Surah Al-Furqan
The Criterion • 77 Ayahs • Meccan
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا
بہت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے حق و باطل میں فرق کر دینے والی کتاب اپنے بندہِ (خاص محمد صلی الله علیہ وسلم) پر نازل فرمائی تاکہ وہ سارے جہان والوں کو (عذاب الٰہی سے) ڈرائے
الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا
وہ (ذاتِ باری تعالٰے کہ) اؙسی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ۔ اور جس نے نہ (اپنے لئے) کوئی اولاد بنائی ہے اور نہ بادشاہی میں کوئی اؙسکا شریک ہے ۔ اور جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور پھر اس کو ایک مقرر اندازے پر ٹھہرایا ہے
وَاتَّخَذُوا مِن دُونِهِ آلِهَةً لَّا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ وَلَا يَمْلِكُونَ لِأَنفُسِهِمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَلَا يَمْلِكُونَ مَوْتًا وَلَا حَيَاةً وَلَا نُشُورًا
مگر (لوگوں کا حال یہ ہے کہ) اؙنہوں نے اُس کے سوا دوسرے معبود بنا لئے جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکے وہ خود مخلوق ہیں ۔ اور اپنے لئے بھی کسی نقصان اور نفع کا اختیار نہیں رکھتے ۔ اور وہ نہ موت پر کوئی اختیار رکھتے ہیں اور نہ زندگی پر اور نہ مَرے ہوؤں کو اُٹھانا اؙن کے اختیار میں ہے
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَـٰذَا إِلَّا إِفْكٌ افْتَرَاهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمٌ آخَرُونَ ۖ فَقَدْ جَاءُوا ظُلْمًا وَزُورًا
اور جن لوگوں نے (نبیۖ کی) بات ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ (فرقان) ایک من گھڑت چیز ہے ۔ جسے (اس شخص نے) خود ہی گھڑ لیا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس کام میں اسکی مدد کی ہے ۔ یہ بڑا ظلم اور جھوٹ ہے جس پر (یہ لوگ) اؙتر آئے ہیں
وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَىٰ عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا
اور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ پہلے لوگوں کے قِصّے کہانیاں ہیں جِسے (یہ شخص) نقل کراتا ہے اور پھر (یہ قصّے) اسے صبح و شام سنائے جاتے ہیں
قُلْ أَنزَلَهُ الَّذِي يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا
(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اِنہیں فرما دیجئے ۔ کہ اس (فرقان) کو تو اُس (ہستی) نے نازل فرمایا ہے جو آسمانوں اور زمین کے راز جانتا ہے ۔ (تم جیسے کافروں کے لئے اور اس کی جگہ عذاب بھی نازل کر سکتا تھا مگر) حقیقت تو یہ ہے کہ وہ بڑا بخشنے والا رحم کرنے والا ہے
وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ ۙ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا
اور کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے ؟ یہ تو (ہماری طرح) کھانا کھاتا ہے ۔ اور (اپنی ضروریات کے لئے) بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ۔ اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہ اُتارا گیا ؟ کہ وہ اس کے ساتھ مل کر (نہ ماننے والوں کو) دھمکاتا
أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا ۚ وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا
�ا اس کی طرف کوئی خزانہ اؙتار دیا جاتا ، یا اس کے پاس کوئی باغ ہی ہوتا جس سے یہ کھاتا پیتا ۔ اور ظالم لوگ (مسلمانوں سے) کہتے ہیں کہ تم تو ایک سِحر زدہ آدمی کے پیچھے لگ گئے ہو
انظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا
دیکھو (اے میرے حبیبۖ) یہ تمہارے بارے میں کیسی کیسی باتیں بنا رہے ہیں ! پس یہ گمراہ ہو چکے ہیں ۔ سو یہ (ہدایت کا) کوئی راستہ نہیں پا سکتے
تَبَارَكَ الَّذِي إِن شَاءَ جَعَلَ لَكَ خَيْرًا مِّن ذَٰلِكَ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَيَجْعَل لَّكَ قُصُورًا
