Surah Al-Ankabut
The Spider • 69 Ayahs • Meccan
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ الم
الف ، لام ، میم (حقیقی معانی اللہ اور رسولۖ ہی بہتر جانتے ہیں)
أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ
کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیئے جائیں گے کہ " ہم ایمان لے آئے " ۔ اور اؙنہیں آزمایا نہ جائے گا
وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۖ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ
اور بے شک ہم نے اؙن لوگوں کو (بھی) آزمایا تھا جو ان سے پہلے گزرے ہیں ۔ سو یقیناً اللہ ان لوگوں کو (بذریعہ آزمائش) ضرور نمایاں فرمائے گا جو (دعوٰیِ ایمان میں) سچے ہیں اور جھوٹوں کو بھی ظاہر کر دے گا
أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ أَن يَسْبِقُونَا ۚ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ
اور کیا وہ لوگ جو (اسلام کے خلاف) بُری حرکتیں کر رہے ہیں وہ یہ خیال کئے بیٹھے ہیں کہ وہ ہم سے بازی لے جائیں گے ۔ بڑا غلط فیصلہ ہے جو وہ کر رہے ہیں
مَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ اللَّهِ فَإِنَّ أَجَلَ اللَّهِ لَآتٍ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
جو شخص اللہ سے ملاقات کی اُمید رکھتا ہے (اُسے معلوم ہونا چاہئیے کہ) بے شک اللہ کا مقرر کردہ وقت ضرور آنے واللہ ہے ۔ اور وہی سب کچھ سنتا جانتا ہے
وَمَن جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ
اور جو شخص (راہِ حق میں) جد و جہد کرتا ہے تو وہ اپنے ہی (بھلے کے) لئے مجاہدہ کرتا ہے ۔ اللہ یقیناً سب جہان والوں سے بے نیاز ہے
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَحْسَنَ الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے تو ہم اُن کی ساری خطائیں ان (کے نامہءِ اعمال) سے مٹا دیں گے ۔ اور جو اعمال وہ (فی الواقع) کرتے رہے تھے اؙنہیں ان سے بہتر جزا عطا فرمائیں گے
وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا ۖ وَإِن جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۚ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
اور ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرئے ۔ (اے مخاطب) اور اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تُو میرے ساتھ کسی ایسے (معبود) کو شریک ٹھہرائے جس (کی حقیقت) کا تجھے علم نہیں تو (اس بات میں) اُن کی اطاعت نہ کر ۔ (اور یاد رکھو) میری طرف ہی تمہیں لوٹنا ہے ۔ پھر میں تمہیں اُن (کاموں) سے آگاہ کروں گا جو تم (دنیا میں) کیا کرتے تھے
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِي الصَّالِحِينَ
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے ہم اُنہیں ضرور صالحین (یعنی نیکوکاروں کے گروہ) میں داخل کریں گے
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ فَإِذَا أُوذِيَ فِي اللَّهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللَّهِ وَلَئِن جَاءَ نَصْرٌ مِّن رَّبِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ ۚ أَوَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِمَا فِي صُدُورِ الْعَالَمِينَ
اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لے آئے ۔ پھر جب اؙنہیں اللہ کی راہ میں (کوئی) تکلیف پہنچائی گئی تو اؙنہوں نے لوگوں کی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیا ۔ اب اگر آپۖ کے رب کی طرف سے کوئی مدد آ پہنچے تو یقیناُ وہ کہیں گے " ہم تو تمہارے ساتھ تھے " ۔ کیا اللہ اؙن باتوں کو نہیں جانتا جو جہان والوں کے سینوں میں (پوشیدہ) ہیں ؟
وَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنَافِقِينَ
اور اللہ ضرور ایسے لوگوں کو نمایاں فرمائے گا جو (دل سے) ایمان لائے ہیں ۔ اور منافقوں کو (بھی) ضرور ظاہر کر دے گا
