Surah Al-Fath
The Victory • 29 Ayahs • Medinan
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا
(اے حبیبۖ) بے شک ہم نے آپۖ کو کُھلی فتح عطا فرمادی ہے
لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا
تاکہ اللہ آپۖ کو اگلی اور پچھلی تمام خطاؤں سے محفوظ فرمائے (اب ان کا امکان ہی نہیں) اور آپۖ پر اپنی نعمت تمام کر دے ۔ اور سیدھے راستے (یعنی صراطِ مستقیم) کی طرف راہنمائی فرمائے
وَيَنصُرَكَ اللَّهُ نَصْرًا عَزِيزًا
اور اللہ آپۖ کو زبردست نصرتِ الٰہی سے نوازے
هُوَ الَّذِي أَنزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ لِيَزْدَادُوا إِيمَانًا مَّعَ إِيمَانِهِمْ ۗ وَلِلَّهِ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا
وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں تسکین نازل فرمائی تاکہ ان کے (پہلے) ایمان کے ساتھ مزید ایمان کا اضافہ ہو (یعنی علم الیقین سے آگے عین الیقین کا مقام حاصل ہو جائے) ۔ اور آسمانوں اور زمین کے سارے لشکر اللہ ہی کے (زیرِ فرمان) ہیں اور اللہ (مصلحتوں کا) بڑا جاننے والا ، بڑی حکمت والا ہے
لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عِندَ اللَّهِ فَوْزًا عَظِيمًا
(یہ سب کچھ) اسلئے ہے کہ وہ مومن مَردوں اور مومن عورتوں کو ہمیشہ رہنے کے لئے ایسی جَنّتوں میں داخل فرمائے جن کے دامن میں نہریں رواں دواں ہیں ۔ اور (مزید یہ کہ) ان کی خطاؤں کو ان سے دوؙر کر دے ۔ اور یہ اللہ کے نزیک (مومنوں کی) بہت بڑی کامیابی ہے
وَيُعَذِّبَ الْمُنَافِقِينَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْمُشْرِكِينَ وَالْمُشْرِكَاتِ الظَّانِّينَ بِاللَّهِ ظَنَّ السَّوْءِ ۚ عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ ۖ وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلَعَنَهُمْ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا
اور تاکہ اؙن منافق مَردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مَردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب میں مبتلا کرے جو اللہ کے متعلق بُرے گمان رکھتے ہیں ، بُرائی کے پھیر ہیں وہ خود ہی آگئے ہیں اور اؙن پر اللہ کا غضب ہوا اور اؙن پر لعنت فرمائی اور اؙن کے لئے جہنم تیار کی اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہَے
وَلِلَّهِ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا
اور آسمانوں اور زمین کے سارے لشکر اللہ ہی کے (زیرِ فرمان) ہیں اور اللہ غالب ، بڑی حکمت والا ہے
إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا
اور (اے حبیبۖ) بے شک ہم نے آپۖ کو گواہ بنا کر (اپنی رحمت کی) خوشخبری سنانے والا اور بَروقت (اللہ کے عذاب سے) ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے
لِّتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا
تاکہ (اے لوگو) تم اللہ اور اؙس کے رسولۖ پر ایمان لاؤ اور اؙن کی مدد کرو اور اؙن کی بے حد تعظیم و تکریم بجا لاؤ اور (اس کے ساتھ) صبح و شام (اللہ کی) تسبیح بیان کرو
إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ۚ فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَىٰ نَفْسِهِ ۖ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا
(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) بے شک جو لوگ آپۖ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ۔ اُن کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے ۔ پس جس نے اس (عہد) کو توڑا تو اس کو توڑنے کا وبال اس کی اپنی ذات پر ہوگا ۔ اور جس نے اس (عہد) کو پورا کیا جو اس نے اللہ سے کیا تھا ، (الله) عنقریب اؙسے بہت بڑا اجر عطا فرمائے گا
سَيَقُولُ لَكَ الْمُخَلَّفُونَ مِنَ الْأَعْرَابِ شَغَلَتْنَا أَمْوَالُنَا وَأَهْلُونَا فَاسْتَغْفِرْ لَنَا ۚ يَقُولُونَ بِأَلْسِنَتِهِم مَّا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ ۚ قُلْ فَمَن يَمْلِكُ لَكُم مِّنَ اللَّهِ شَيْئًا إِنْ أَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا ۚ بَلْ كَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا
(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ میں شرکت سے) جو دیہاتی لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ عنقریب آپۖ سے عرض کریں گے ۔ " کہ ہمیں ہمارے مال اور اہل و عیال نے مشغول کر رکھا تھا ۔ سو آپۖ ہمارے لئے مغفرت کی دعا فرمائیں " ۔ (اصل میں) یہ لوگ زبانوں سے جو کہتے ہیں وہ ان کے دلوں میں نہیں ۔ (ان سے) فرما دیجئے ۔ ایسا کون ہے جو اللہ کے (فیصلے کے) خلاف کسی چیز کا کوئی اختیار رکھتا ہو ؟ اگر وہ تمہارے لئے کسی نقصان کا ارادہ فرمائے یا تمہارے لئے کسی نفع کا ارادہ فرما لے تو ۔۔۔۔۔ بلکہ اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے ، جو تم کر رہے ہو "
