Al-Bayan
Arabic size
ا
Urdu size
ا

Surah Al-Hadid

The Iron • 29 Ayahs • Medinan

star

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

1

اللہ ہی کی تسبیح بیان کرتے ہیں جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں ۔ وہی (سب پر) غالب ، بڑی حکمت والا ہے

لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ يُحْيِي وَيُمِيتُ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

2

آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اؙسی کے لئے ہے ۔ وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے ۔ اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے

هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ

3

وہی (سب سے) اوّل اور (سب سے) آخر ہے ، اور (اپنے قادر ہونے کی بِنا پر) ظاہر اور (اپنی ذات کی حیثیت سے) پوشیدہ (بھی) ہے ۔ اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہَے

هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۚ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ۖ وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ

4

وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں (یعنی ادوار) میں پیدا کیا ۔ پھر (اپنی شان کے مطابق) عرش پر جلوہ افروز ہُوا ۔ اُس کے علم میں ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے ۔ اور جو کچھ اس میں سے خارج ہوتا ہے ۔ اور جو کچھ آسمانی کروّں سے اؙترتا ہے اور جو کچھ ان میں چڑھتا ہَے ۔ اور وہ (ربِّ کائنات) تمہارے ساتھ ہوتا ہے تم جہاں کہیں بھی ہو ۔ اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس پر نظر رکھے ہوئے ہے

لَّهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ

5

آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اُسی کی ہے اور اؙسی کی طرف سارے امور لوٹائے جاتے ہیں

يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ ۚ وَهُوَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ

6

وہی (قادرِ مطلق ہے جو) رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے ۔ اور وہ سینوں کی (پوشیدہ) باتوں کو بھی جانتا ہے

آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَنفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُم مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ ۖ فَالَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَأَنفَقُوا لَهُمْ أَجْرٌ كَبِيرٌ

7

اللہ اور اؙس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان لاؤ اور اؙس (مال) میں سے خرچ کرو جس میں اُس نے تمہیں اپنا نائب (یعنی امین) بنایا ہے ۔ پس تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور (اللہ کی راہ میں) خرچ کیا اُن کے لئے بہت بڑا اجر ہے

وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ۙ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّكُمْ وَقَدْ أَخَذَ مِيثَاقَكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

8

اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) تمہیں اپنے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہے ہیں ۔ اور (خود اللہ نے) تم سے پختہ عہد لیا تھا ، اگر تم واقعی ماننے والے ہو

هُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ عَلَىٰ عَبْدِهِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ لِّيُخْرِجَكُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۚ وَإِنَّ اللَّهَ بِكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ

9

وہ (اللہ) ہی تو ہے جو اپنے (برگزیدہ) بندے پر واضح آیات نازل فرماتا ہے ۔ تاکہ تمہیں (کفر کے) اندھیروں سے نکال کر (ایمان کے) نُور کی طرف لے آئے اور حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ تم پر نہایت شفیق اور نہایت مہربان ہے

وَمَا لَكُمْ أَلَّا تُنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا يَسْتَوِي مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ ۚ أُولَـٰئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِينَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ

10

(حال) آخر تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کی میراث الله ہی کے لئے ہے (تم تو صرف اس کے امین ہو) ۔ تم میں سے کوئی برابری نہیں کر سکتا اُن کی جنہوں نے فتح (مکّہ) سے پہلے (اللہ کی راہ میں مال) خرچ کیا اور (کافروں سے) جنگ کی ۔ اُن کا درجہ بہت بڑا ہے اُن سے جنہوں نے (فتح مکّہ کے) بعد میں مال خرچ کیا اور (کافروں سے) جنگ کی ۔ اگرچہ اللہ نے سب کے ساتھ بہت عمدہ وعدہ فرما رکھا ہے ۔ اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے مکمل با خبر ہے

مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ وَلَهُ أَجْرٌ كَرِيمٌ

11

کون ہے جو اللہ کو (اپنا مال) قرض حسنہ کے طور پر قرض دے ، اور اللہ اس کے لئے اس (کے مال) کو کئی گنا بڑھا دے ۔ اور اس کے لئے عزت و اکرام والا اجر ہے

يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ يَسْعَىٰ نُورُهُم بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِم بُشْرَاكُمُ الْيَوْمَ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ

12

(اے رسول کریم صلّی اللہ علیہ وسلم) جس روز آپۖ (اپنی اؙمت کے) مومن مَردوں اور مومن عورتوں کو دیکھیں گے کہ اؙن کا نور اؙن کے آگے اور اؙن کے دائیں جانب (ضوفشانی کرتے ہوئے) دوڑ رہا ہو گا ۔ (اؙن سے کہا جائے گا) آج تمہیں بشارت ہو کہ (تمہارے لئے ) جَنّتیں ہیں جن کے دامن میں نہریں رواں دواں ہیں ۔ (تم) ہمیشہ اس میں رہو گے ۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے

يَوْمَ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ لِلَّذِينَ آمَنُوا انظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِن نُّورِكُمْ قِيلَ ارْجِعُوا وَرَاءَكُمْ فَالْتَمِسُوا نُورًا فَضُرِبَ بَيْنَهُم بِسُورٍ لَّهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِن قِبَلِهِ الْعَذَابُ

