو ، جو کچھ (مال ومتاع) ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اُس میں سے (اللہ کی راہ میں) اُس دن کے آنے سے پہلے خرچ کر لو جس میں نہ تو کوئی خرید و فروخت ہوگئی اور نہ (کافروں کے لئے) کوئی دوستی (فائدہ مند) ہوگی اور نہ ہی (کوئی) سفارش (نفع دے گی) ۔ اور (در حقیقت) یہ کفر کرنے والے ہی ظالم ہیں

اللَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۖ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ

255

اللہ (ہی تو ہے کہ) اُس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، ہمیشہ سے زندہ ، (کُل کائنات کو اپنی تدبیر سے) قائم رکھنے والا ہے ۔ نہ اُس کو اونگھ آتی ہے اور نہ نیند ، جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اُسی کا ہے ، کون ہے جو اُس کی اجازت کے بغیر اُسکی بارگاہ میں سفارش کر سکے ؟ وہ جانتا ہے جو کچھ (اُس کی مخلوق کے) سامنے ہے اور جو کچھ اُن کے پیچھے ہے ۔ اور وہ اُس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے ۔ اُسکی کرسیِ (اقتدار) تمام آسمانوں اور زمین سے (بھی زیادہ) وسیع ہے ۔ اور اُس پر اِن دونوں (یعنی آسمان و زمین) کی حفاظت بالکل دُشوار نہیں اور وہی (اللہ تعالٰے) عالی مرتبت ، عظمت والا ہے

لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ لَا انفِصَامَ لَهَا ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

256

(اب اللہ کی طرف سے) دین (کے معاملات) میں کوئی زبردستی نہیں ہے ۔ (کیونکہ) بلاشبہ ہدایت (کا راستہ) گمراہی سے (الگ کر کے) واضح کر دیا گیا ہے ۔ تو بس جو کوئی (خوش نصیب) طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر (کامل) ایمان لے آئے تو اُس نے (ایسا) مضبوط حلقہ تھام لیا جس کا ٹوٹنا (ممکن ہی) نہیں اور اللہ خوب سننے والا ، جاننے والا ہے

اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ ۗ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

257

الله ، ایمان والوں کا مددگار ہے وہ اُنہیں (کفر کے) اندھیروں سے نکال کر (ایمان کی) روشنی کی طرف لے جاتا ہے اور جن لوگوں نے کفر کیا اُن کے حمائتی تو شیاطین ہیں ۔ جو اُنہیں (ایمان کی) روشنی سے نکال کر (کفر کے) اندھیروں کی طرف (کھینچ) لے جاتے ہیں ۔ (طاغوت کی چالوں میں آجانے والے) یہ لوگ ہی تو دوزخی ہیں جو (آگ کے عذاب میں) ہمیشہ(جلتے) رہیں گے

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ قَالَ أَنَا أُحْيِي وَأُمِيتُ ۖ قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ

258

(ایے رسولۖ) کیا آپۖ نے اُس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیمؑ سے اُس کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا ۔ اس وجہ سے کہ اللہ نے اُسے بادشاہی عطا کی تھی ۔ (دورانِ بحث) جب ابراہیمؑ نے فرمایا ۔ " میرا رب تو وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا (بھی) ہے " ۔ اُس نے (جوا باً) کہا ۔ " میں (بھی) زندہ کرتا ہوں اور (جس کو چاہوں) مار (بھی) دیتا ہوں " ۔ ابراہیمؑ نے فرمایا ۔ (اگر یہ بات ہے تو) بے شک (میرا) اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے ۔ (اور اگر تیرا کچھ اختیار ہے تو) اُسے مغرب سے نکال لا ۔ (یہ سُن کر) وہ منکرِحق ہکّا بکّا رہ گیا (حقیقت یہ ہے کہ) اللہ ایسی ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا

أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَىٰ قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىٰ يُحْيِي هَـٰذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا ۖ فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ ۖ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ ۖ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ۖ قَالَ بَل لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانظُرْ إِلَىٰ طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ ۖ وَانظُرْ إِلَىٰ حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِّلنَّاسِ ۖ وَانظُرْ إِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

259

یا اُس (شخص) کی طرح جس کا گزر ایک (ایسی) بستی پر سے ہوا جو اپنی چھتوں کے بل گری پڑی تھی ۔ اُس نے (حیرت سے) کہا کہ اللہ اسکی ہلاکت کے بعد (اس کے باشندوں کو) کس طرح زندہ کرے گا ! تو اللہ نے سو برس تک اُس پرموت طاری کردی ، پھر اُسے زندہ کیا ۔ (تو) اُس سے پوچھا ۔ کتنی مدت (اس حال میں) رہے ؟ بولا ۔ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ۔ (اللہ نے) فرمایا ۔ " (نہیں) بلکہ تم پورے سو سال تک اِسی حالت میں رہے ہو ۔ اب تم اپنے کھانے پینے (کی اشیاء) پر تو نظر ڈالو ذرا بھی خراب نہیں ہوئیں ۔ اور اپنے گدھے کی طرف بھی دیکھو (جس کا اِنجر پنجر مٹی ہو چکا) ۔ یہ اس لئے کہ ہم تجھے لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنا دیں اور (اب ذرا اپنے گدھے کی) ہڈیوں کی طرف دیکھو کہ ہم اِنہیں کس طرح جوڑتے ہیں ، پھر اِن پر گوشت چڑھاتے ہیں ۔ پھر جب پر اُس پر(حقیقتِ حال) واضح ہو گئی تو پُکار اُٹھا ۔ (اب) میں خوب جانتا ہوں کہ بلا شبہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَىٰ ۖ قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن ۖ قَالَ بَلَىٰ وَلَـٰكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي ۖ قَالَ فَخُذْ أَرْبَعَةً مِّنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلَىٰ كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيًا ۚ وَاعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