وہ (اللہ) بڑی برکت والا ہے ۔ اگر چاہے تو (اے حبیبۖ) آپۖ کے لئے اس سے (کہیں) بہتر (چیزیں) بنا دے (یعنی) باغات جن کے نیچے نہریں رواں دواں ہوں ۔ اور (ان میں) آپۖ کے لئے محلّات بنا دے (مگر نبوت و رسالت کے لئے یہ شرائط نہیں ہیں)
بَلْ كَذَّبُوا بِالسَّاعَةِ ۖ وَأَعْتَدْنَا لِمَن كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِيرًا
بلکہ (درحقیقت) اؙنہوں نے قیامت کو (بھی) جھٹلا دیا ہے ۔ اور ہم نے (ہر) اؙس شخص کے لئے جس نے (بھی) قیامت کو جھٹلایا (دوزخ کی) بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے
إِذَا رَأَتْهُم مِّن مَّكَانٍ بَعِيدٍ سَمِعُوا لَهَا تَغَيُّظًا وَزَفِيرًا
جب وہ (بھڑکتی ہوئی آگ) ان (منکروں) کو دوؙر کے مقام سے دیکھے گی تو (دیکھتے ہی بپھر جائے گی اور) یہ اس کے بپھرنے اور چنگھاڑنے (کی آواز) کو سنیں گے
وَإِذَا أُلْقُوا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِينَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُورًا
اور جب وہ اس میں کسی تنگ جگہ سے (زنجیروں کے ساتھ) جکڑے ہوئے ڈالے جائیں گے اس وقت وہ (اپنی) موت کو پکاریں گے
لَّا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا
(ان سے کہا جائے گا) آج ایک ہی موت کو نہ پکارو (بلکہ) بہت سی موتوں کو پکارو
قُلْ أَذَٰلِكَ خَيْرٌ أَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ ۚ كَانَتْ لَهُمْ جَزَاءً وَمَصِيرًا
ان سے پوچھو - (ذرا بتاؤ) کیا یہ (بھڑکتی ہوئی آگ) بہتر ہے یا وہ دائمی جنّت جس کا وعدہ پرہیزگاروں سے کیا گیا ہے ۔ یہ (جنّت) اُن کے اعمال کا صلہ اور (اُن کے سفر کی) آخری منزل ہوگی
لَّهُمْ فِيهَا مَا يَشَاءُونَ خَالِدِينَ ۚ كَانَ عَلَىٰ رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُولًا
اُن کے لئے اس (جنّت) میں وہ (سب کچھ میسّر) ہوگا جو وہ چاہیں گے ۔ (اس میں) ہمیشہ رہیں گے ۔ یہ آپۖ کے رب کے ذمے ایک وعدہ ہے جس کو ہر حال میں پورا کرنا ہے
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ فَيَقُولُ أَأَنتُمْ أَضْلَلْتُمْ عِبَادِي هَـٰؤُلَاءِ أَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيلَ
اور (یہ اُس دن کا دھیان کریں) جس دن (آپّ کا رب) اِنہیں اکٹھا کرے گا ۔ اور اؙن کو بھی جنہیں یہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں ۔ پھر اُن سے پوچھے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا وہ (خود) ہی راہ سے بھٹک گئے تھے
قَالُوا سُبْحَانَكَ مَا كَانَ يَنبَغِي لَنَا أَن نَّتَّخِذَ مِن دُونِكَ مِنْ أَوْلِيَاءَ وَلَـٰكِن مَّتَّعْتَهُمْ وَآبَاءَهُمْ حَتَّىٰ نَسُوا الذِّكْرَ وَكَانُوا قَوْمًا بُورًا
وہ جواب دیں گے کہ پاک ہے تیری ذات ، ہمیں تو یہ بات (بھی) زیبا نہ تھی کہ ہم تیرے سوا دوسروں کو کارساز بنائیں ۔ (ہم بھلا انہیں تیرے غیر کی عبادت کا کیوں کہتے ! ہُوا یہ کہ) تُو نے (اے ہمارے رب) اِنہیں اور ان کے باپ دادا کو (خوب خوب) سامانِ زندگی دیا ۔ یہاں تک کہ وہ تیری یاد بھی بھلا بیٹھے اور (یُوں) وہ لوگ برباد ہو کر رہ گئے
فَقَدْ كَذَّبُوكُم بِمَا تَقُولُونَ فَمَا تَسْتَطِيعُونَ صَرْفًا وَلَا نَصْرًا ۚ وَمَن يَظْلِم مِّنكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِيرًا
پارہ نمبر
وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا إِنَّهُمْ لَيَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَيَمْشُونَ فِي الْأَسْوَاقِ ۗ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً أَتَصْبِرُونَ ۗ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيرًا
اور (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) ہم نے آپۖ سے پہلے جو رسول بھی بھیجے وہ یقیناً کھانا بھی کھاتے تھے اور (حسبِ ضرورت) بازاروں میں بھی چلتے پھرتے تھے ۔ اور (ایے ایمان والو) ہم نے تمہیں ایک دوسرے کے لئے آزمائش بنا دیا ہے ۔ (تو بولو ان سب باتوں پر) صبر کرتے ہو ؟ ۔ (آپۖ مطمئن رہیں ایے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ جو کچھ کر رہے ہیں) آپۖ کا رب سب دیکھ رہا ہے