Surah Al-Ma'idah
The Table Spread • 120 Ayahs • Medinan
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ ۚ أُحِلَّتْ لَكُم بَهِيمَةُ الْأَنْعَامِ إِلَّا مَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ وَأَنتُمْ حُرُمٌ ۗ إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ
تم پر حرام کئے گئے ہیں : مُردار اور .
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَ اللَّهِ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْهَدْيَ وَلَا الْقَلَائِدَ وَلَا آمِّينَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّن رَّبِّهِمْ وَرِضْوَانًا ۚ وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا ۚ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ أَن صَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَن تَعْتَدُوا ۘ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
(بہتا ہوا) خون اور .
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ ۚ ذَٰلِكُمْ فِسْقٌ ۗ الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ۚ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ ۙ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(لہذا اب تمہیں سمجھ لینا چاہئیے کہ) یہ سب گناہِ کبیرہ ہیں ۔ آج یہ کافر تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہو گئے ہیں ۔ سو (ایے ایمان والو) تم ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ ہی سے ڈرا کروآج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو بطورِ دین پسند کر لیا ۔ (لہذا میرے احکامات کی پابندی کرو) پھر اگر کوئی بھوک سے لاچار ہو جائے (اور اُن میں سے کوئی چیز کھالے) جبکہ وہ گناہ کی طرف مائل ہونے والا نہ ہو تو بے شک اللہ بہت معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے
يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ ۖ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ ۙ وَمَا عَلَّمْتُم مِّنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ اللَّهُ ۖ فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ
(اے ہادیِ برحق صلی اللہ علیہ وسلم) آپۖ سے پوچھتے ہیں کہ اؙن کے لئے کیا حلال کیا گیا ہے ؟ فرما دیں کہ تمہارے لئے پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں ۔ اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سدھایا ہو اُس علم کی بدولت جو اللہ نے تمہیں سکھایا ہے اور (شکار پر شکاری جانور چھوڑتے وقت) اللہ کا نام لیا کرو اور جس (شکار) کو وہ تمہارے لئے پکڑ رکھیں تو اس میں سے کھاؤ ۔ (بشرطیکہ اسے مرنے سے پہلے ﺰخمی کر دیا ہوکہ اسکا خون بہہ جائے یا تم انہیں ﺰندہ پا کر ذبح کر لو) اور اللہ (کا قانون توڑنے) سے بچو (وہ اس لئے کہ) بلا شبہ اللہ جلدی حساب لے لیتا ہے
الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ ۖ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ ۖ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ
آج تمہارے لئے ساری پاک چیزیں حلال کردی گئی ہیں ۔ اہلِ کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال اور تمھارا کھانا اُن کے لئے حلال ہے ۔ اور پاک دامن مومن عورتیں اور اُن لوگوں کی پاک دامن عورتیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی (حلال ہیں) بشر طیکہ تم اُن کے مہر ادا کر کے (خود بھی) پاک دامن رہو نہ کہ علا ینہ شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چُھپے آشنائیاں کرتے پھرو ۔ اور جو ایمان (کے طریقے پر چلنے) سے انکار کرے گا (تو وہ جان لے کہ) اُس کا سارا عمل برباد ہو گیا ۔ اور وہ آخرت میں (بھی) نقصان اُٹھانے والوں میں سے ہوگا
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ۚ وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا ۚ وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ ۚ مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
اے ایمان والو ! جب تم نماز کے لئے اُٹھو تو اپنے منہہ اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھو لو ۔ اور اپنے سروں پر (گیلے) ہاتھ پھیر لو ۔ اور اپنے پاؤں (بھی) ٹخنوں تک (دھو لیا کرو) ۔ اور اگر جنابت کی حالت میں ہو تو (سارا بدن نہا کر) پاک کر لو ۔ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر پر (جا رہے ہو) یا تم میں سے کوئی رفع حاجت سے (فارغ ہو کر) آیا ہو یا تم نے عورتوں سے صحبت کی ہو تو (ایسی حالتوں میں) تم پانی بھی نہیں پاتے تو پاک مٹی سے تیمم کرو ۔ (اس کا طریقہ یہ ہے کہ مٹی پر ہاتھ مار کر) اس سے اپنے چہروں اور اپنے بازؤوں پر پھیر لیا کرو (یعنی مسح کر لو) ۔ اللہ تمہیں کسی قسم کی تنگی میں مبتلا کرنا نہیں چاہتا مگر وہ یہ ضرور چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کردے اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دے تاکہ تم شکر ادا کرتے رہو
وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَاقَهُ الَّذِي وَاثَقَكُم بِهِ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
وَ اِذَا سَمِعُو پارہ نمبر
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ ۖ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
اے ایمان والو ! (اب اس عہد و پیمان کا تقاضا یہ ہے کہ) اللہ کے لئے مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے انصاف کی گواہی دینے والے بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرئے کہ تم عدل سے منہہ موڑ لو (ہر حال میں) عدل کرو کہ یہ تقوٰی سے قریب تَر ہے ۔ اور (پھر متنّبہہ کیا جا رہا ہے کہ) اللہ (کی ناراضی) سے بچو کہ وہ اللہ تمہارے ہر عمل سے باخبر ہے
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ۙ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ
جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ، اللہ نے اؙن سے وعدہ کیا ہے کہ اُن کے لئے مغفرت اور اجرِ عظیم ہے
وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ
رہے وہ لوگ جو (مسلسل حق کا) انکار کرتے رہے اور ہماری آیات کو جھٹلاتے رہے وہی دہکتی ہوئی آگ میں جانے والے ہیں
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ أَن يَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
اے ایمان والو ! اللہ کے اؙس احسان کو (بھی) یاد کرو جو اؙس نے (ابھی حال ہی میں) تم پرکیا ہے ۔ جب کہ ایک قوم نے تم پر دست درازی کا ارادہ کر لیا تھا ۔ مگر اللہ نے اُن کے تم پر اُٹھنے والے ہاتھوں کو روک دیا تھا ۔ (اس پر اللہ کا احسان مانو) اور اللہ (کی ناراضی) سے بچتے رہو اور (یاد رکھو) مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئیے
۞ وَلَقَدْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ نَقِيبًا ۖ وَقَالَ اللَّهُ إِنِّي مَعَكُمْ ۖ لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ وَآمَنتُم بِرُسُلِي وَعَزَّرْتُمُوهُمْ وَأَقْرَضْتُمُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّأُكَفِّرَنَّ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَلَأُدْخِلَنَّكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۚ فَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ مِنكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ
اور یقیناً اللہ نے بنی اسرائیل سے ایک پختہ عہد لیا تھا اور ہم نے (اس کی نگرانی کے لئے) اؙن میں سے بارہ سردار مقرر کر دیئے ۔ اور اُن سے کہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم با قاعدہ نماز پڑھتے رہے اور زکوٰۃ ادا کرتے رہے ۔ اور میرے رسولوں کو مانا اور اؙن کی مدد کی اور اللہ کو قرض دو گے قرضِ حَسنہ ، تو (یقین رکھو کہ) میں تمہارے گناہ تم سے دوؙر کر دوں گا اور تمہیں ایسے باغات میں داخل کروں گا جن کے دامن میں نہریں رواں دواں ہوں گی ۔ مگر اس کے بعد تم میں سے جس نے بھی کافرانہ روش اختیار کی تو بلا شبہ وہ سیدھی راہ سے بہت دوؙر جا پڑا
فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً ۖ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ ۙ وَنَسُوا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوا بِهِ ۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَىٰ خَائِنَةٍ مِّنْهُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِّنْهُمْ ۖ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
پھر ان کی اپنی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے اؙنہیں اپنی رحمت سے دوؙر کر دیا اور ان کے دل سخت کر دیئے ۔ (وہ ہدایت اور اثر پذیری سے محروم ہو گئے اب ان کی حالت یہ ہے کہ ) وہ (کتابِ الٰہی کے) کلمات کو اس کے موقع محل سے ہٹا دیتے ہیں ۔ اور وہ اس (کتاب کا) بڑا حصہ جس کے ساتھ اُنہیں نصیحت کی گئی تھی بُھلا بیٹھے ہیں اور آئے دن آپۖ اِن کی (کسی نہ کسی) خیانت کی اطلاع پاتے رہیں گے ۔ بجُز ان میں سے چند لوگوں کے (جو اس عیب سے بچے ہوئے ہیں) ۔ (اب ان سے کسی خیر کی توقع نہیں) سو (آپۖ) اؙنہیں معاف کر دیں اور درگزر فرمائیں ۔ بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے
وَمِنَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ أَخَذْنَا مِيثَاقَهُمْ فَنَسُوا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوا بِهِ فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ۚ وَسَوْفَ يُنَبِّئُهُمُ اللَّهُ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ
اور ہم نے اُن لوگوں سے (بھی اِسی طرح کا) پختہ عہد لیا تھا جو کہتے ہیں کہ ہم "نصارٰی" ہیں ۔ مگر اؙنہوں نے بھی (کتابِ الٰہی کا) ایک بڑا حصّہ فراموش کر دیا جس کے ساتھ اؙنہیں نصیحت کی گئی تھی ۔ سو (اس بد عہدی کی وجہ سے) ہم نے قیامت تک کےلئے ان کے درمیان دشمنی اور بُغض وعناد ڈال دیا ۔ اورعنقریب اللہ اؙنہیں (اُن اعمال کی حقیقت سے) آگاہ فرمائے گا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے
يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ
اے اہلِ کتاب ! بے شک تمہارے پاس ہمارے رسول (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) تشریف لا چکے ہیں ۔ جو تمہارے لئے بہت سی ایسی باتیں کھول کر بیان کر رہے ہیں جو تم کتاب میں سے چھپائے رکھتے تھے ۔ اور تمہاری بہت سی باتوں سے درگزر (بھی) فرماتے ہیں ۔ (اور سنو !) بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نُور اور (دین و دنیا کی ہر بات کو) کھول کر بیان کرنے والی کتاب آچکی ھے
يَهْدِي بِهِ اللَّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
اللہ اس کے ذریعے ہر اُس شخص کو سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے جو اُس کی رضا کا طالب ہو ۔ اور اؙنہیں اپنی توفیق وعنایت سے (کفر و جہالت کے) اندھیروں سے نکالتا ہے (ایمان و ہدایت کی) روشنی کی طرف اور سیدھے راستے کی طرف اؙن کی راہنمائی کرتا ہے
لَّقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ۚ قُلْ فَمَن يَمْلِكُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ أَن يُهْلِكَ الْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ۗ وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
اُن لوگوں نے واقعی کفر کیا جنہوں نے کہا کہ مسیحؑ ابنِ مریم ہی خدا ہے ۔ (اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ دیجئے کہ اگر اللہ ، مسیحؑ ابنِ مریم کو اور اُن کی ماں کو اور تمام زمین والوں کو ہلاک کر دینا چاہے تو اللہ کے آگے کس کا بس چلتا ہے ؟ (کہ وہ اُسے اِس کام سے روک دے) ۔ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ، سب کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے ۔ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ۔ (کائنات کی) ہر چیز اُس کے قبضہ قدرت میں ہے
وَقَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَىٰ نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّهِ وَأَحِبَّاؤُهُ ۚ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنُوبِكُم ۖ بَلْ أَنتُم بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ۚ يَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ ۚ وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ
ان یہود و نصارٰی کا دعوٰی ہے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں ۔ اِن سے پوچھئے پھر وہ تمہارے گناہوں پر تمہیں سزا کیوں دیتا ہے ؟ بلکہ تم بھی ویسے ہی انسان ہو جیسے اور (انسان اللہ نے) پیدا کئے ۔ وہ (تم میں سے) جس کو چاہے گا بخش دے گا اور جس کو چاہے گا (اپنے اصول وقانون کے مطابق) سزادے گا ۔ اور (اُسکی تخلیق اور وسعتِ سلطنت کا عالم یہ ہے کہ) آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور ان کے درمیان موجودات سب اُس کی مِلک ہیں ، اور (ہم سب کو) اؙسی کی طرف لَوٹ کر جانا ہے
يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلَىٰ فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ أَن تَقُولُوا مَا جَاءَنَا مِن بَشِيرٍ وَلَا نَذِيرٍ ۖ فَقَدْ جَاءَكُم بَشِيرٌ وَنَذِيرٌ ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
اے اہلِ کتاب ! بےشک تمہارے پاس ہمارے (آخرالزّماں) رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) تشریف لے آئے ہیں جو صاف صاف بیان کرتے ہیں تمہارے لئے (احکامِ الٰہی) ۔ (وہ ایسے وقت آئے) جب کہ رسولوں کی آمد کا سلسلہ ایک مدت سے بند تھا ۔ تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس کوئی بشارت دینے والا اور (اللہ کے عذاب سے) کوئی ڈرانے والا نہ آیا ۔ سو(دیکھو) اب وہ بشارت دینے والا اور (عذابِ الٰہی سے) ڈرانے والا آگیا ہے ۔ اور اللہ کی قدرتِ کاملہ تو ہر چیز پر حاوی ہے
وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنبِيَاءَ وَجَعَلَكُم مُّلُوكًا وَآتَاكُم مَّا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِينَ
اور(یاد کرو) جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا تھا ۔ اے میری قوم ! اُس نعمت کو یاد کرو جو اللہ نے تم پر کی تھی ۔ (وہ یہ کہ) جب اؙس نے تم میں انبیاء پیدا کئے اور تمہیں حکمران بنایا اور تمہیں وہ کچھ عطا کیا جو (تمہارے زمانے میں) تمام جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا ہے