Surah Al-Qasas
The Stories • 88 Ayahs • Meccan
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ طسم
طا سین میم (حقیقی معانی الله تعالٰے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں)
تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ
(عیسائی وفد اسلام قبول کر کے جب واپس ہوا تو ابو جہل اور اؙسکے ساتھیوں نے گھیر لیا ، بُرا بھلا کہا اور ملامت کی اس پر یہ آیات نازل ہوئیں : ابن ہشام ج
نَتْلُو عَلَيْكَ مِن نَّبَإِ مُوسَىٰ وَفِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
، البدایہ والنہایہ ج
إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ
حقیقتِ حال یہ ہے کہ فرعون سر زمینِ (مصر) میں سرکش بن چکا تھا ۔ اور اُس نے اپنے (مالک کے) باشندوں کو گروہوں میں بانٹ دیا تھا ۔ اُس نے اؙن میں سے ایک گروہ (یعنی بنی اسرائیل کے لوگوں) کو کو کمزور کر دیا تھا ۔ کہ اُن کے لڑکوں کو ذبح کر ڈالتا اور اُن کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتا ۔ فی الواقعہ وہ فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا
وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ
اور (پھر) ہم نے ارادہ کر لیا کہ اؙن لوگوں پر عنایت کریں جو سر زمینِ (مصر) میں (ظلم وستم کا شکار اور محرومیِ حقوق و آزادی کے باعث) دبا کر رکھے گئے تھے ۔ اور ان کو (مظلوم قوم کا) امام و پیشوا بنا دیں اور اؙنہیں (فرعون کے تخت و تاج کا) وارث (بھی) بنا دیں
وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَنُرِيَ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُم مَّا كَانُوا يَحْذَرُونَ
اور اؙنہیں سر زمینِ (مصر) میں اقتدار بخش دیں ۔ اور فرعون اور ہامان اور ان دونوں کی افواج کو وہ (انقلاب) دکھا دیں جس کا اؙنہیں ڈر تھا
وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّ مُوسَىٰ أَنْ أَرْضِعِيهِ ۖ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي ۖ إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ
(چنانچہ جب موسٰیؑ پیدا ہوئے تو فرعون بچوں کو قتل کروا رہا تھا) اور ہم نے موسٰیؑ کی والدہ کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ تم اِسے دودھ پلاتی رہو پھر جب تمہیں اس کی نسبت (جان کا) خطرہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دینا ۔ اور تم (بچے کے بارے میں) نہ خوف زدہ ہونا اور نہ غم زدہ ہونا ۔ دراصل ہم اِسے تمہاری ہی طرف لوٹانے والے ہیں اور اسے رسولوں میں (شامل) کرنے والے ہیں
فَالْتَقَطَهُ آلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُونَ لَهُمْ عَدُوًّا وَحَزَنًا ۗ إِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا كَانُوا خَاطِئِينَ
(موسیٰؑ کی والدہ کو بالآخر ایسا ہی کرنا پڑا) پھر فرعون کے گھر والوں نے اِنہیں (دریا سے) اؙٹھا لیا ، تاکہ (یہ بچہ) اُن کا دشمن اور اُن کے لئے باعثِ رنج بنے ۔ حقیقت میں فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر بڑے خطا کار تھے (کہ اپنے آپ کو اختیار و اقتدار کا مالک سمجھتے رہے)
وَقَالَتِ امْرَأَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَيْنٍ لِّي وَلَكَ ۖ لَا تَقْتُلُوهُ عَسَىٰ أَن يَنفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
اور فرعون کی بیوی نے (حسین وجمیل بچے کو دیکھ کر فرعون سے) کہا ۔ " (یہ بچہ تو) میری اور تمہاری آنکھوں کے لئے ٹھنڈک ہے ۔ اسے قتل مت کرنا ۔ کیا عجب کہ یہ ہمارے لئے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا بنا لیں اور وہ (ایسی باتیں کرتے وقت انجام سے) بے خبر تھے
وَأَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَىٰ فَارِغًا ۖ إِن كَادَتْ لَتُبْدِي بِهِ لَوْلَا أَن رَّبَطْنَا عَلَىٰ قَلْبِهَا لِتَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
اور (اُدھر بچے کی جدائی میں) موسیٰؑ کی ماں کا دل بے قرار ہو گیا ۔ اگر ہم اؙس کے دل کو مضبوط نہ کر دیتے تو قریب تھا کہ وہ (اپنی بے قراری کے باعث) اس راز کو ظاہر کردیتیں ۔ (ایسا ہم نے اس لئے کیا) تاکہ وہ (اللہ کے وعدے پر) یقین کرنے والی بنی رہے
وَقَالَتْ لِأُخْتِهِ قُصِّيهِ ۖ فَبَصُرَتْ بِهِ عَن جُنُبٍ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
۞ وَحَرَّمْنَا عَلَيْهِ الْمَرَاضِعَ مِن قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ أَهْلِ بَيْتٍ يَكْفُلُونَهُ لَكُمْ وَهُمْ لَهُ نَاصِحُونَ
اور ہم نے پہلے ہی موسیٰؑ پر دائیوں کا دودھ حرام کر دیا تھا ۔ (یہ حالت دیکھ کر) اس لڑکی (یعنی موسٰیؑ کی بہن) نے کہا ۔ " کیا میں تمہیں ایسے گھر والوں کا پتہ نہ بتاؤں جو تمہاری خاطر اس کی پرورش کریں اور اس (بچے) کے خیر خواہ بھی ہوں ؟ "
