Surah Al-Hujurat
The Rooms • 18 Ayahs • Medinan
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو (کسی بھی معاملے میں) اللہ اور اؙس کے رسولۖ سے آگے نہ بڑھو اور اللہ (کی ناراضی) سے بچتے رہو ۔ بے شک اللہ سب کچھ سننے والا ، جاننے والا ہے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ
اے ایمان والو تم اپنی آوازوں کو نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی آواز سے بلند نہ کرو اور اُن کے ساتھ اس طرح بلند آواز سے بات نہ کیا کرو جس طرح تم ایک دوسرے سے بلند آواز کے ساتھ (بات) کرتے ہو ۔ (کہیں ایسا نہ ہو) کہ تمہارا کیا کرایا سب برباد ہو جائے اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے
إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَىٰ ۚ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ
بے شک جو لوگ رسول الله (صلی اللہ علیہ وسلم) کے نزدیک (آدابِ نبویۖ کے تحت) اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں ۔ یہی وہ (خوش نصیب) لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لئے آزما لیا ہے ، اِنہی کے لئے بخشش اور اجرِ عظیم ہے
إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِن وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ
(اے حبیبۖ) بلاشبہ جو لوگ آپۖ کو حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں اؙن میں سے اکثر (آپۖ کے بلند مقام و مرتبہ کی) سمجھ نہیں رکھتے
وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّىٰ تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
اور اگر وہ لوگ صبر کرتے یہاں تک کہ آپۖ اؙن کی طرف باہر تشریف لے آتے تو یہ اؙن کے لئے بہت بہتر ہوتا ۔ اور اللہ (تو پھر بھی تمہاری خطاؤں کو) بخشنے والا رحیم ہے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ
اے لوگو جم ایمان لائے ہو ، اگر کوئی فاسق (بد کار شخص) تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو ۔ (کہیں ایسا نہ ہو) کہ تم کسی قوم کو نا دانستہ نقصان پہنچا بیٹھو ۔ پھر تم اپنے کئے پر پچھتاتے رہ جاؤ
وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ ۚ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِّنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ
اور خوب جان لو کہ تم میں اللہ کے رسولۖ موجود ہیں ۔ اگر وہ بہت سے معاملات میں تمہاری بات مان لیں تو تم مشکل میں پڑ جاؤ گے ۔ لیکن اللہ نے تمہیں ایمان کی محبت عطا فرمائی اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ کر دیا اور تمہیں کفر ، فِسق اور نا فرمانی سے متنفّر کر دیا ۔ ایسے ہی لوگ راہ راست پر ہیں
فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَنِعْمَةً ۚ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
�ہ اللہ کا فضل اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بِعثت کی شکل میں اؙس کی) نعمت ہے اور الله (حقیقتِ حال کو) خوب جاننے والا ، حکیم ہے
وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۖ فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّهِ ۚ فَإِن فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا ۖ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ
اور اگر اہلِ ایمان کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دیا کرو ۔ پھر اگر ان میں سے ایک (گروہ) دوسرے پر زیادتی کرے تو سب (مل کر) زیادتی کرنے والے (گروہ) سے لڑو ۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے ۔ پھر اگر وہ رجوع کر لے تو دونوں کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف سے کام لو ۔ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
(حقیقت تو یہ ہَے کہ) بلاشبہ (سب) اہلِ ایمان (آپس میں) بھائی ہیں ۔ لہذا تم اپنے دو بھائیوں کے درمیان صُلح کرا دیا کرو اور اللہ (کی ناراضی) سے بچتے رہا کرو ۔ تاکہ تم پر رحم کیا جائے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَىٰ أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ ۖ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ۖ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ ۚ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اؙڑائے ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اُن سے بہتر ہوں ۔ اور نہ عورتیں ہی دوسری عورتوں کا (مذاق اُڑائیں) ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اُن سے بہتر ہوں ۔ اور آپس میں ایک دوسرے پر طعنہ زنی نہ کیا کرو اور نہ ایک دوسرے کو بُرے ناموں سے پکارا کرو ۔ (کیونکہ) ایمان لانے کے بعد فستق (یعنی گناہ) میں نام پیدا کرنا بہت بُری بات ہے ۔ اور جو (لوگ اِس روش سے) باز نہ آئیں گے تو وہی لوگ ظالم ہیں
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ۔ بہت گمان کرنے سے اجتناب کیا کرو ۔ بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور (ایک دوسرے کی) ٹوہ میں نہ لگے رہا کرو اور نہ بیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی بُرائی کیا کرو ۔ کیا تم میں سے کوئی (شخص) پسند کرئے گا کہ وہ اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھائے ۔ سو تم (خود) اس سے کراہت کرتے ہو ۔ (ان تمام معاملات سے اللہ ناراض ہوتا ہے) لہذا اللہ کی ناراضی سے بچو ۔ بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا ، رحم فرمانے والا ہے
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ
اے لوگو ہم نے تمہیں ایک مرد (آدمؑ) اور ایک عورت (حوّاؑ) سے پیدا فرمایا اور تمہاری برادریاں اور قبیلے بنا دئیے ۔ تاکہ تم (ایک دوسرے کو) پہچان سکو ۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے ۔ یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا ، باخبر ہے
۞ قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا ۖ قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَـٰكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلِتْكُم مِّنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں ۔ آپۖ فرما دیجئے کہ تم ایمان تو نہیں لائے لیکن یوں کہو ہم (مخالفت چھوڑ کر) مطیع ہو گئے ہیں ۔ اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ۔ اور (ہاں البتہ) اگر تم اللہ اور اؙس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کر لو تو وہ تمہارے اعمال (کے اجر) میں کوئی کمی نہیں کرے گا ۔ بے شک اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ
حقیقت میں ایمان والے تو وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اؙس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان لے آئے پھر (اس میں) کبھی شک نہ کیا ۔ اور اللہ کی راہ میں اپنے اموال اور جانوں سے جہاد کرتے رہے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو (دعوٰےِ ایمان میں) سچے ہیں
قُلْ أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
(اے نبیۖ ان مُدعیانِ ایمان کو) فرما دیجئے ۔ کیا تم اللہ کہ اپنی دین داری جتلا رہے ہو ؟ حالانکہ اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے ۔ اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے
يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا ۖ قُل لَّا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلَامَكُم ۖ بَلِ اللَّهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَاكُمْ لِلْإِيمَانِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
�ہ لوگ آپۖ پر احسان جتلاتے ہیں کہ اؙنہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے ۔ فرما دیجئے ۔ تم اپنے اسلام کا مجھ پر احسان نہ جتلاؤ ، بلکہ اللہ نے تم پر احسان کیا ہے کہ اؙس نے تمھاری ایمان کی طرف راہنمائی فرمائی ۔ اگر تم واقعی (اپنے دعوٰےِ ایمان میں) سچے ہو
إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
�قیناً اللہ آسمانوں اور زمین کے سب غیب جانتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ سب اللہ کی نگاہ میں ہے