Surah At-Tawbah
The Repentance • 129 Ayahs • Medinan
بَرَاءَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى الَّذِينَ عَاهَدتُّم مِّنَ الْمُشْرِكِينَ
اللہ اور اؙس کے رسولۖ کی طرف سے اُن مشرکین کو صاف جواب ہے جن سے تم نے معاہدے کئے تھے
فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ ۙ وَأَنَّ اللَّهَ مُخْزِي الْكَافِرِينَ
پس (اے مشرکو !) تم زمین میں چار ماہ اور چل پھر لو ۔ اور جان لو کہ تم اللہ کو ہرگز عاجز نہیں کر سکتے اور یہ بھی کہ اللہ (اپنے رسولۖ کا) انکار کرنے والوں کو رؙسوا کرکے رہے گا
وَأَذَانٌ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ أَنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ ۙ وَرَسُولُهُ ۚ فَإِن تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ ۗ وَبَشِّرِ الَّذِينَ كَفَرُوا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
(آج) حجِ اکبر کے دن اللہ اور اؙس کے رسولۖ کی طرف سے سب لوگوں کے لئے اطلاعِ عام ہَے کہ بے شک اللہ مشرکین سے بَریُ الزمّہ ہے اور اؙس کا رسولۖ بھی ۔ اب اگر تم (لوگ) توبہ کر لو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے ۔ اور اگر تم مہنہ پھیرو گے تو خوب جان لو کہ تم اللہ کو ہر گز عاجز کرنے والے نہیں ہو اور (ایے رسولۖ) انکار کرنے والوں کو درد ناک عذاب کی خوش خبری سنا دو
إِلَّا الَّذِينَ عَاهَدتُّم مِّنَ الْمُشْرِكِينَ ثُمَّ لَمْ يَنقُصُوكُمْ شَيْئًا وَلَمْ يُظَاهِرُوا عَلَيْكُمْ أَحَدًا فَأَتِمُّوا إِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ إِلَىٰ مُدَّتِهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ
بجُز اُن مشرکین کے جن سے تم نے معاہدے کئے تھے پھر (ان کو پورا کرنے میں) وہ تمہارے ساتھ کچھ بھی کمی نہیں کرتے اور نہ تمہارے خلاف کسی کی مدد کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کے ساتھ تم بھی مدتِ معاہدہ تک وفا کرو ۔بے شک اللہ (بد عہدی سے) بچنے والوں کو پسند کرتا ہے
فَإِذَا انسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
پھر جب حُرمت والے مہینے گزر جائیں تو ان مشرکوں کو جہاں بھی پاؤ قتل کردو اور (اس مقصد کے لئے) انہیں پکڑو اور ان کا گھیراؤ کرو اور ہر گھات میں ان کی تاک میں بیٹھو ۔ پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور (اسلام قبول کرکے) نماز قائم کر لیں اور زکوٰۃ دینے لگیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ۔ بے شک اللہ مغفرت کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے
وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْلَمُونَ
اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص آپۖ سے پناہ مانگے (اور آپۖ کے پاس آ کر اللہ کا کلام سننا چاہے) تو اؙسے پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سُن لے ۔ پھر اؙسے جائےِ امن تک پہنچا دو ۔ یہ اِس لئے کہ یہ لوگ (حقیقتِ حال) سے واقف نہیں ہیں
كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ عِندَ اللَّهِ وَعِندَ رَسُولِهِ إِلَّا الَّذِينَ عَاهَدتُّمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۖ فَمَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ فَاسْتَقِيمُوا لَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ
اللہ اور اؙس کے رسولۖ کے ہاں اِن (عہد شکن) مشرکوں سے کوئی معاہدہ بھلا کیونکر باقی رہ سکتا ہے سوائے اُن لوگوں کے جن سے تم نے مسجدِ حرام کے پاس (حدیبیہ کے مقام پر) معاہدہ کیا تھا ، تو جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی اُن کے ساتھ سیدھے رہو (اسلئے کہ) بلا شبہ اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو (بد عہدی سے) بچنے والے ہوں
كَيْفَ وَإِن يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوا فِيكُمْ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً ۚ يُرْضُونَكُم بِأَفْوَاهِهِمْ وَتَأْبَىٰ قُلُوبُهُمْ وَأَكْثَرُهُمْ فَاسِقُونَ
(ان سے عہد کی پاسداری کی توقع) کیونکر ہو (ان کا حال تو یہ ہے کہ) اگر وہ تم پر غالب آجائیں تو تمہارے بارے میں نہ کسی رشتہ داری کا لحاظ کریں اور نہ کسی عہد کا ۔ وہ اپنے مہنہ کی باتوں سے تمہیں راضی کرنا چاہتے ہیں ۔ مگر اؙن کے دل (ان باتوں سے) انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر بدکردار ہیں
اشْتَرَوْا بِآيَاتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَصَدُّوا عَن سَبِيلِهِ ۚ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
اؙنہوں نے اللہ کی آیات کے بدلے میں تھوڑی سی قیمت وصول کرلی پھر اللہ کے راستے میں دیوار بن کر کھڑے ہو گئے ۔ (اس طرح) بہت بُرے کرتُوت تھے جو یہ کرتے رہے
