Al-Bayan
Arabic size
ا
Urdu size
ا

Surah Qaf

Qaf • 45 Ayahs • Meccan

star

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ق ۚ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ

1

قاف - (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں) ۔ قسم ہے قرآنِ مجید کی

بَلْ عَجِبُوا أَن جَاءَهُم مُّنذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا شَيْءٌ عَجِيبٌ

2

بلکہ ان (لوگوں) کو تعجّب (اس بات پر) ہوا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک خبردار کرنے والا آ گیا ۔ پس کافر کہنے لگے یہ تو عجیب بات ہے

أَإِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا ۖ ذَٰلِكَ رَجْعٌ بَعِيدٌ

3

کیا جب ہم مر جائیں گے اور خاک ہو جائیں گے (تو دوبارہ اُٹھائے جائیں گے ؟) یہ واپسی (تو عقل سے) بعید ہے

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ ۖ وَعِندَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ

4

بے شک ہم خوب جانتے ہیں جو زمین ان کے جسموں سے (کھا کر) کم کرتی ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے

بَلْ كَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ فَهُمْ فِي أَمْرٍ مَّرِيجٍ

5

بلکہ اؙنہوں نے تو جس وقت (دینِ) حق ان کے پاس آیا اؙسی وقت اسے صاف جھٹلا دیا تھا ۔ اِسی وجہ سے تو وہ بڑی الجھن میں پھنس گئے ہیں

أَفَلَمْ يَنظُرُوا إِلَى السَّمَاءِ فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِن فُرُوجٍ

6

سو کیا اؙنہوں نے کبھی آسمان کی طرف نہیں دیکھا جو اِن کے اوپر ہے کہ ہم نے اُسے کیسے بنایا ہے اور (کیسے) سجایا ہے اور اس میں کوئی شگاف (تک) نہیں ہے

وَالْأَرْضَ مَدَدْنَاهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ

7

اور (اِسی طرح) ہم نے زمین کو پھیلا دیا اور اس میں بڑے بڑے پہاڑ جما دیئے اور اس میں طرح طرح کی خوشنما نباتات اُگا دیں

تَبْصِرَةً وَذِكْرَىٰ لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ

8

(یہ ساری چیزیں) ہر اُس بندے کے لئے آنکھیں کھول دینے والی اور سبق دینے والی ہیں جو (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا ہے

وَنَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً مُّبَارَكًا فَأَنبَتْنَا بِهِ جَنَّاتٍ وَحَبَّ الْحَصِيدِ

9

اور ہم نے آسمان سے با برکت پانی برسایا ، پھر ہم نے اس سے باغات اُگائے اور کھیتوں کے اناج (بھی)

وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِيدٌ

10

اور بلند و بالا کھجور کے درخت (پیدا کر دیئے) جن کے خوشے (پھلوں سے لدے ہوئے) تہ بہ تہ ہوتے ہیں

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ ۖ وَأَحْيَيْنَا بِهِ بَلْدَةً مَّيْتًا ۚ كَذَٰلِكَ الْخُرُوجُ

11

(یہ سب کچھ اپنے) بندوں کے رزق کے لئے (کیا گیا ہے) ۔ اور ہم نے اس (پانی) سے مُردہ زمین کو زندہ کیا ۔ تمہارا (قبروں سے) نکلنا بھی اسی طرح ہو گا

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَأَصْحَابُ الرَّسِّ وَثَمُودُ

12

ان (اہلِ مکہ) سے پہلے قومِ نُوحؑ نے اور (یمامہ کے) باشندگانِ رَسّ (یعنی کنویں والوں) نے ، اور (تبوک کے قریب بستی حجر میں آباد صالح علیہ السلام کی قوم) ثمود نے (حق کو) جھٹلایا

وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ وَإِخْوَانُ لُوطٍ

13

اور (یمن کی وادی احقاف میں آباد ھود علیہ السلام کی قوم) عاد نے اور (مصر کے حکمران) فرعون نے (اور فلسطین کے علاقے میں سدوم اور عمورہ کی رہنے والی) قومِ لوط نے

وَأَصْحَابُ الْأَيْكَةِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ ۚ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ

14

اور (شعیب علیہ السلام کی قوم) ایکہ کے رہنے والوں نے ، اور (یمن کے بادشاہ) تبَّع کی قوم نے ۔ (الغرض) اِن سب نے رسولوں کو جھٹلایا ، پس (ہمارے) عذاب کا وعدہ پورا ہو گیا

أَفَعَيِينَا بِالْخَلْقِ الْأَوَّلِ ۚ بَلْ هُمْ فِي لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِيدٍ

15

تو کیا ہم پہلی مرتبہ مخلوق کو پیدا کر کے تھک گئے ہیں ؟ (ایسا ہرگز نہیں) بلکہ یہ (منکرین) از سرِ نَو پیدائش کی نسبت شک میں (پڑ گئے) ہیں

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ ۖ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ

16

اور یہ حقیقت ہے کہ ہم نے ہی انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم (خوب) جانتے ہیں اس کا نفس جو وسوسے ڈالتا ہے اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں

إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ

17

(اور ہمارے اس براہِ راست علم کے علاوہ بھی) جب دو لینے والے (فرشتے انسان کے ہر قول و فعل کو تحریر میں) لے آتے ہیں ۔ (جو) دائیں جانب اور بائیں جانب بیٹھے ہوئے ہیں

مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ

18

کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا مگر اس کے پاس ایک حاضر باش نگران (فرشتہ لکھنے کے لئے) تیار رہتا ہے

وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ۖ ذَٰلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ

19

(پھر دیکھو) موت کی بے ہوشی سچ مچ آ پہنچی ۔ (اے انسان) یہی وہ (حقیقت) ہے جس سے تُو بھاگتا تھا

وَنُفِخَ فِي الصُّورِ ۚ ذَٰلِكَ يَوْمُ الْوَعِيدِ

20

اور صُور پھونکا جائے گا ۔ یہی ہے وہ دن جس کا مجھے خوف دلایا جاتا تھا