Juz 9
۞ قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِن قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِن قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ۚ قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ
نواں پاره قَالَ المَلَااؙن کی قوم کے سرداروں (اور رئیسوں) نے جو متکبر ہو چکے تھے کہا ۔ " اے شعیبؑ ہم تمہیں اور اُن لوگوں کو جو تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے یا پھر تم لوگوں کو ہماری مِلّت میں واپس آنا ہوگا ۔ آپ (شعیبؑ) نے فرمایا ۔ کیا اس صورت میں بھی کہ ہم اس سے بے زار ہوں ؟
قَدِ افْتَرَيْنَا عَلَى اللَّهِ كَذِبًا إِنْ عُدْنَا فِي مِلَّتِكُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللَّهُ مِنْهَا ۚ وَمَا يَكُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِيهَا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّنَا ۚ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۚ عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا ۚ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ
(اس طرح تو) ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے بن جائیں گے ! اگر تمہاری ملت میں پلٹ آئیں جب کہ اللہ نے ہمیں اس سے نجات عطا فرمادی ہے ۔ !! ہمارے لئے تو اس کی طرف پلٹنا اب کسی طرح ممکن نہیں مگر یہ کہ اللہ ایسا چاہے جو ہمارا پالنے والا (بھی) ہے ۔ ہمارے رب کا علم ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے ۔ ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کر رکھا ہے ۔ اے ہمارے رب ! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان (ٹھیک ٹھیک) فیصلہ فرمادے اور یہ کہ تُو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے
وَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَوْمِهِ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا إِنَّكُمْ إِذًا لَّخَاسِرُونَ
ان کی قوم کے بڑوں نے جو (اؙن کی بات ماننے سے) انکار کر چکے تھے (آپس میں) کہا " اگر تم نے شعیبؑ کی پیروی قبول کرلی تو بڑے خسارے میں پڑ جاؤ گے"
فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ
آخر ایک سخت بھونچال نے اؙن کو آن لیا ۔ اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے
الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَأَن لَّمْ يَغْنَوْا فِيهَا ۚ الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَانُوا هُمُ الْخَاسِرِينَ
جن (بد بخت) لوگوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا (وہ ایسے نیست ونابود کر دیئے گئے) گویا وہ اس (بستی) میں بسے ہی نہ تھے ۔ شعیبؑ کو جھٹلانے والے ہی بِالآخر برباد ہوئے
فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ ۖ فَكَيْفَ آسَىٰ عَلَىٰ قَوْمٍ كَافِرِينَ
پھر (شعیبؑ نے) اُن سے منہ موڑ لیا اور یہ کہتے ہوئے (چل دیے کہ) اے میری قوم ! میں نے تو تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے تھے ۔ اور تمہیں نصیحت بھی کر دی تھی (کہ اللہ کی ناشکری سے بچ جاؤ) ۔ پھر میں کافر قوم (کے ہولناک انجام) پر کیونکر افسوس کروں ؟
وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّبِيٍّ إِلَّا أَخَذْنَا أَهْلَهَا بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ
کبھی ایسا نہیں ہُوا کہ ہم نے کسی نبی کو کسی بستی میں (رسول بنا کر) بھیجا ہو اور اس (بستی) کے لوگوں کو تنگی اور مصیبت میں مبتلا نہ کیا ہو اسلئے کہ شائد وہ عاجزی پر اؙتر آئیں
ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتَّىٰ عَفَوا وَّقَالُوا قَدْ مَسَّ آبَاءَنَا الضَّرَّاءُ وَالسَّرَّاءُ فَأَخَذْنَاهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوش حالی میں بدل دیا ۔ یہاں تک کہ وه خوب پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ ہمارے باپ دادا کو بھی (اسی طرح) دکھ سُکھ آتے ہی رہے ہیں ۔ پھر ہم نے اؙنہیں (اس ناشکری پر) اچانک پکڑ لیا اور اُنہوں نے (اس بارے میں) کبھی سوچا بھی نہ تھا
وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَـٰكِن كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
