Surah An-Najm
The Star • 62 Ayahs • Meccan
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ
�ا تابندہ ستارے کی قَسم جب وہ غروب ہوا
مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَىٰ
تمہارے رفیق (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) نہ (کبھی) راہ بھولے اور نہ (کبھی) راہ سے بھٹکے
وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ
اور وہ (اپنی) خواہشِ نفس سے نہیں بولتے
إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ
اُن کا کلام تو سراسر وحی ہوتا ہے جو اُن کی طرف کی جاتی ہے
عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ
اؙؙنہیں زبردست قوتوں والے (رب) نے (براہِ راست) تعلیم دی
ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ
جو حُسنِ مطلق ہے ۔ پھر اُس (جلوہِ حُسن) نے بلندیوں کا قصد کیا
وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ
اور وہ (جلوہِ نُور اُس وقت) بالائی افق پر تھا
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ
پھر وہ (جلوہِ نُور) قریب ہوا اور اؙوپر معلّق ہو گیا
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ
پھر (جلوہِ حق اور حبیب کریمۖ کے درمیان) دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا
فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ
پس (اس مقامِ قُربِ خاص میں اللہ نے ) اپنے (محبوب) بندے کی طرف وحی کی جو (بھی) وحی کی
مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ
نہ جھٹلایا دل نے جو دیکھا چشمِ (مصطفےٰۖ) نے
أَفَتُمَارُونَهُ عَلَىٰ مَا يَرَىٰ
(اے منکرو !) اب کیا تم اُن سے اس پر جھگڑتے ہو ، جو اؙنہوں نے آنکھوں سے دیکھا ؟
وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ
اور اُنہوں نے تو اس (جلوہِ حق) کو دوسری مرتبہ بھی دیکھا ہے
عِندَ سِدْرَةِ الْمُنتَهَىٰ
سدرۃُ المنتھیٰ کے قریب
عِندَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ
اؙسی کے پاس جنّت الماوٰی ہے (چاں جنّتی لوگ ہمیشہ قیام کریں گے)
إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ
(اؙس وقت) سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا (یعنی نُورِ حق کی تجلیّات)
مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ
(انوار و تجلیّات میں مستغرق) اُن کی آنکھ نہ کسی اور طرف مائل ہوئی اور نہ حد سے بڑھی
لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ
�قیناً اُنہوں نے (شبِ معراج) اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں
أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّىٰ
(اب ذرا بتاؤ) کیا تم نے کبھی لات اور عزّٰی (دیویوں کی حقیقت) پر غور کیا ہے ؟
وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَىٰ
اور تیسری ایک اور (دیوی) منات کو بھی (غور سے دیکھا ہے ؟)