Al-Bayan
Arabic size
ا
Urdu size
ا

Juz 6

۞ لَّا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَن ظُلِمَ ۚ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا

148

اللہ بُری بات زبان پر لانے کو پسند نہیں کرتا ہاں مگر مظلوم کو (اجازت ہے کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا اعلان کرئے) اور ہاں اللہ تو سنتا بھی ہے (اور) جانتا بھی

إِن تُبْدُوا خَيْرًا أَوْ تُخْفُوهُ أَوْ تَعْفُوا عَن سُوءٍ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيرًا

149

اگر نیکی کو ظاہر کرو یا اسے خُفیہ رکھو یا (کسی کی) بُرائی سے درگزر کرو (تو جان لو کہ) بے شک اللہ بھی بہت درگزر فرمانے والا ہے (اوراس کے باوجود) وہ پوری قدرت کا مالک (بھی) ہے

إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا

150

(اور البتہ یہ حقیقت جان لینی چاہئیے کہ) بلا شبہ جو لوگ اللہ اور اُسکے رسولوں کے منکر ہو رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اُسکے رسولوں کے درمیان تفریق پیدا کریں اور کہتے ہیں کہ کسی کو مانیں گے اور کسی کو نہیں مانیں گے اور چاہتے ہیں کہ اس (ایمان اور کفر) کے درمیان کوئی راستہ نکال لیں

أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا

151

اصل میں یہی لوگ پکّے کافر ہیں اور (ایسے ہی) کافروں کے لئے ہم نے ذلّت آمیزعذاب تیار کر رکھا ہے

وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَلَمْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ أُولَـٰئِكَ سَوْفَ يُؤْتِيهِمْ أُجُورَهُمْ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا

152

اور (اس کے برعکس) جو لوگ اللہ اور اُس کے رسولوں پر ایمان لائے اور وہ اُن میں سے کسی میں بھی فرق نہیں کرتے ہم اؙنہیں ضرور اؙن کے اجرعطا فرمائیں گے اور اللہ تو بہت بخشنے والا ، رحم کرنے والا ہے

يَسْأَلُكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَابًا مِّنَ السَّمَاءِ ۚ فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَىٰ أَكْبَرَ مِن ذَٰلِكَ فَقَالُوا أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ فَعَفَوْنَا عَن ذَٰلِكَ ۚ وَآتَيْنَا مُوسَىٰ سُلْطَانًا مُّبِينًا

153

(اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم) یہ اہلِ کتاب (آج) آپۖ سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آسمان سے کوئی لکھی لکھائی کتاب (ایک ہی مرتبہ) نازل کروا دیں ۔ (اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں) یہ تو موسیٰ (علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑا مطالبہ کر چکے ہیں ۔ وہ یہ کہ اؙنہوں نے کہا تھا کہ اللہ کو (ہماری آنکھوں کے سامنے) کھلم کھلا دکھا دو - تو اُن کی اس سرکشی کی وجہ سے اؙنہیں بجلی کی کڑک نے آپکڑا ۔ پھر اؙنہوں نے بچھڑے کو (اپنا معبود) بنا لیا بعد اس کے کہ اُن کے پاس واضح نشانیاں آچکی تھیں ۔ اس (ظالمانہ فعل) پر بھی ہم نے اُن سے درگزر کیا ۔ اور موسیٰ (علیہ اسلام) کو اُن پر کھلا غَلبہ عطا کر دیا

وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّورَ بِمِيثَاقِهِمْ وَقُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا

154

اور (پھر) ہم نے اُن سے پختہ عہد لینے کے لئے کوہِ طور کو اُن پر اُٹھا دیا ۔ اور ہم نے اُنہیں (متنّبہ کرنے کے لئے) فرمایا کہ (شہر کے) دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہونا ۔ اور ہم نے اُنہیں (یہ بھی) فرمایا کہ ہفتے کے دن کے معاملے میں حد سے نہ بڑھنا ۔ (ان سب باتوں پر) ہم نے اُن سے پختہ عہد لیا تھا

فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِم بِآيَاتِ اللَّهِ وَقَتْلِهِمُ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ ۚ بَلْ طَبَعَ اللَّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا

155

(آخرِ کار) اُن کی عہد شکنی کی وجہ سے اور (اس وجہ سے کہ) اُنہوں نے اللہ کی آئیتوں کو جھٹلایا اور (بہت سے) نبیوں کو ناحق قتل کیا (ان وجوہات کی وجہ سے اللہ نے ان پر لعنت بھیج دی) اور اُن کا یہ قول کہ ہمارے دلوں پر تو غلاف چڑھے ہوئے ہیں ۔ (حالانکہ یہ بات نہیں) اللہ نے تو ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے ۔ اس لئے (اب) یہ تھوڑے ہی ایمان لائیں گئے

وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا

156

اور ان کے کفر کی وجہ سے اور مریم (علیہا السلام) پر بہت بڑا بہتان لگانے کی وجہ سے

وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا

157

اوران کے اس دعوے کی وجہ سے کہ ہم نے مسیح عیسیٰ ابنِ مریم (علیہ السلام) کو قتل کر دیا جو کہ اللہ کے رسول ہیں ۔ حالانکہ انہوں نے نہ اُن کو قتل کیا اور نہ ہی اؙنہیں سولی پر چڑھایا ، بلکہ اُن کے لئے (کسی اور کی) وہی شکل بنادی گئی اور جنہوں نے ان کے بارے میں اختلاف کیا وہ یقیناً (اس قتل کے حوالے سے) شک میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اؙنہیں اس (حقیقتِ حال) کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں وہ تو محض وہم و گمان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ۔ اور (جان لو کہ) اؙنہوں نے اِنہیں (یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو) یقیناً قتل نہیں کیا

بَل رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا

158

بلکہ اللہ ہی نے اؙنہیں اپنی طرف اُٹھا لیا تھا ۔ اور (یہ کام اللہ کے لئے کوئی مشکل نہیں کیونکہ) اللہ زبردست حکمت والا ہے

وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا

159

اور اہلِ کتاب میں سے کوئی بھی شخص ایسا نہ ہوگا مگر یہ کہ وہ اپنی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا ۔ اور قیامت کے دن وہ (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) اُن پر گواہ ہوں گے

فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَن سَبِيلِ اللَّهِ كَثِيرًا

160

پھر ان یہودیوں کے ظالمانہ طرزِعمل کی وجہ سے ہم نے ان پر (کئی) پاکیزہ چیزیں حرام کر دیں جو (پہلے) ان پر حلال کی جا چکی تھیں ۔ اور اس وجہ سے بھی) کہ وہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے (بکثرت) روکتے تھے

وَأَخْذِهِمُ الرِّبَا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا

161

اور اس وجہ سے (بھی) کہ وہ سود لیتے تھے حالانکہ اُنہیں اس سے روکا گیا تھا اور (اس کے ساتھ ساتھ) وہ لوگوں کا مال (بھی) نا حق کھاتے تھے ۔ اور جو لوگ ان میں سے کافر ہیں اُن کے لئے ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے

لَّـٰكِنِ الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَالْمُؤْمِنُونَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ ۚ وَالْمُقِيمِينَ الصَّلَاةَ ۚ وَالْمُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالْمُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أُولَـٰئِكَ سَنُؤْتِيهِمْ أَجْرًا عَظِيمًا

162

لیکن اُن میں سے جو پختہ علم والے ہیں اور مومن بھی ہیں ۔ (تو ایےجبیبۖ) جو آپۖ پر نازل کیا گیا اور جو آپۖ سے پہلے نازل کیا گیا تھا وہ (دونوں پر برابر) ایمان لاتے ہیں اور وہ (احسن طریقے سے) نماز کا اہتمام کرنے والے اور (اللہ کی محبت میں) زکوٰۃ دینے والے ہیں اور (اس کے علاوہ) اللہ اور یومِ آخر پر ایمان رکھنے والے ہیں ۔ یہی وہ (خوش نصیب) لوگ ہیں جنہیں ہم عنقریب بڑا اجر عطا فرمائیں گے

۞ إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَىٰ نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِن بَعْدِهِ ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَعِيسَىٰ وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَيْمَانَ ۚ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا

163

(اے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم) بے شک ہم نے آپۖ کی طرف (اُسی طرح) وحی بھیجی ہے جیسے ہم نے نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی تھی ۔ اور ان کے بعد (آنے والے دوسرے) انبیاء (کی طرف) ۔ اور ہم نے ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ اور اسحاقؑ اور یعقوبؑ اور (ان کی) اولاد اور عیسیؑ اور ایوبؑ اور یونسؑ اور ہارونؑ اور سلیمانؑ (علیم السلام) کی طرف (بھی) وحی بھیجی ۔ اور ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا فرمائی

وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ مِن قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۚ وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا

164

اور (ایسے بھی) رسول ہیں جن کے حالات اس سے پہلے ہم آپۖ سے بیان کر چکے ہیں - اور (ایسے) رسول بھی ہیں جن کا ذکر ہم نے آپۖ کو نہیں سنایا ۔اور اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے بطورِ خاص کلام فرمایا

رُّسُلًا مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا

165

(یہ سب) رسول (ایمان والوں کو) خوشخبری سنانے والے اور (کافروں کو اللہ کے عذاب سے) ڈرانے والے (بنا کر) اس لئے بھیجے تاکہ ان رسولوں کے (آنے کے) بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی عذر باقی نہ رہے ۔ بےشک اللہ زبردست ہے ، بڑی حکمت والا ہے

لَّـٰكِنِ اللَّهُ يَشْهَدُ بِمَا أَنزَلَ إِلَيْكَ ۖ أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا

166

(ایے حبیبۖ لوگ نہیں مانتے تو نہ مانیں) مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ اُس نے جو کچھ آپۖ پر نازل کیا ہے ، اپنے علم سے نازل کیا ہے اور فرشتے (بھی اسکی) گواہی دیتے ہیں اور (اس پر تو) اللہ کا گواہ ہونا ہی کافی ھے

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ قَدْ ضَلُّوا ضَلَالًا بَعِيدًا

167

بے شک جنہوں نے (رسالتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا) انکار کیا اور (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکا وہ تو دوؙر کی گمراہی میں جابھٹکے