260

(اوراس سلسلے کا ایک اور واقعہ یاد کرو) جب ابراہیمؑ نے عرض کیا ۔ " میرے رب ، مجھے دکھا دے کہ تُو مُردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے ؟ فرمایا " کیا تم (اس پر) ایمان نہیں رکھتے ؟ عرض کیا " کیوں نہیں (ایمان تو رکھتا ہوں) مگر اس لئے کہ میرا دل مطمئن ہو جائے " ۔ اِرشاد ہُوا ۔ (اگر ایسا ہی چاہتے ہو تو) پھر چار پرندے پکڑ لو ، پھر اُنہیں اپنے ساتھ مانوس کر لو ۔ پھر (اُنہیں ذبح کر کے) ان کا ایک ایک حصہ ہر پہاڑی پر رکھ دو ۔ پھر اُنہیں (نام لے کر) بلاؤ ، تو وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آ جائیں گے ۔ اور خوب جان لو کہ بے شک اللہ بڑا زبردست ، حکمت والا ہے

مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ۗ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ

261

جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں اُن کی مثال ایک دانے کی طرح ہے (جِسے بویا جائے تو) اس میں سے سات بالیاں اُگیں (اور) ہربالی میں سو دانے ہوں (یعنی سات سو گنا اجر ہے مال خرچ کرنے کا) ۔ اللہ جس کے لئے چاہتا ہے (اس سے بھی زیادہ) اضافہ کر دیتا ہے ۔ اوراللہ تو بڑی وسعت والا ، جاننے والا ہے

الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُونَ مَا أَنفَقُوا مَنًّا وَلَا أَذًى ۙ لَّهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

262

جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ۔ پھر خرچ کرنے کے بعد نہ تو احسان جتلاتے ہیں اور نہ دُکھ دیتے ہیں ۔ اُن کے لئے اُن کے رب کے پاس اُن کا اجر ہے ۔ اور(ایسی سخاوت کرنے والوں کے لئے روزِ قیامت) اُن پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

۞ قَوْلٌ مَّعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّن صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى ۗ وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ

263

(کسی سائل سے) اچھی بات کہنا اور(غلطی پر) معاف کر دینا اُس صدقہ سے کہیں بہتر ہے جس کے بعد (کوئی بات کہہ کر اُسے) دُکھ پہنچایا جائے ۔ اور (یاد رکھو) اللہ بے نیاز ہے (وہ محروم بھی کر سکتا ہے مگر وہ) تحمل والا بھی ہے

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنِّ وَالْأَذَىٰ كَالَّذِي يُنفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْهِ تُرَابٌ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا ۖ لَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوا ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ

264

اے ایمان والو : احسان جتا کر اور دُکھ دے کر اپنے صدقات ضائع نہ کرو اُس شخص کی طرح جو لوگوں کو دِکھانے کے لئے اپنا مال خرچ کرتا ہے ۔ اور (حقیقت میں ایسا شخص) نہ تو اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور (نہ) آخرت کے دن پر ۔ اس (شخص) کی مثال ایسے چکنے پتھر کی سی ہے جس کے اوپر (تھوڑی سی) مٹی پڑی ہو پھر اس پر موسلادھار بارش برسے (بارش سے مٹی بہہ جانے کے بعد) وہ سپاٹ پتھر کا پتھر (ہی) رہ جائے ۔ (ایسے ریاکاروں کو قیامت کے دن) ان کی کمائی سے کچھ بھی ان کے پلّے نہیں پڑے گا ۔ اور اللہ کافر قوم (کے لوگوں) کو ہدایت نہیں دیتا

وَمَثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَتَثْبِيتًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبْوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَآتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ فَإِن لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ

265

اور اُن لوگوں کی مثال جو اللہ کی رضا حاصل کرنے اور اپنے دلوں میں (مال خرچ کرنے کی صلاحیت) پختہ کرنے کے لئے اپنے مال خرچ کرتے ہیں ایک ایسے باغ کی مانند ہے ، جو بلندی پر واقع ہو اور اس پر موسلا دھار بارش برسے تو وہ (باغ) دوگنا پھل لائے ۔ اور اگر موسلادھار بارش نہ بھی ہو تو (ہلکی) پھوہار ہی اس کے لئے کافی ھے ۔ اور (اس مثال سے سبق حاصل کرو اور اطمینان رکھوکہ) اللہ تمہارے اعمال پر نظر رکھے ہوئے ہے

أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَن تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ لَهُ فِيهَا مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَأَصَابَهُ الْكِبَرُ وَلَهُ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَاءُ فَأَصَابَهَا إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ ۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ

266

کیا تم میں سے کوئی پسند کرے گا کہ اُس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو ، جس کے نیچے ندیاں بہتی ہوں اور اس میں اُس کے لئے (دوسرے بھی) ہر قسم کے پھل ہوں اور (ایسے وقت میں) اُسے بڑھاپے نے آ لیا ہو ۔ اور (ابھی) اُسکی اولاد (بھی) کمزور ہو ۔ (تو ذرا غور کرو ایسے وقت میں) ایک بگولا آئے جس میں آگ ہی آگ ہو ۔ پھر وہ (باغ) جل کر خاک ہو جائے (احسان جتا کر دوسروں کی دل آزاری کرنے والوں کا قیامت کے دن یہی حال ہو گا اور وہاں کوئی سہارا بھی نہیں ملے گا) ۔ اِسی طرح اللہ آیات کو تمہارے لئے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم غور و فکر کر سکو

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مِّنَ الْأَرْضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنفِقُونَ وَلَسْتُم بِآخِذِيهِ إِلَّا أَن تُغْمِضُوا فِيهِ ۚ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ

267

اے ایمان والو ۔ اپنے کمائے ہوئے پاکیزہ مال میں سے خرچ کرو اور اُن چیزوں میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالی ہیں اور (اللہ کی راہ میں) اس میں سے کوئی بُری (چیز) خرچ کرنے کا (ہرگز) ارادہ نہ کرو ۔ اور(بتاؤ ذرا اگر وہی ناقص اور رد‍‌ّی چیز تمہیں دی جائے تو) تم کبھی بھی اُسے قبول کرنا گوارا نہ کرو گے ۔ ہاں مگر یہ کہ تم اس میں چشم پوشی کر لو (تو الگ بات ہے) ۔ اور خوب جان لو کہ اللہ بے نیاز ، لائقِ حمد وثنا ہے

الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُم بِالْفَحْشَاءِ ۖ وَاللَّهُ يَعِدُكُم مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلًا ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ

268

شیطان تمہیں تنگدستی سے ڈراتا ہے اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے ۔ (جبکہ) اللہ تم سے اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ کرتا ہے ۔ اور اللہ بڑی وسعت والا خوب جاننے والا ہے

يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا ۗ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ

269

(اللہ اپنے دستور کے مطابق) جِسے چاہتا ہے عقلِ سلیم عطا کرتا ہے (جو منشائےِ خداوندی کی طرف راہنمائی کرتی ہے) اور جسےِ عقلِ سلیم عطا کی جاتی ہے (گویا) اُسے بہت زیادہ بھلائی عطا کر دی گئی ۔ اور (حکمت کی ان باتوں سے ) صاحبانِ عقل و دانش ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں

وَمَا أَنفَقْتُم مِّن نَّفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُم مِّن نَّذْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُهُ ۗ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ

270

اور جو کچھ بھی تم نے خرچ کیا ہو یا کوئی بھی نذر مانی ہو(اطمینان رکھو کہ) یقیناً وہ اللہ کے علم میں ہے ۔ اور (اپنی جانوں پر) ظلم کرنے والوں کا تو کوئی (بھی) مددگار نہیں ہو گا

إِن تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ ۖ وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَيُكَفِّرُ عَنكُم مِّن سَيِّئَاتِكُمْ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ

271

اگر تم (اپنے) صدقات و خیرات اعلانیہ دو تو کیا ہی اچھا ہے (کہ اس سے دوسروں کو بھی ترغیب ہوگی) اور اگر ان (صدقات) کو چھپا کر محتاجوں کو دے دو تو یہ تمہارے لئے اور بھی بہتر ہے ۔ اور اللہ (اس خیرات کی وجہ سے) تمہارے گناہوں میں سے (کچھ گناہ) مٹا دے گا اور اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے

۞ لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ ۗ وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنفُسِكُمْ ۚ وَمَا تُنفِقُونَ إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ ۚ وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لَا تُظْلَمُونَ

272

(اے رسولۖ) ان (کافروں) کا ہدایت یافتہ ہو جانا آپۖ کی ذمہ داری نہیں ۔ بلکہ اللہ ہی (اپنے دستور کے مطابق) جسے چاہتا ہے ہدایت سے نوازتا ہے ۔ تم (اپنے) مال میں سے جو کچھ بھی خرچ کرو گے (اس میں) تمہارا اپنا ہی فائدہ ہے ۔ اور تم اللہ کی رضا طلبی کے لیے ہی تو خرچ کرتے ہو ۔ اور تم (اپنے) مال سے (اللہ کی راہ میں) جتنا بھی خرچ کرو گے اس کا پورا پورا (اجر) تمہیں دیا جائے گا ۔ اور تمہاری ذرا بھی حق تلفی نہیں ہوگی