اور اگر (ان) بستیوں کے باشندے ایمان لے آتے اور تقوٰی اختیار کرتے تو ہم اُن پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے (دروازے) کھول دیتے لیکن اُنہوں نے (حق کو) جھٹلایا سو ہم نے اُنہیں اؙن (بداعمالیوں) کے باعث پکڑ لیا جو وہ کیا کرتے تھے
أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ
کیا اب بستیوں کے رہنے والے (اس بات سے) بے خوف ہو گئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو آپہنچے جب کہ وہ (غفلت کی نیند) سو رہے ہوں ؟
أَوَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا ضُحًى وَهُمْ يَلْعَبُونَ
�ا یہ کہ بستیوں والے مطمئن ہوگئے ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن چڑھے آ جائے اس حال میں کہ وہ کھیل کود رہے ہوں
أَفَأَمِنُوا مَكْرَ اللَّهِ ۚ فَلَا يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ
تو کیا یہ اللہ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہوگئے ہیں ؟ حالانکہ اللہ کی تدبیر سے وہی قوم بے خوف ہوتی ہے جو (ہمیشہ) نقصان اُٹھانے والی ہو
أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ الْأَرْضَ مِن بَعْدِ أَهْلِهَا أَن لَّوْ نَشَاءُ أَصَبْنَاهُم بِذُنُوبِهِمْ ۚ وَنَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ
کیا اؙن لوگوں کو جو اس کے (اصل) باشندوں (کی تباہی) کے بعد اس زمین کے وارث بنتے ہیں ۔ اُنہیں ان (عبرت ناک واقعات) سے کوئی راہنمائی نہیں ملتی کہ اگر ہم چاہتے تو ان کے گناہوں کے سبب انہیں بھی آ پکڑتے اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیتے اور وہ کچھ بھی سُن نہ پاتے
تِلْكَ الْقُرَىٰ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَائِهَا ۚ وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا مِن قَبْلُ ۚ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ الْكَافِرِينَ
�ہ وہ بستیاں ہیں جن (کے حالات) کی کچھ خبریں ہم آپۖ کو بیان کرتے ہیں ۔ بےشک اؙن کے رسول اُن کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ پھر بھی انہیں ماننے والے نہ تھے جنہیں وہ پہلے جھٹلا چکے تھے ۔ اللہ منکروں کے دلوں پر اسی طرح مہر لگا دیتا ہے
وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِم مِّنْ عَهْدٍ ۖ وَإِن وَجَدْنَا أَكْثَرَهُمْ لَفَاسِقِينَ
اور ہم نے ان لوگوں کی اکثریت کو پابندِ عہد نہ پایا بلکہ بہتوں کو حکم عدولی کرنے والا ہی پایا
ثُمَّ بَعَثْنَا مِن بَعْدِهِم مُّوسَىٰ بِآيَاتِنَا إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ فَظَلَمُوا بِهَا ۖ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ
پھر ہم نے اِن کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے (درباری) سرداروں کے پاس (رسول بنا کر) بھیجا ۔ مگر انہوں نے بھی (نہ مان کر) ان سے بے انصافی برتی ۔ تو پھر دیکھ لو فساد پھیلانے والوں کا کیسا انجام ہُوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟
وَقَالَ مُوسَىٰ يَا فِرْعَوْنُ إِنِّي رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ
اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ۔ "اے فرعون ! بے شک میں تمام جہانوں کے پالنے والے کی طرف سے رسول (بن کر آیا) ہوں
حَقِيقٌ عَلَىٰ أَن لَّا أَقُولَ عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ ۚ قَدْ جِئْتُكُم بِبَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ فَأَرْسِلْ مَعِيَ بَنِي إِسْرَائِيلَ
�ہ لازم ہے مجھ پر کہ اللہ کے بارے میں حق بات کے سوا (کچھ) نہ کہوں ۔ میں تم (لوگوں) کے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل لے کر آیا ہوں لہذا تُو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے"
قَالَ إِن كُنتَ جِئْتَ بِآيَةٍ فَأْتِ بِهَا إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ
(فرعون نے) کہا ۔ اگر تم کوئی نشانی لائے ہو (اور) اگر سچوں میں سے ہو تو اُسے پیش کرو
فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُّبِينٌ
پس (موسیٰ علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا تو وہ اؙسی وقت ایک جیتا جاگتا ازدہا بن گیا