Al-Bayan
Arabic size
ا
Urdu size
ا

Surah Al-Hashr

The Exile • 24 Ayahs • Medinan

star

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

1

اللہ ہی کی تسبیح بیان کی ہے ہر اؙس چیز نے جو آسمانوں اور زمین میں ہے ۔ اور وہ سب پر غالب ، حکمت والا ہے

هُوَ الَّذِي أَخْرَجَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِن دِيَارِهِمْ لِأَوَّلِ الْحَشْرِ ۚ مَا ظَنَنتُمْ أَن يَخْرُجُوا ۖ وَظَنُّوا أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمْ حُصُونُهُم مِّنَ اللَّهِ فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا ۖ وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ ۚ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ

2

وہی تو ہے (تمہارا کارساز حقیقی) جس نے اہل کتاب کافروں کو (یعنی یہودیوں کے قبیلہ بنی نضیر) کو پہلی جلا وطنی کے وقت اُن کے گھروں سے نکال باہر کیا ۔ تمہیں (بھی) ہرگز یہ گمان نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے ۔ اور وہ بھی یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ ان کے قلعے اؙنہیں اللہ (کے قہر) سے بچالیں گے ۔ پھر اللہ (کے عذاب) نے اؙنہیں وہاں سے آ لیا جہاں سے وہ گمان بھی نہ کر سکتے تھے اور اُس نے اُن کے دلوں میں رعب ڈال دیا ۔ (نتیجہ یہ ہوا) کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنے گھروں کو برباد کر رہے تھے اور اہل ایمان کے ہاتھوں سے (بھی) اپنے گھروں کو ویران کر رہے تھے ۔ پس اے صاحبان بصیرت (اس حالت کو دیکھ کر) عبرت پکڑو

وَلَوْلَا أَن كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْجَلَاءَ لَعَذَّبَهُمْ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ

3

اور اگر اللہ نے اُن کے حق میں جلا وطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دنیا میں ہی وہ عذاب دے ڈالتا ۔ اور آخرت میں اؙن کے لئے دوزخ کا عذاب تو ہے ہی

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۖ وَمَن يُشَاقِّ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ

4

�ہ اس لئے ہوا کہ اؙنہوں نے اللہ اور اؙس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شدید مخالفت کی تھی ۔ اور جو اللہ کی مخالفت کرتا ہے تو الله عذاب دینے میں بڑا سخت ہے

مَا قَطَعْتُم مِّن لِّينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَىٰ أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ

5

(اے ایمان والو یہودی قبیلہ بنو نضیر کے محاصرے کے دوران) کھجوروں کے جو درخت تم نے کاٹ ڈالے یا جن کو تم نے اُن کی جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا ، یہ سب اللہ ہی کے اذن سے تھا اور (اللہ نے اسکی اجازت اس لیے دی تھی) تاکہ نافرمانوں کو ذلیل و خوار کرئے

وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَـٰكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

6

اور جو (اموال فے) اللہ نے اُن سے (لے کر) اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف پلٹا دیئے اور تم نے ان کے (حصول) کے لئے نہ تو اپنے گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ اونٹ ۔ بلکہ اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے تسلطّ عطا فرما دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر بڑی قدرت رکھتا ہے

مَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ ۚ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ

7

اللہ نے جو (اموال فے یعنی بغیر جنگ کے مفتوحہ علاقوں مثلا قرلظیہ ، نضیر ، فدک ، خیبر اور عرینہ وغیره) بستیوں سے (نکال کر) اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر لوٹائے ہیں وہ اللہ اور اؙس کے رسولۖ کے لئے ہیں ۔ اور (رسولۖ کے) قرابت داروں (یعنی بنی ہاشم اور بنو عبد المطلب) کے لئے اور (معاشرے کے عام) یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کے لئے ہیں ۔ (یہ نظام تقسیم اس لئے ہے) تاکہ (سارا مال) تمہارے مال داروں کے درمیان ہی گردش نہ کرتا پھرے ۔ اور جو کچھ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) تمہیں عطا فرمائیں وہ لے لو اور جس سے تمہیں منع فرمائیں ، پس (اؙس سے) رک جاؤ ۔ اور اللہ کی ناراضی سے بچتے رہو ، بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے

لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا وَيَنصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ

8

(نیز وہ مال) غریب مہاجرین کے لئے (بھی) ہے ۔ جو اپنے گھروں اور اپنی جائیدادوں سے نکال باہر کئے گئے ہیں ، وہ (نیک بخت) اللہ کا فضل اور اؙسکی رضا و خوشنودی چاہتے ہیں ۔ اور (ہر وقت) اللہ اور اؙس کے رسولۖ کی حمایت پر کمر بستہ رہتے ہیں ۔ یہی لوگ سچّے (مومن) ہیں

وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِن قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ

9

اور (یہ مال اُن انصار کے لئے بھی ہے) جنہوں نے ان (مہاجرین کی آمد) سے پہلے ایمان (لا کر) شہر (مدینہ) کو اپنا گھر بنا لیا تھا ۔ یہ اؙن لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کے پاس آئے ہیں ۔ اور جو کچھ بھی اُن کو دے دیا جائے یہ (انصار مدینہ) اپنے سینوں میں اسکی کوئی حاجت تک نہیں پاتے اور اپنی ذات پر ان کو ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں ۔ (حقیقت تو یہ ہے کہ) جو کوئی دل کی تنگی سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں

وَالَّذِينَ جَاءُوا مِن بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ

10

اور (اس مال میں اُن کا بھی حق ہے) جو ان (مہاجرین اور انصار) کے بعد آئے ، جو کہتے ہیں ۔ اے ہمارے رب ! ہمیں بخش دے اور ہمارے اؙن بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لے آئے ہیں ۔ اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لئے کوئی بغض باقی نہ رکھ ۔ اے ہمارے ربّ ، بے شک تو بہت شفقت فرمانے والا رحیم ہے

۞ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نَافَقُوا يَقُولُونَ لِإِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَئِنْ أُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَلَا نُطِيعُ فِيكُمْ أَحَدًا أَبَدًا وَإِن قُوتِلْتُمْ لَنَنصُرَنَّكُمْ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ

11

کیا آپ نے منافقوں کی طرف نہیں دیکھا جو اپنے اؙن بھائیوں سے کہتے ہیں جو اہل کتاب میں سے کافر ہو گئے ۔ اگر تمہیں (یہاں سے) نکالا گیا تو ہم بھی ضرور تمہارے ساتھ نکل جائیں گے ۔ اور ہم تمہارے بارے میں کبھی بھی ہرگز کسی کی بات نہیں مانیں گے ۔ اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں گے ۔ مگر اللہ گواہ ہے کہ یہ لوگ قطعی جھوٹے ہیں

لَئِنْ أُخْرِجُوا لَا يَخْرُجُونَ مَعَهُمْ وَلَئِن قُوتِلُوا لَا يَنصُرُونَهُمْ وَلَئِن نَّصَرُوهُمْ لَيُوَلُّنَّ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنصَرُونَ

12

اور اگر ان (یہودی کا فروں) کو نکالا گیا تو یہ (منافقین) ان کے ساتھ (کبھی) نہیں نکلیں گے ۔ اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے ۔ اور اگر یہ اؙن کی مدد کریں گے (بھی) تو ضرور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے ۔ پھر کہیں سے کوئی مدد نہ پائیں گے

لَأَنتُمْ أَشَدُّ رَهْبَةً فِي صُدُورِهِم مِّنَ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُونَ

13

ان کے دلوں میں اللہ سے بڑھ کر تمہارا خوف ہے ۔ اس لئے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ بوجھ نہیں رکھتے

لَا يُقَاتِلُونَكُمْ جَمِيعًا إِلَّا فِي قُرًى مُّحَصَّنَةٍ أَوْ مِن وَرَاءِ جُدُرٍ ۚ بَأْسُهُم بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ ۚ تَحْسَبُهُمْ جَمِيعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّىٰ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُونَ

14

(مدینہ کے یہودی اور منافقین بڑے بزدل ہیں) یہ سب مل کر بھی تم سے (کھلے میدان میں) جنگ نہ کر سکیں گے ۔ سوائے قلعہ بند بستیوں میں یا دیواروں کی آڑ میں (چھپ کر) ۔ یہ آپس کی مخالفت میں بڑے سخت ہیں ۔ تم انہیں اکٹھا سمجھتے ہو حالانکہ ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے پڑے ہیں ۔ یہ اس لئے کہ یہ بے عقل لوگ ہیں

كَمَثَلِ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ قَرِيبًا ۖ ذَاقُوا وَبَالَ أَمْرِهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

15

(ان کا حال) اؙن لوگوں جیسا ہے جو ان سے تھوڑی مدت پہلے اپنے کرتوتوں کا مزا چکھ چکے ہیں (مثلا بدر میں مشرکین مکہ اور یہود میں سے بنو نضیر ، بنو قینقاع وبنو قریظہ وغیرہ) ۔ اور ان کے لئے آخرت میں بھی درد ناک عذاب ہے

كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِّنكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ

16

(منافقین اور یہود کی مثال) شیطان جیسی ہے ۔ جب وہ انسان سے کہتا ہے تو کافر ہو جا ، پھر جب وہ کافر ہو جاتا ہے تو (شیطان) کہتا ہے بے شک میں تم سے بری الذّمہ ہوں ۔ مجھے تو اللہ رب العلمین سے ڈر لگتا ہے

فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَا أَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيْنِ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَاءُ الظَّالِمِينَ

17

پر ان دونوں (یعنی شیطان اور جو کافر ہوئے) ان کا انجام یہ ہوگا کہ دونوں دوزخ میں ہوں گے ، ہمیشہ اسی میں رہیں گے ۔ اور ظالموں کی یہی سزا ہے

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ

18

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ۔ اللہ کی ناراضی سے بچتے رہا کرو۔ اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل (قیامت) کے لئے آگے کیا بھیجا ہے اور (خاص طور پر خیال رکھو کہ) گناہوں سے بچتے رہو ۔ بے شک اللہ اؙن سب اعمال سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو

وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنسَاهُمْ أَنفُسَهُمْ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ

19

اور اُن (نادانوں) کی طرح نہ ہو جانا جو اللہ کو بھول گئے ۔ پس اللہ نے اُن کو خود فراموش بنا دیا (کیونکہ خدا فراموشی کا نتیجہ خود فراموشی ہی ہوتا ہے ، جب آدمی بھول جاتا ہے کہ وہ کس کا بندہ ہے) ایسے لوگ ہی نا فرمان ہیں

لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۚ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ

20

دوزخ میں جانے والے اور جنّت میں جانے والے (کبھی) برابر نہیں ہو سکتے ۔ اہل جنت ہی کامیاب و کامران ہیں