13

اُس روز منافق مَرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہیں گے : ذرا ہماری طرف بھی دیکھو ہم تمہارے نُور سے کچھ فائدہ اؙٹھا لیں ۔ اؙن سے کہا جائے گا ۔ پیچھے پلٹ جاؤ اور (وہاں کہیں) نُور تلاش کرو ۔ پھر اؙن کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی ۔ جس میں ایک دروازہ ہوگا ۔ اس کے اندر کی جانب رحمت ہوگی اور باہر کی جانب اُس طرف عذاب ہوگا

يُنَادُونَهُمْ أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ ۖ قَالُوا بَلَىٰ وَلَـٰكِنَّكُمْ فَتَنتُمْ أَنفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ الْأَمَانِيُّ حَتَّىٰ جَاءَ أَمْرُ اللَّهِ وَغَرَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ

14

وہ اہلِ ایمان سے پکار پکار کر کہیں گے ۔ کیا (دنیا میں) ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ (مومن) جواب دیں گے ۔ کیوں نہیں ۔۔۔۔ !! لیکن تم نے اپنے آپ کو خود (منافقت کے) فتنوں میں ڈال لیا تھا ۔ اور تم (ہماری تباہی کے) منتظر رہتے تھے ۔ اور تم (نبوتِ محمدیۖ اور دینِ اسلام میں) شک کیا کرتے تھے ۔ اور جھوٹی توقعات تمہیں فریب دیتی رہیں ۔ یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ (یعنی موت کا بلاوا) آ گیا ۔ اور (سب سے بڑھ کر) یہ کہ تمہیں اللہ کے بارے میں دغا باز (شیطان) دھوکہ دیتا رہا

فَالْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنكُمْ فِدْيَةٌ وَلَا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ مَأْوَاكُمُ النَّارُ ۖ هِيَ مَوْلَاكُمْ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ

15

پس (اے منافقو !) آج کے دن تم سے کوئی فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ اُن لوگوں سے جنہوں نے (کُھلم کُھلا) کفر کیا تھا ۔ اور تم (سب) کا ٹھکانا آتشِ (جہنم) ہے ۔ وہی تمہاری رفیق ہے اور وہ بہت ہی بُرا ٹھکانہ ہے

۞ أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ ۖ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ

16

کیا ایمان والوں کے لئے (ابھی) وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ کے ذکر سے جُھک جائیں اور اس حق کے لئے (بھی) جو نازل ہوا ہے ۔ اور وہ اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی پھر ایک لمبی مدّت اؙن پر گزر گئی تو اُن کے دل سخت ہوگئے اور اُن میں (آج) بہت سے لوگ نا فرمان ہیں

اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ

17

خُوب جان لو کہ اللہ ہی زمین کو اس کی موت (یعنی خشک اور بنجر ہونے) کے بعد زندگی بخشتا ہے (یعنی بارش برسا کر سرسبز و شاداب کر دیتا ہے) اور بے شک ہم نے تمہارے لئے (اپنی) نشانیاں واضح کر دی ہیں ۔ تاکہ تم عقل سے کام لو

إِنَّ الْمُصَّدِّقِينَ وَالْمُصَّدِّقَاتِ وَأَقْرَضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَاعَفُ لَهُمْ وَلَهُمْ أَجْرٌ كَرِيمٌ

18

بے شک صدقہ و خیرات دینے والے مرد اور صدقہ و خیرات دینے والی عورتیں اور (وہ) جنہوں نے اللہ کو قرض حسنہ کے طور پر قرض دیا ، ان کو یقینا کئی گئی بڑھا کر دیا جائے گا اور اُن کے لئے کریمانہ اجر ہوگا

وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولَـٰئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ ۖ وَالشُّهَدَاءُ عِندَ رَبِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ

19

اور جو لوگ اللہ اور اؙس کے رسولوں پر ایمان لائے وہی (خوش نصیب) اپنے رب کے نزدیک صدّیق اور شہید ہیں ۔ اُن کے لئے (خصوصی) اجر اور (مخصوص) نور (بھی) ہے ۔ اور جو (بد نصیب) مُنکر ہو گئے اور ہماری آئیتوں کو جھٹلاتے رہے وہی لوگ دوزخی ہیں (دہکتی ہوئی آگ میں جلیں گے)

اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ ۖ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا ۖ وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٌ ۚ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ

20

خُوب جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا ہے اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور آپس میں (حسب و نسب پر) اترانا ، اور ایک دوسرے پر مال و اولاد میں اضافے کی طلب ہے ۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے بارش ہوگئی کہ جس کی پیداوار کسانوں کو بھلی لگتی ہے ۔ پھر وہ خشک ہو جاتی ہے ۔ پھر تم اؙسے پک کر زرد ہوتا دیکھتے ہو پھر وہ ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے اور آخرت میں (کافروں کے لئے) شدید عذاب ہے اور (ایمان والوں کے لئے) اللہ کی طرف سے مغفرت اور (اؙس کی) خوشنودی ہوگی اور دنیا کی زندگی تو بَس دھوکے کے سوا اور کچھ بھی نہیں