Surah Al-Mujadila
The Pleading Woman • 22 Ayahs • Medinan
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ
بے شک اللہ نے اُس (عورت) کی بات سُن لی ہَے جو (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم) آپۖ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی ہے ۔ اور (ساتھ ہی) اللہ سے (اپنے رنج و غم کا) شکوہ کئے جاتی ہے ، اور الله آپ دونوں کی گفتگو سُن رہا ہے ۔ بلا شبہ اللہ (سب کی باتیں) سننے والا (سب کچھ) دیکھنے والا ہے
الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنكُم مِّن نِّسَائِهِم مَّا هُنَّ أُمَّهَاتِهِمْ ۖ إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ ۚ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُورًا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ
تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھتے ہیں (یعنی یہ کہہ دینا کہ تم مجھ پر میری ماں کی پُشت کی طرح ہو) تو (ایسا کہنے سے) اُن کی (بیویاں اُن کی) مائیں نہیں ہو جاتیں ۔ اؙن کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے اُن کو جنا ہَے ۔ بے شک یہ لوگ سخت نا پسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں ۔ اور حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ بہت درگزر فرمانے والا ، بخشنے والا ہے
وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِن نِّسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا ۚ ذَٰلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھیں پھر جو (بات) اؙنہوں نے کہی ، اس سے پلٹنا چاہیں تو (اس کا کفارہ یہ ہے کہ خاوند) ایک غلام یا کنیز آزاد کرے ۔ اس سے قبل کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں ۔ یہ ہے وہ نصیحت جو تمہیں کی جا رہی ہے ۔ اور اللہ اؙن کاموں سے خوب آگاہ ہے جو تم کرتے ہو
فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا ۖ فَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ۚ ذَٰلِكَ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ۚ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۗ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ
پس (جو شخص غلام یا کنیز) نہ پائے تو وہ دو ماہ کے متواتر روزے رکھے ۔ قبل اس کے کہ وہ ایک دوسرے کو مس کریں ۔ پھر جو کوئی اس کی (بھی) طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا (لازم ہے) ۔ یہ اس لئے کہ تم اللہ اور اؙس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان رکھو ۔ اور (یاد رکھو) یہ اللہ کی (مقرر کردہ) حدوؙد ہیں اور منکروں کے لئے درد ناک عذاب ہے
إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ كُبِتُوا كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ وَقَدْ أَنزَلْنَا آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ ۚ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ مُّهِينٌ
بے شک جو لوگ اللہ اور اؙس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے عداوت رکھتے ہیں وہ اِسی طرح ذلیل و خوار کر دیئے جائیں گے جس طرح اُن سے پہلے لوگ ذلیل و خوار کر دیئے گئے ۔ بے شک ہم نے وضاحت کے ساتھ آئیتں نازل کر دی ہیں اور نہ ماننے والوں کے لئے رسوا کر دینے والا عذاب ہے
يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا ۚ أَحْصَاهُ اللَّهُ وَنَسُوهُ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ
(یاد کرو) جِس دن اللہ اِن سب کو (دوبارہ زندہ کر کے) اؙٹھائے گا ، پھر انہیں ان کے اعمال سے مطلع فرمائے گا ۔ اللہ نے (ان کا) کو سب کیا دھرا گن گن کر رکھا ہے حالانکہ وہ اسے بھول چکے ہیں ۔ اور اللہ پر چیز پر شاہد ہے
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۖ مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَىٰ ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا ۖ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
(اے انسان) کیا تو جانتا نہیں کہ بے شک اللہ کو اُن سب کا علم ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے ۔ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ تین (آدمیوں) میں کوئی سرگوشی ہو اور اُن کے درمیان چوتھا اللہ نہ ہو، یا پانچ (آدمیوں) کی سرگوشی ہو اور اُن کے اندر چھٹا اللہ نہ ہو ، اور نہ اس سے کم (لوگوں) کی اور نہ زیادہ کی ، مگر وہ (ہمیشہ) اُن کے ساتھ ہوتا ہے جہاں کہیں بھی وہ ہوتے ہیں ۔ پھر وہ قیامت کے دن اؙنہیں آگاہ کر دے گا جو کرتوت وہ (دنیا ہیں) کرتے رہے ہیں ۔ بے شک اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نُهُوا عَنِ النَّجْوَىٰ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَيَتَنَاجَوْنَ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ وَيَقُولُونَ فِي أَنفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ ۚ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا ۖ فَبِئْسَ الْمَصِيرُ
کیا آپۖ نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں (اسلام کے خلاف) سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا ۔ پھر وہ لوگ وہی کام کئے جاتے ہیں جس سے وہ روکے گئے تھے ۔ اور وہ (چھپ چھپ کر آپس میں) گناہ ، زیادتی اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نافرمانی سے متعلق باتیں کرتے ہیں اور جب آپۖ کے پاس حاضر ہوتے ہیں تو آپۖ کو ان (نازیبا) الفاظ میں سلام کرتے ہیں جن سے اللہ نے آپۖ کو سلام نہیں فرمایا ۔ اور وہ اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ رسول سچے ہیں تو) اللہ ہمیں ان (گستاخانہ باتوں) پر جو ہم کہتے ہیں عذاب کیوں نہیں دیتا ؟ ان کے لئے جہنم (کا عذاب) ہی کافی ہے ۔ اس میں داخل ہوں گے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
اے ایمان والو ۔ جب تم آپس میں خُفیہ مشورہ کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول (کریم صلی اللہ علیہ وسلم) کی نافرمانی کا خُفیہ مشورہ نہ کیا کرو بلکہ نیکی اور تقویٰ کی بات سرگوشی کے انداریں کر لیا کرو ۔ اور اللہ کی ناراضی سے بچتے رہو جس کی طرف تم سب جمع کئے جاؤ گے
إِنَّمَا النَّجْوَىٰ مِنَ الشَّيْطَانِ لِيَحْزُنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَيْسَ بِضَارِّهِمْ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
(کفار کی منفی اور تخریجی) سرگوشیاں تو شیطان کی طرف سے ہوتی ہیں ۔ تاکہ وہ ایمان لانے والوں کو رنجیدہ کرے ۔ حالانکہ وہ (شیطان) اللہ کے حکم کے بغیر ان (مومنوں) کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتا ۔ اور ان (مومنوں) کو اللہ پر ہی بھروسہ رکھنا چاہئیے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ ۖ وَإِذَا قِيلَ انشُزُوا فَانشُزُوا يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم سے کہا جائے کہ (آنے والوں کے لئے) اپنی مجلسوں میں کشادگی پیدا کر دو تو (جگہ) کشادہ کر دیا کرو ۔ اللہ تمہیں کشادگی عطا فرمائے گا ۔ اور جب تم سے کہا جائے کہ اُٹھ جاؤ تو اُٹھ جایا کرو ۔ جو (خوش نصیب) تم میں سے ایمان لائے اور جنہیں علم سے نوازا گیا ، اللہ ان لوگوں کے درجات بلند فرمائے گا ۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اسکی خبر ہے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَأَطْهَرُ ۚ فَإِن لَّمْ تَجِدُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
اے ایمان والو جب تم رسولِ (مکرّم صلی اللہ علیہ وسلم) سے کوئی راز کی بات تنہائی میں کرنا چاہو تو سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو ۔ یہ عمل تمہارے لئے بہتر اور پاکیزہ تَر ہے ۔ پھر اگر (صدقہ دینے کے لئے) کچھ نہ پاؤ تو بے شک الله غفور (بھی ہے اور) رحیم (بھی)
أَأَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ ۚ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَتَابَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ (بارگاہِ رسالت میں) رازداری کے ساتھ بات کرنے سے پہلے صدقات دینے ہوں گے ؟ پس جب تم ایسا نہ کر سکے تو اللہ نے تم پر نظر کرم فرمائی (یعنی یہ پابندی اُٹھا لی) ۔ تو (اب) نماز قائم کرتے رہو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ اور اؙس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت بجا لاتے رہو اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے
۞ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِم مَّا هُم مِّنكُمْ وَلَا مِنْهُمْ وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
کیا آپ نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے ایک ایسی قوم کو دوست بنا لیا جن پر اللہ کا غضب ہُوا (یعنی یہود و منافقین کی دوستی) ۔ نہ وہ تم میں سے ہیں اور نہ اؙن میں سے ہیں ۔ یہ جان بُوجھ کر جھوٹی باتوں پر قَسمیں کھاتے ہیں
أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا ۖ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھّا ہے ۔ بلاشبه بہت ہی بُرے کرتوت ہیں جو یہ کر رہے ہیں
اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ
انہوں نے اپنی (جھوٹی) قَسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے ۔ (جن کی آڑ میں) وہ (دوسروں کو) الله کی راہ سے روکتے ہیں ۔ پس ان کے لئے ذلیل و خوار کر دینے والا عذاب ہے
لَّن تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُم مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا ۚ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
اللہ (کے عذاب) سے بچانے میں نہ تو ان کا مال کچھ کام آئے گا اور یہ ہی ان کی اولاد (کچھ فائدہ دے گی) ۔ یہی لوگ اہلِ دوزخ ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں
يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ ۖ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ ۚ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ
جس روز اللہ ان سب کو (دوبارہ زندہ کر کے) اؙٹھائے گا تو وہ اس کے سامنے (بھی) قسمیں کھائیں گے ، جیسے تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں ۔ اور وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ کسی (اچھی) شَے (یعنی راه) پر ہیں ۔ خُوب جان لو کہ وہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں
اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَأَنسَاهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ ۚ أُولَـٰئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَانِ ۚ أَلَا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَانِ هُمُ الْخَاسِرُونَ
(دراصل) شیطان اُن پر مسلّط ہو چکا ہے ۔ اور اُس نے اللہ کی یاد (اُن کے دلوں سے) بُھلا دی ہے ۔ یہی لوگ شیطان کا گروہ ہیں ۔ خبردار ۔ بےشک شیطانی گروہ کے لوگ ہی نقصان اٹھانے والے ہیں
إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَـٰئِكَ فِي الْأَذَلِّينَ
بے شک جو لوگ اللہ اور اؙس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے عداوت رکھتے ہیں وہ یقیناً ذلیل ترین مخلوقات میں سے ہیں