Surah Ibrahim
Abraham • 52 Ayahs • Meccan
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ الر ۚ كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ
الف ، لام ، را ۔ (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) یہ (قرآن) ایک کتاب ہے ، جسے ہم نے آپۖ کی طرف نازل کیا ہے تاکہ آپۖ لوگوں کو (کفر و شرک کے) اندھیروں سے نکال کر (ایمان کی) روشنی کی طرف لے آئیں ۔ اُن کے رب کی توفیق سے اؙس (اللہ کے) راستے کی طرف جو غالب ہے (اور) حمد و ثنا کے لائق ہے
اللَّهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ وَوَيْلٌ لِّلْكَافِرِينَ مِنْ عَذَابٍ شَدِيدٍ
وہی الله ۔۔۔۔۔ کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے سب اُسی کا ہے ۔ اور کافروں کے لئے سخت عذاب کی وجہ سے بربادی ہے
الَّذِينَ يَسْتَحِبُّونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا ۚ أُولَـٰئِكَ فِي ضَلَالٍ بَعِيدٍ
�ہ (وہ) لوگ ہیں جو دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں زیادہ پسند کرتے ہیں ۔ اور (دوسروں کو) اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ۔ اور وہ اس (راستے) کو (اپنی خواہشات کے مطابق) ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ لوگ دوؙر کی گمراہی میں (پڑ چکے) ہیں
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ ۖ فَيُضِلُّ اللَّهُ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي مَن يَشَاءُ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
اور ہم نے جو بھی رسول بھیجا اُسے اپنی قوم کی زبان کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اؙنہیں (پیغامِ حق) کھول کر سمجھا دے ۔ (اہتمامِ حُجّت کے بعد) پھر اللہ جس کو چاہتا ہے (اپنے قانون کے مطابق) گمراہ کر دیتا ہے اور جِسے چاہتا ہے ہدایت کی راہ دکھاتا ہے ۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَذَكِّرْهُم بِأَيَّامِ اللَّهِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ
اور (اِسی طرح) ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا تھا ۔ تاکہ وہ اپنی قوم کو اندھیروں سے نکال کر (نُورِ ہدایت کی) روشنی میں لائے ۔ اور اؙنہیں تاریخِ الٰہی کے (سبق آموز) واقعات کی یاد دلائے (جیسے قوم نوحؑ ، قوم لوطؑ اور قوم شعیبؑ وغیرہ) ۔ بے شک ان (واقعات) میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لئے جو (اللہ کی طرف سے آزمائشوں میں) صبر (اور اس کی عنایات پر) شُکر کرنے والا ہو
وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ أَنجَاكُم مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ وَيُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ ۚ وَفِي ذَٰلِكُم بَلَاءٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌ
اور (وہ وقت یاد کرو) جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا ۔ اللہ کے اؙس احسان کو یاد رکھّو جو اُس نے تم پر کیا تھا ۔ جب فرعون کے لوگوں سے تمہیں چھڑایا تھا ۔ جو تمہیں سخت عذاب پہنچاتے تھے ۔ وہ تمہارے بیٹوں کو ذبح کر دیتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے ۔ اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی
وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ
اور (یاد رکھو) جب تمہارے رب نے تمہیں خبردار کر دیا تھا کہ اگر شکر گزار بن کر رہوگے تو میں تمہیں اور زیادہ نوازوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے
وَقَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ
اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ۔ اگر تم ناشکری کرو گے اور زمین کے سارے رہنے والے بھی (اسی طرح) ناشکرے ہو جائیں (تو کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ کیونکہ) بے شک اللہ تو بے نیاز ہے (ان سب سے اور) لائقِ حمد و ثنا ہے
أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَأُ الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ ۛ وَالَّذِينَ مِن بَعْدِهِمْ ۛ لَا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا اللَّهُ ۚ جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْوَاهِهِمْ وَقَالُوا إِنَّا كَفَرْنَا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ وَإِنَّا لَفِي شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُونَنَا إِلَيْهِ مُرِيبٍ
(اب کفارِ مکہ سے خطاب ہے) کیا تمہیں اُن لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے گزر چکے ؟ قومِ نوحؑ اور عاد اور ثمود (کے لوگ) اور ان کے بعد آنے والے بہت سے لوگ جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا (جو نیست و نابود ہو کر صفحہءِ ہستی سے مٹ چکے) اُن کے رسول جب اؙن کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو اؙنہوں نے (اﺰرہِ تمسخر و عناد) اپنے ہاتھ اپنے مونہوں میں دبا لئے اور (بڑی بے باکی سے) کہنے لگے ۔ " جس (پیغام) کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے ۔ اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت دیتے ہو اُس کے بارے میں حقیقتاً ہم ایسے شک میں پڑ گئے ہیں جو سخت الجھن میں ڈال دینے والا ہے