بَلْ ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَنقَلِبَ الرَّسُولُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَىٰ أَهْلِيهِمْ أَبَدًا وَزُيِّنَ ذَٰلِكَ فِي قُلُوبِكُمْ وَظَنَنتُمْ ظَنَّ السَّوْءِ وَكُنتُمْ قَوْمًا بُورًا
بلکہ تم نے یوں سمجھ لیا تھا کہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) اور مومنین اب کبھی بھی اپنے اہل و عیال کی طرف واپس نہ آسکیں گے اور یہ (گمان) تمہارے دلوں میں خوب آراستہ کر دیا گیا تھا اور تم طرح طرح کے بُرے خیالوں میں مگن رہے اور تم تو (تباہی کے راستے پر چلنے والے) بد باطن لوگ ہو
وَمَن لَّمْ يُؤْمِن بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ فَإِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ سَعِيرًا
اور جو لوگ اللہ اور اؙس کے رسولۖ پر ایمان نہ رکھتے ہوں تو ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے
وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ يَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ ۚ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا
اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کے لئے ہے ۔ وہ جِسے چاہے بخش دے ، اور جِسے چاہے عذاب دے اور (حقیقتاً تو) الله بڑا بخشنے والا ، بے حد رحم فرمانے والا ہے
سَيَقُولُ الْمُخَلَّفُونَ إِذَا انطَلَقْتُمْ إِلَىٰ مَغَانِمَ لِتَأْخُذُوهَا ذَرُونَا نَتَّبِعْكُمْ ۖ يُرِيدُونَ أَن يُبَدِّلُوا كَلَامَ اللَّهِ ۚ قُل لَّن تَتَّبِعُونَا كَذَٰلِكُمْ قَالَ اللَّهُ مِن قَبْلُ ۖ فَسَيَقُولُونَ بَلْ تَحْسُدُونَنَا ۚ بَلْ كَانُوا لَا يَفْقَهُونَ إِلَّا قَلِيلًا
جو لوگ (سفرِ حدیبیہ میں) بیچھے رہ گئے تھے وہ عنقریب کہیں گے ۔ " جب تم (خیبر کے) اموالِ غنیمت لینے چلو گے ، کہ ہمیں بھی اجازت دو کہ ہم تمہارے پیچھے ہو کر چلیں ۔ وہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے حکم کو بدل ڈالیں ۔ فرما دیجئے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے ۔ اِسی طرح اللہ نے پہلے ہی فرما دیا ہے ۔ وہ پھر کہیں گے کہ نہیں بلکہ تم لوگ ہم سے حسد کرتے ہو ۔ (حالانکہ بات حسد کی نہیں ہے) بلکہ وہ لوگ (صحیح بات) کم ہی سمجھتے ہیں
قُل لِّلْمُخَلَّفِينَ مِنَ الْأَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ إِلَىٰ قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ ۖ فَإِن تُطِيعُوا يُؤْتِكُمُ اللَّهُ أَجْرًا حَسَنًا ۖ وَإِن تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُم مِّن قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا
(اے نبیۖ) اؙن پیچھے رہ جانے والے بدوی عربوں سے فرما دیجئے ۔ کہ عنقریب تمہیں ایسے لوگوں سے لڑنے کے لئے بلایا جائے گا جو بڑے سخت جنگجو ہیں ۔ تم اؙن سے جنگ کرتے رہو گے یا وہ مطیع ہو جائیں گے ۔ سو اگر تم (حُکمِ جہاد کی) اطاعت کرو گے تو اللہ تمہیں بہترین اجر عطا فرمائے گا اور اگر تم پھر اؙسی طرح منہ موڑ لو گے ، جس طرح پہلے تم نے اس سے پہلے روگردانی کی تھی تو وہ تمہیں دردناک عذاب دے گا
لَّيْسَ عَلَى الْأَعْمَىٰ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ ۗ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ وَمَن يَتَوَلَّ يُعَذِّبْهُ عَذَابًا أَلِيمًا
(جہاد میں شرکت نہ کرنے میں) نہ اندھے پر کوئی گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی گناہ ہے اور نہ (ہی) بیمار پر کوئی گناہ ہے ۔ اور جو کوئی اللہ اور اؙس کے رسولۖ کی اطاعت کرے گا وہ اُسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے دامن میں نہریں رواں ہوں گی ۔ اور جو شخص (اطاعت سے) منہ پھیر لے گا وہ اؙسے درد ناک عذاب میں مبتلا کر دے گا
۞ لَّقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا
(اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم) یقیناً اللہ ایمان والوں سے راضی ہو گیا جب وہ (حدیبیہ کے مقام پر) درخت کے نیچے آپۖ سے بیعت کر رہے تھے ۔ پس جو کچھ (جذبہء خلوص) اُن کے دلوں میں تھا ، وہ (الله) نے جان لیا ۔ سو الله نے اُن پر تسکین نازل فرمائی اور انعام کے طور پر اؙنہیں قریبی فتح (خیبر) عطا فرمائی
وَمَغَانِمَ كَثِيرَةً يَأْخُذُونَهَا ۗ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا
اور بہت سا مالِ غنیمت بھی جن کو وہ (عنقریب) حاصل کریں گے ۔ اور اللہ غالب ، بڑی حکمت والا ہے
وَعَدَكُمُ اللَّهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَـٰذِهِ وَكَفَّ أَيْدِيَ النَّاسِ عَنكُمْ وَلِتَكُونَ آيَةً لِّلْمُؤْمِنِينَ وَيَهْدِيَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا
اللہ نے تم سے بہت سی غنیمتوں کا وعدہ فرمایا ہے ، جو تم آئیندہ حاصل کرو گے ۔ مگر فوری طور پر اؙس نے یہ (غنیمتِ خیبر) تمہیں عطا کر دی ہے اور (دشمن) لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیئے ہیں اور تاکہ یہ ایمان والوں کے لئے (آئندہ آنے والی فتوحات کی) نشانی بن جائے اور تاکہ تمہیں (ثابت قدمی کے ساتھ) صراطِ مستقیم پر گامزن رکھّے