لَا يَرْقُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُونَ
ما شاء اللہ
فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ ۗ وَنُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
)سو اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو تمہارے دینی بھائی ہیں اور ہم جاننے والوں کے لئے اپنی آیات کھول کر بیان کر دیتے ہیں
وَإِن نَّكَثُوا أَيْمَانَهُم مِّن بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ ۙ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ
اور اگر وہ عہد کرنے کے بعد پھر اپنی قَسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعنہ زَنی کریں تو تم کفر کے (ان) سرغنوں سے جنگ کرو ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں ۔ شائد کہ وہ (اپنی حرکتوں سے) باز آجائیں
أَلَا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَّكَثُوا أَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ وَهُم بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ أَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَوْهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
(ایمان والو) کیا اب بھی ان لوگوں سے نہیں لڑو گے جنہوں نے اپنے قول و قرار توڑ دیئے اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کو جلا وطن کرنے کا ارادہ کیا اور (جنگ و جدل کی) ابتداء کرنے والے بھی وہی تھے ۔ کیا تم اُن سے ڈرتے ہو ؟ سو اللہ زیادہ حق دار ہے کہ اُس (کے ناراض ہونے سے) ڈرا جائے اگر تم مومن ہو !!
قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ
اُن سے جنگ کرو اللہ تمہارے ہا تھوں اُنہیں عذاب دے گا اور اُنہیں رؙسوا کرے گا اور ان کے مقابلے میں تمہاری مدد فرمائے گا اور اہلِ ایمان کے سینوں کو ٹھنڈا کرے گا
وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ ۗ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
اور اؙن کے دلوں کی گھٹن دوؙر فرمائے گا اور جس پر چاہے گا اللہ توجہ فرمائے گا (تا کہ وہ توبہ کرلے) اور اللہ خوب جاننے والا ، حکمت والا ہے
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تُتْرَكُوا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوا مِن دُونِ اللَّهِ وَلَا رَسُولِهِ وَلَا الْمُؤْمِنِينَ وَلِيجَةً ۚ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ (مصائب و مشکلات سے گزرے بغیر) یونہی چھوڑ دیئے جاؤ گے ؟ حالانکہ (ابھی) اللہ نے اُن لوگوں کو پر کھا ہی نہیں جنہوں نے تم میں سے جہاد کیا اور (جنہوں نے) اللہ کے سوا اور اؙس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سوا اور اہلِ ایمان کے سوا کسی کو بھی محرمِ راز نہیں بنایا ۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے
مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ ۚ أُولَـٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ
مشرکین کے لئے یہ روا نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں ۔ حالانکہ وہ خود اپنے اؙوپر کُفر کے گواہ ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال (کفر و شرک کی وجہ سے) ضائع ہو چکے ۔ (اب) وہ ہمیشہ کے لئے (جہنم کی) آگ میں رہنے والے ہیں
إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ ۖ فَعَسَىٰ أُولَـٰئِكَ أَن يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ
اللہ کی مسجدیں تو صرف وہی آباد کر سکتا ہے جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لایا ہو اور اؙس نے نماز قائم کی ہو اور زکوٰۃ ادا کی ہو اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتا ہو ۔ پس اُمید ہے کہ یہی لوگ ہدایت پانے والوں میں سے ہوں گے
۞ أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ لَا يَسْتَوُونَ عِندَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ
کیا تم (لوگوں) نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجدِ حرام کی آباد کاری کرنے کو اس شخص کے (اعمال کے) برابر ٹھہرا لیا ہے جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لے آیا اور اؙس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ؟ اللہ کے نزدیک یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے اور اللہ ظالموں کی راہنمائی نہیں فرماتا
الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِندَ اللَّهِ ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ
جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جان ومال سے جہاد کیا یہ (خوش نصیب) اللہ کے ہاں بہت بڑا درجہ رکھتے ہیں اور یہی لوگ مراد پانے والے ہیں