۞ قَالَتْ رُسُلُهُمْ أَفِي اللَّهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ يَدْعُوكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ قَالُوا إِنْ أَنتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا تُرِيدُونَ أَن تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا فَأْتُونَا بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ
اؙن کے رسولوں نے کہا ۔ کیا اللہ کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا فرمانے والا ہے ۔ وہ تمہیں (اس لئے) بلاتا ہے کہ تمہارے گناہوں کو بخش دے ۔ اور (تمہاری نافرمانیوں کے باوجود) تمہیں ایک مدتِ مقررہ تک مہلت دے ۔ وہ (کافر) بولے ۔ " تم کچھ نہیں مگر ہمارے جیسے ہی آدمی ہو ۔ تم یہ چاہتے ہو کہ ہمیں ان (بتوں) سے روک دو جن کی بندگی ہمارے باپ دادا کیا کرتے تھے ۔ (اگر یہی بات ہے) تو لاؤ ہمارے پاس کوئی واضح دلیل "
قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِن نَّحْنُ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّهَ يَمُنُّ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۖ وَمَا كَانَ لَنَا أَن نَّأْتِيَكُم بِسُلْطَانٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
اُن کے رسولوں نے اُن سے کہا ۔ ہاں ہم تمہارے ہی جیسے آدمی ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے (رسالت سے نواز کر) احسان فرماتا ہے ۔ اور (رہ گئی دلیل کی بات) یہ ہمارا کام نہیں کہ ہم اللہ کی اجازت کے بغیر تمہارے پاس کوئی دلیل لے آئیں ۔ اور ایمان والوں کو تو اللہ ہی پر توکّل کرنا ہے چاہئے
وَمَا لَنَا أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ وَقَدْ هَدَانَا سُبُلَنَا ۚ وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَىٰ مَا آذَيْتُمُونَا ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ
�م کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں ۔ جبکہ (ہماری زندگی کی) راہوں میں اؙس نے ہماری راہنمائی فرمائی ہے ۔ جو تکلیفیں تم (لوگ) ہمیں دے رہے ہو ہم ضرور ان پر صبر کریں گے اور اہلِ توکّل کو اللہ پر ہی توکّل کرنا چاہئے
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُم مِّنْ أَرْضِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ۖ فَأَوْحَىٰ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظَّالِمِينَ
(اس پر) مُنکرین نے اپنے رسولوں سے کہہ دیا ۔ " ہم تمہیں اپنی سرزمین سے نکال باہر کریں گے یا تمہیں (بالاخر) ہماری ملّت میں واپس آنا ہوگا ۔ تب اؙن کے رب نے اُن کی طرف وحی بھیجی ۔ " (فکر کرنے کی ضرورت نہیں) ہم ان ظالموں کو ہلاک کر دیں گے "
وَلَنُسْكِنَنَّكُمُ الْأَرْضَ مِن بَعْدِهِمْ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ
الحمدللہ تیرھواں پارہ مکمل ہُواپارہ نمبر
وَاسْتَفْتَحُوا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ
اور (بالآخر رسولوں نے اللہ سے) فتح کی التجاء کی (جو قبول ہوئی) اور ہر شرکش ، ضدی نامراد ہُوا
مِّن وَرَائِهِ جَهَنَّمُ وَيُسْقَىٰ مِن مَّاءٍ صَدِيدٍ
اس نامرادی کے پیچھے (پھر) جہنم ہے اور اُسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا
يَتَجَرَّعُهُ وَلَا يَكَادُ يُسِيغُهُ وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِن كُلِّ مَكَانٍ وَمَا هُوَ بِمَيِّتٍ ۖ وَمِن وَرَائِهِ عَذَابٌ غَلِيظٌ
جسے وہ بمشکل ایک ایک گھونٹ پیئے گا اور اُسے حلق سے نیچے اُتار نہ سکے گا ۔ اور اُسے ہر طرف سے موت آ گھیرے گی اور وہ مر نہ سکے گا ۔ اور اؙس کے پیچھے ایک اور سخت عذاب ہوگا
مَّثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ ۖ أَعْمَالُهُمْ كَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّيحُ فِي يَوْمٍ عَاصِفٍ ۖ لَّا يَقْدِرُونَ مِمَّا كَسَبُوا عَلَىٰ شَيْءٍ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُ
جن لوگوں نے اپنے رب کا انکار کیا اُن کی مثال اُس راکھ کی سی ہے جس پر آندھی کے دن تندوتیز ہوا چلی (اور اُسے اُڑا لے گئی) ۔ وہ اُن (اعمال) میں سے جو اؙنہوں نے کمائے تھے کچھ بھی نہ پا سکیں گے یہی پرلے درجے کی گمراہی ہے
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۚ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ
کیا تُو نے نہیں دیکھا کہ بے شک اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ (مبنی بَر حکمت) پیدا فرمایا ہے ۔ اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور ایک نئی مخلوق (تمہاری جگہ) لے آئے
وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيزٍ
اور یہ (کام) اللہ پر کوئی مشکل نہیں ہے