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا اتَّبِعُوا سَبِيلَنَا وَلْنَحْمِلْ خَطَايَاكُمْ وَمَا هُم بِحَامِلِينَ مِنْ خَطَايَاهُم مِّن شَيْءٍ ۖ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ
اور کافر لوگ ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے طریقہِ (زندگی) کی پیروی کرو اور ہم تمہاری خطاؤں (کے بوجھ) کو اؙٹھا لیں گے ۔ حالانکہ ان خطاؤں میں سے وہ کچھ بھی اپنے اوپر لینے والے نہیں ۔ وہ قطعاً جھوٹ کہتے ہیں
وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالًا مَّعَ أَثْقَالِهِمْ ۖ وَلَيُسْأَلُنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَمَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ
�اں وہ اپنے (گناہوں کے) بوجھ تو ضرور اُٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسرے بہت سے بوجھ (بھی اٹھائیں گے) ۔ اور روزِ قیامت اُن سے اِن (بہتانوں) کے بارے میں ضرور پوچھ گچھ ہوگی جو وہ گھڑا کرتے تھے
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا فَأَخَذَهُمُ الطُّوفَانُ وَهُمْ ظَالِمُونَ
اور بے شک ہم نے نوح (علیہ اسلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا ۔ تو وہ اؙن کے درمیان پچاس کم ایک ہزار سال تک رہے ۔ پھر ان لوگوں کو طوفان نے آ پکڑا ، اِس حال میں کہ وہ ظالم تھے
فَأَنجَيْنَاهُ وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ وَجَعَلْنَاهَا آيَةً لِّلْعَالَمِينَ
پھر ہم نے نوحؑ کو اور (ان کے ہمراہ) کشتی والوں کو بچا لیا ۔ اور ہم نے (طوفانِ نوحؑ کو) تمام جہان والوں کے لئے نشانِ (عبرت) بنا کر رکھ دیا
وَإِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ ۖ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
اور (یاد کرو) ابراہیم (علیہ اسلام) کو جب اؙنہوں نے اپنی قوم سے فرمایا ۔ کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اُس (کی ناراضی) سے بچو ۔ یہی تمہارے حق میں بہتر ہے ، اگر تم جانو
إِنَّمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا وَتَخْلُقُونَ إِفْكًا ۚ إِنَّ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ لَا يَمْلِكُونَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوا عِندَ اللَّهِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُوا لَهُ ۖ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
تم اللہ کو چھوڑ کر جنہیں پوج رہے ہو وہ تو (محض) بُتّ ہیں اور تم جھوٹ گھڑتے ہو ۔ بے شک اللہ کے سوا تم جن کی پوجا کرتے ہو وہ تمہارے رزق کے مالک نہیں ہیں ۔ پس تم اللہ کی بارگاہ سے رزق طلب کیا کرو اور اُسی کی عبادت کیا کرو اور اُسی کا شکر بجا لایا کرو ۔ اور تم اُسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے
وَإِن تُكَذِّبُوا فَقَدْ كَذَّبَ أُمَمٌ مِّن قَبْلِكُمْ ۖ وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ
اور اگر تم جھٹلاتے ہو تو (یہ کوئی نئی بات نہیں) یقیناً تم سے پہلے (بھی) کئی اؙمتیں جھٹلا چکی ہیں ۔ اور رسولۖ پر کھول کر پیغام پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری) نہیں
أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
)کیا اِن لوگوں نے کبھی دیکھا ہی نہیں کہ اللہ کس طرح تخلیق کی ابتدا کرتا ہے ۔ پھر (اِسی طرح) اسکا اعادہ فرماتا ہے ۔ یقیناً یہ (اعادہ تو) اللہ کے لئے آسان تر ہے
قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ۚ ثُمَّ اللَّهُ يُنشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَةَ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
فرمائیے ، زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ اُس نے مخلوق کی (زندگی کی) ابتدا کیسے فرمائی پھر اللہ دوسری بار بھی زندگی بخشے گا ، یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے