Surah Az-Zumar
The Troops • 75 Ayahs • Meccan
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ
اِس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے جو غالب حکمت والا ہے
إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ
(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) بے شک ہم نے (یہ) کتاب آپۖ کی طرف حق کے ساتھ نازل کی ہے ۔ تو آپۖ اللہ ہی کی عبادت کریں ، دین کو اُسی کے لئے خالص کرتے ہوئے
أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ ۚ وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَىٰ إِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ
سُنیں ، حقِ عبادت خالصتاً اللہ ہی کے لئے ہے ۔ (رہے وہ لوگ) جنہوں نے اللہ کے سوا (اور) سرپرست بنا رکھے ہیں (جھوٹا جواز پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ) ہم ان کی پوجا صرف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کا مقرّب بنا دیں گے ۔ یقیناً اللہ ان کے درمیان اُن (تمام باتوں) کا فیصلہ فرما دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں ۔ بے شک اللہ کسی (ایسے شخص) کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا اور منکرِ حق ہو
لَّوْ أَرَادَ اللَّهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفَىٰ مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ سُبْحَانَهُ ۖ هُوَ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ
اگر الله (اپنے لئے) اولاد بنانے کا ارادہ فرماتا تو اپنی مخلوق میں سے جِسے چاہتا منتخب فرما لیتا ۔ (لیکن) وہ پاک ہے (ایسی تمناؤں سے) ۔ وہی اللہ ہے جو یکتا ہے ، سب پر غالب
خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۖ يُكَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى اللَّيْلِ ۖ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُّسَمًّى ۗ أَلَا هُوَ الْعَزِيزُ الْغَفَّارُ
اؙس نے آسمانوں اور زمین کو صحیح تدبیر کے ساتھ پیدا فرمایا ۔ وہ رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے ۔ اور اُسی نے سورج اور چاند کو (ایک نظام میں) مسخّر کر رکھا ہے ۔ ہر ایک مقررہ وقت کی حد تک (اپنے مدار میں) چلے جا رہا ہے ۔ خبردار ! وہی (نظامِ کائنات پر) غالب ، بڑا بخشنے والا ہے
خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ الْأَنْعَامِ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ ۚ يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ خَلْقًا مِّن بَعْدِ خَلْقٍ فِي ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ ۚ ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ ۖ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ فَأَنَّىٰ تُصْرَفُونَ
(سوچو ذرا) اؙس نے تمہیں فرد واحد سے پیدا فرمایا ۔ پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا ۔ اور اؙسی (خالق حقیقی) نے تمہارے لئے مویشیوں میں سے آٹھ نر و مادہ پیدا کئے ۔ وہ تمہاری ماؤں کے رحموں میں ایک تخلیقی مرحلہ سے اگلے تخلیقی مرحلہ میں (تدریجا) تمہاری تشکیل کئے چلا جاتا ہے ۔ وہ (اس عمل کو) تین تاریک پردوں میں (مکمل فرماتا ہے) ۔ یہی اللہ تعالٰے (جس کے یہ کام ہیں) تمہارا ربّ ہے ۔ بادشاہی اُسی کی ہے ۔ اؙس کے سوا کوئی معبود (بھی) نہیں ۔ پھر (یہ تخلیقی حقائق جان لینے کے بعد بھی) تم کہاں بہکے پھرتے ہو ؟
إِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنكُمْ ۖ وَلَا يَرْضَىٰ لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ ۖ وَإِن تَشْكُرُوا يَرْضَهُ لَكُمْ ۗ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۗ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُم مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
اگر تم (منکر بن کر) ناشکری کرتے ہو تو بے شک اللہ تم سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کے لئے ناشکرگزاری کو پسند (بھی) نہیں کرتا اور اگر تم شکرگزاری کرو (تو) اُسے تمہارے لئے پسند فرماتا ہے ۔ اور کوئی بوجھ اؙٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اؙٹھائے گا ۔ پھر تمہیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے ۔ پس وہ تمہیں اُن (کاموں) سے خبردار کر دے گا جو تم کرتے رہے تھے ۔ بلا شبہ وہ تو سینوں کی (پوشیدہ) باتوں کو بھی خوب جاننے والا ہے
۞ وَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهُ مُنِيبًا إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُو إِلَيْهِ مِن قَبْلُ وَجَعَلَ لِلَّهِ أَندَادًا لِّيُضِلَّ عَن سَبِيلِهِ ۚ قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِيلًا ۖ إِنَّكَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ
اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو دل سے رجوع کرتے ہوئے پکارتا ہے ۔ پھر جب (اللہ) اُسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا کر دیتا ہے تو وہ اؙس (تکلیف) کو بھول جاتا ہے ۔ جس کے لئے وہ اس سے پہلے دعا کیا کرتا تھا اور اللہ کے ساتھ دوسرے (خداؤں کو) ہمسر ٹھہراتا ہے ۔ تاکہ (دوسرے لوگوں کو بھی) اؙس کی راہ سے بھٹکا دے ۔ (اے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم) اس سے کہہ دیجئے ، کہ تھوڑا عرصہ اپنے کُفر سے لطف اُٹھا لے ۔ یقیناً تُو اُن لوگوں کے ساتھ آگ میں جائے گا ، جو دوزخی ہیں
أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ ۗ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ
بھلا (یہ مشرک بہتر ہے یا) وہ (مومن) جو مطیع و فرماں بردار بن کر رات کی گھڑیوں میں سجود و قیام کی حالت میں رہتا ہے ۔ آخرت سے ڈرتا رہتا ہے ۔ اور اپنے ربّ کی رحمت کی اؙمید لگائے رکھتا ہے ۔ فرما دیجئے (میرے حبیبۖ) کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ عقل رکھنے والے ہی نصیحت قبول کرتے ہیں
قُلْ يَا عِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ ۚ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَـٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ ۗ وَأَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ ۗ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ
(اے نبیِ مکرّم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف سے) فرمادیجئے ۔ " اے میرے بندو ! جو ایمان لائے ہو ، اپنے رب (کی ناراضی) سے بچو ۔ جن لوگوں نے اس دنیا میں نیک رویّہ اختیار کیا اُن کے لئے بھلائی ہے اور اللہ کی زمین بڑی وسیع ہے ، (دنیاوی مشکلات پر) صبر کرنے والوں کو تو اُن کا اجر بے حساب دیا جائے گا "
قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ
فرما دیجئے ۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ دین کو اللہ کے لئے خالص کرکے اُسکی بندگی کروں
وَأُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ
اور مجھے یہ (بھی) حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا مسلمان بنوں
قُلْ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
(یہ بھی) فرما دیجئے کہ اگر مَیں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے
قُلِ اللَّهَ أَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّهُ دِينِي
(ہاں اِن پر یہ بھی) واضح کر دیجئے ۔ " میں تو اپنے دین کو اللہ کے لئے خالص کر کے اُسی کی بندگی کرتا ہوں "
فَاعْبُدُوا مَا شِئْتُم مِّن دُونِهِ ۗ قُلْ إِنَّ الْخَاسِرِينَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ أَلَا ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ
سو تم اللہ کے سوا جس جس کی پوجا کرنا چاہو کرتے رہو ۔۔۔۔ نیز فرما دیجئے ، اصل دیوالیے تو وہی ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو گھاٹے میں ڈال دیا ۔ یاد رکھو یہی کھلا نقصان ہے
لَهُم مِّن فَوْقِهِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِن تَحْتِهِمْ ظُلَلٌ ۚ ذَٰلِكَ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِ عِبَادَهُ ۚ يَا عِبَادِ فَاتَّقُونِ
اؙن (بدبختوں) کے لئے اُن کے اوپر (بھی) آگ کے سائبان بنے ہوں گے اور اؙن کے نیچے بھی آگ کے فرش ہوں گے ۔ یہ وہ عذاب ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے ۔ پس اے میرے بندو (میرے غضب سے) بچو
وَالَّذِينَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ أَن يَعْبُدُوهَا وَأَنَابُوا إِلَى اللَّهِ لَهُمُ الْبُشْرَىٰ ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِ
اور جو لوگ شیطان کی بندگی سے بچے رہے اور اللہ کی طرف جھکے رہے اُن کے لئے خوشخبری ہے ۔ پس آپۖ میرے اؙن بندوں کو بشارت دے دیجئے
الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّهُ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ
جو بات کو غور سے سنتے ہیں پھر اس کے بہتر پہلو کی اتباع کرتے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت عطا فرمائی ہے اور (حقیقت میں) یہی لوگ عقل و بصیرت والے ہیں
أَفَمَنْ حَقَّ عَلَيْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ أَفَأَنتَ تُنقِذُ مَن فِي النَّارِ
بھلا جس پر عذاب کا حکم واجب ہو چکا تو کیا آپۖ اؙس شخص کو بچا سکتے جو آگ میں (جا چکا) ہے
لَـٰكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّن فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِيَّةٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ وَعْدَ اللَّهِ ۖ لَا يُخْلِفُ اللَّهُ الْمِيعَادَ
لیکن جو لوگ اپنے رب (کی ناراضی) سے بچتے رہے ، اُن کے لئے (جنت میں) اونچے اونچے محلّات ہوں گے جن کے اوپر بھی بالا خانے بنائے گئے ہوں گے ، ان (محلّات) کے دامن میں نہریں رواں ہوں گی ۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے ، اللہ وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا