Surah Al-A'raf
The Heights • 206 Ayahs • Meccan
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ المص
اللہ کے نام سے (شروع کیا جاتا ہے) جو نہایت مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ھے ۔الف لام میم صاد
كِتَابٌ أُنزِلَ إِلَيْكَ فَلَا يَكُن فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنذِرَ بِهِ وَذِكْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ
�ہ ایک کتاب ہے جو آپۖ کی طرف نازل کی گئی ہے ۔ تو (اے میرے رسولۖ) آپۖ کے (منور) سینے میں اس (کی تبلیغ پر کفار کے انکار یا تکذیب کے خیال) سے کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہونے پائے ۔ (یہ اس لئے نازل کی گئی ہے) کہ آپۖ اس کے ذریعے (منکروں کو اللہ کے عذاب سے) ڈرائیں ۔ اور ایمان والوں کے لئے یہ ایک نصیحت ہے
اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۗ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ
(لوگو) جو کچھ تمہارے ربّ نے (قرآن کی صورت میں) تم پر نازل کیا ہے اُس کی پیروی کرو اور اس کے سوا (دوسرے) سر پرستوں کے پیچھے مت چلو ۔ بہت ہی تھوڑے ہو تم جو نصیحت قبول کرتے ہو
وَكَم مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا فَجَاءَهَا بَأْسُنَا بَيَاتًا أَوْ هُمْ قَائِلُونَ
اور کتنی ہی بستیاں (ایسی) تھیں جنہیں ہم نے ہلاک کر ڈالا ۔ سواؙن پر ہمارا عذاب (اچانک) رات کے وقت آیا یا (دن دھاڑے ایسے وقت) جبکہ وہ دوپہر کوآرام کر رہے تھے
فَمَا كَانَ دَعْوَاهُمْ إِذْ جَاءَهُم بَأْسُنَا إِلَّا أَن قَالُوا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ
پھر جب اُن پر ہمارا عذاب آگیا تو اُن کی چیخ و پکار اس کے سوا اور کچھ نہ تھی کہ بے شک ہم ہی ظالم تھے
فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِينَ
پھر ہم اُن لوگوں سے ضرور پوچھیں گے جن کی طرف (رسول) بھیجے گئے اور ہم یقیناً رسولوں سے بھی دریافت کریں گے (کہ دعوت و تبلیغ کا کیا ردِّ عمل رہا؟)
فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيْهِم بِعِلْمٍ ۖ وَمَا كُنَّا غَائِبِينَ
پھر ہم ان کے سامنے پورے علم کے ساتھ (ان کے) سب حالات بیان کر دیں گے اور ہم کہیں غائب تو نہیں تھے (کہ انہیں دیکھتے نہ ہوں)
وَالْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ ۚ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
اور اُس دن اعمال کا تولا جانا ایک حقیقت ہوگی ۔ تو جن کے (نیکیوں کے) پلڑے بھاری ہوں گے تو وہی لوگ کامیاب ہوں گے
وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُم بِمَا كَانُوا بِآيَاتِنَا يَظْلِمُونَ
اور جن کے (نیکیوں کے) پلڑے ہلکے ہوں گے تو یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو خسارے میں رکھا ، اس وجہ سے کہ وہ ہماری آئتوں کی حق تلفی کیا کرتے تھے
وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ ۗ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ
بے شک ہم نے تمہیں زمین میں اختیارات و اقتدار کے ساتھ بسایا ۔ اور تمہارے لئے روزی کمانے کے سارے سامان پیدا کئے ۔ (مگر) تم بہت کم ہو جو شکر ادا کرتے ہو
وَلَقَدْ خَلَقْنَاكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ لَمْ يَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ
اور بے شک ہم نے تمہاری تخلیق کی (ابتداء کی) پھر تمہاری شکل و صورت بنائی ۔ پھر ہم نے فرشتوں سے فرمایا آدمؑ کو سجدہ کرو ۔ تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا ۔ وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا
قَالَ مَا مَنَعَكَ أَلَّا تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُكَ ۖ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ
(اللہ تعالٰے نے) پوچھا - (اے ابلیس) تجھے کس (بات) نے روکا کہ تُو سجدہ نہ کرے جبکہ مَیں نے تمہیں (سجدہ کرنے کا) حکم دیا تھا ؟ ۔ (ابلیس) بولا - مَیں اس (آدم) سے بہتر ہوں ۔ (کیونکہ) تُو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اِسے گارے سے بنایا ہے
قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فِيهَا فَاخْرُجْ إِنَّكَ مِنَ الصَّاغِرِينَ
اللہ نے فرمایا (اچھا یہ بات ہے) توپھر یہاں سے نیچے اُتر جا ۔ تجھے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ تُو یہاں تکبر کرے ۔ پس (میری بارگاہ سے) نکل جا ۔ درحقیقت تُو ذلیل و خوار لوگوں میں سے ہے
قَالَ أَنظِرْنِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ
بولا – مجھے اُس دن تک (زندہ رہنے کی) مُہلت دے جب کہ (یہ سب) دوبارہ اُٹھائے جائیں گے
قَالَ إِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ
(اللہ نے) فرمایا ۔ جن کو مہلت دی گئی تُو اؙنہی میں سے ہے
قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ
بولا – (اچھا تو) جس طرح تُو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے ، میں اب تیری سیدھی راہ پر اِن (انسانوں) کی گھات میں ضرور بیٹھوں گا
ثُمَّ لَآتِيَنَّهُم مِّن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَن شَمَائِلِهِمْ ۖ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ
آگے اور پیچھے اور دائیں اور بائیں (ہر طرف سے) اِن کو گھیروں گا اور تُو ان میں سے اکثریت کو شکر گزار نہ پائے گا
قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُومًا مَّدْحُورًا ۖ لَّمَن تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكُمْ أَجْمَعِينَ
فرمایا – نکل جا یہاں سے ذلیل و مردوؙد - اِن میں سے جس نے بھی تیری پیروی کی ، تو میں لاﺰماً تجھ سمیت ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا
وَيَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَـٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ
اور اے آدمؑ ! تم اور تمہاری بیوی (دونوں) اِس جنت میں رہو ۔ سو تم دونوں جہاں سے جو چاہو کھاؤ اور (بس) اس درخت کے پاس مت جانا ورنہ تم دونوں حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے ہو جاؤ گے
فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا وُورِيَ عَنْهُمَا مِن سَوْآتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَـٰذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ
پھر شیطان نے ان دونوں (کے دلوں) میں وسوسہ ڈالا تا کہ اؙن کی شرم گاہیں جو اؙن کی نظروں سے پوشیدہ تھیں اؙن پر ظاہر کر دے اور کہنے لگا (اے آدم و حوّا) تمہارے رب نے تمہیں جو اس درخت سے روکا تھا یہ صرف اس لئے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ یا تم ہمیشہ زندہ رہنے والوں میں سے نہ ہو جاؤ