فَرَدَدْنَاهُ إِلَىٰ أُمِّهِ كَيْ تَقَرَّ عَيْنُهَا وَلَا تَحْزَنَ وَلِتَعْلَمَ أَنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
تو (اس طرح) ہم نے موسٰیؑ کو اُن کی ماں کی طرف لوٹا دیا ۔ تاکہ اؙس کی آنکھ (بیٹے کو سامنے دیکھ کر) ٹھنڈی رہے ۔ اور (وہ ان کے فراق میں) غم زدہ نہ ہو ۔ اور وہ یہ بھی جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے ۔ لیکن اکثر لوگ (اس حقیقت کو) نہیں جانتے
وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَاسْتَوَىٰ آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ
(شاہی ماحول میں پرورش پا کر یہی) موسٰیؑ جب اپنی جوانی کو پہنچے اور (جسمانی و عقلی لحاظ سے) اؙن کی نشوونما مکمل ہو گئی تو ہم نے اُنہیں حُکم (یعنی حکمت و دانائی) اور (حقائق کی معرفت کا) علم عطا فرمایا ۔ اور ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں
وَدَخَلَ الْمَدِينَةَ عَلَىٰ حِينِ غَفْلَةٍ مِّنْ أَهْلِهَا فَوَجَدَ فِيهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ هَـٰذَا مِن شِيعَتِهِ وَهَـٰذَا مِنْ عَدُوِّهِ ۖ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِي مِن شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّهِ فَوَكَزَهُ مُوسَىٰ فَقَضَىٰ عَلَيْهِ ۖ قَالَ هَـٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ ۖ إِنَّهُ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِينٌ
(ایک روز) موسی (علیہ السلام) شہر میں (کہیں باہر سے) ایسے وقت داخل ہوئے کہ شہر کے باشندے بے خبر (پڑے سو رہے) تھے ۔ تو اؙنہوں نے اس میں دو مَردوں کو باہم لڑتے ہوئے پایا ۔ یہ (ایک) تو ان کے اپنے گروہ (بنی اسرائیل) میں سے تھا اور یہ (دوسرا) ان کے دشمنوں (یعنی قومِ فرعون) میں سے تھا ۔ پس اؙس شخص نے جو ان کے گروہ میں سے تھا آپؑ کو اس شخص کے خلاف مدد کے لئے پکارا جو آپؑ کے دشمنوں میں سے تھا ۔ پس موسیٰؑ نے اُسے مُکّا مارا تو اس کا کام تمام کر دیا ۔ (پھر) فرمانے لگے یہ شیطان کا کام ہے (جو مجھ سے سرزد ہوا) بے شک وہ بہکا دینے والا کھلا دشمن ہے
قَالَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَغَفَرَ لَهُ ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
(پھر لگے دعا مانگنے) عرض کیا اے میرے پالنے والے ۔ میں اپنی جان پر ظلم کر بیٹھا ہوں پس مجھے بخش دے ۔ پس اللہ نے اؙنہیں معاف کر دیا ۔ بے شک وہ بخشنے والا ، رحم فرمانے والا ہے
قَالَ رَبِّ بِمَا أَنْعَمْتَ عَلَيَّ فَلَنْ أَكُونَ ظَهِيرًا لِّلْمُجْرِمِينَ
(مزید) عرض کیا ۔ اے میرے رب ! یہ احسان جو تُو نے مجھ پر کیا ہے ، اس وجہ سے اب میں ہرگز مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا
فَأَصْبَحَ فِي الْمَدِينَةِ خَائِفًا يَتَرَقَّبُ فَإِذَا الَّذِي اسْتَنصَرَهُ بِالْأَمْسِ يَسْتَصْرِخُهُ ۚ قَالَ لَهُ مُوسَىٰ إِنَّكَ لَغَوِيٌّ مُّبِينٌ
(دوسرے روز) وہ صبح سویرے ڈرتے ڈرتے شہر میں آئے اس انتظار میں (کہ اب کیا ہو گا ؟) تو اچانک وہی شخص جس نے کل اُن سے مدد طلب کی تھی (آج پھر) اؙنہیں مدد کے لئے پکارتا ہے ۔ موسٰیؑ نے اُسے فرمایا ۔ تُو تو ہے ہی بہکا ہوا
فَلَمَّا أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِالَّذِي هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا قَالَ يَا مُوسَىٰ أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِي كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْأَمْسِ ۖ إِن تُرِيدُ إِلَّا أَن تَكُونَ جَبَّارًا فِي الْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ
پھر (دونوں کو سمجھاتے سمجھاتے) موسیٰؑ نے ارادہ کیا کہ (اب) اپنے اور اس کے دشمن کو پکڑے تو(اؙسے شبہ ہُوا کہ مجھے پکڑنا چاہتے ہیں لہذا) وہ بول اُٹھا ۔ " اے موسٰیؑ ۔ کیا تم مجھ (بھی) قتل کرنا چاہتے ہو جیسا کہ تم نے کل ایک شخص کو قتل کر ڈالا تھا ۔ تم تو بس یہی چاہتے ہو نا کہ اس ملک میں جابر بن کر رہو اور تم یہاں مصلح بن کر رہنا ہی نہیں چاہتے "
وَجَاءَ رَجُلٌ مِّنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ يَسْعَىٰ قَالَ يَا مُوسَىٰ إِنَّ الْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ فَاخْرُجْ إِنِّي لَكَ مِنَ النَّاصِحِينَ
(یہ خبر دربار میں پہنچی تو) شہر کے پرلے سرے سے (جہاں شاہی محلّات تھے) ایک شخص دوڑتا ہوا آیا ۔ اؙس نے کہا ۔ " اے موسیٰؑ (قومِ فرعون کے) سردار آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں کہ آپ کو قتل کر دیں ۔ سو نکل جائیں آپ (یہاں سے) ۔ یقین کرو میں آپ کے خیر خواہوں میں سے ہوں