Surah Maryam
Mary • 98 Ayahs • Meccan
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ كهيعص
کاف ھا یا عین صاد (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)
ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّا
(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ تذکرہ ہے (اؙس) رحمت کا جو آپۖ کے رب نے اپنے بندے ﺰکریاؑ پر کی تھی
إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا
جب اُس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا تھا
قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُن بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا
عرض کیا ۔ اے پالنے والے ! میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں ۔ اور بڑھاپے (کی سفیدی) سے میرا سر بھڑک اؙٹھا ہے ۔ اور ایے پالنے والے ! میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا
وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِن وَرَائِي وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا فَهَبْ لِي مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا
اور مجھے اپنے پیچھے اپنے رشتہ داروں سے اندیشہ ہے (کہ وہ دین کی نعمت ضائع نہ کر بیٹھیں) اور میری بیوی بھی بانجھ ہے ۔ تو مجھے اپنی طرف سے ایک وارث عطا فرما
يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ ۖ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا
جو میرا وارث (بھی) ہو اور آل یعقوب کی میراث بھی پائے ۔ اور اے میرے رب اُسے اپنا پسندیدہ (انسان) بنانا
يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَىٰ لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِن قَبْلُ سَمِيًّا
(اِرشاد ہوا) اے ﺰکریاؑ ۔ ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں ۔ جس کا نام یحیٰؑ ہوگا ۔ ہم نے اس سے پہلے اس کا کوئی ہم نام بنایا ہی نہیں
قَالَ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا
(زکریاؑ نے) عرض کیا ۔ اے میرے رب ! میرے ہاں لڑکا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ میری بیوی بانجھ ہے ۔ اور میں خود بڑھاپے کی حد تک پہنچ چکا ہوں
قَالَ كَذَٰلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِن قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا
جواب آیا (حیران نہ ہو) ایسا ہی ہوگا ۔ تیرے رب کا ارشاد ہے کہ یہ میرے لئے بہت آسان ہے ۔ اور بے شک میں اس سے پہلے تجھے پیدا کر چکا ہوں جبکہ تُو کوئی چیز نہ تھا
قَالَ رَبِّ اجْعَل لِّي آيَةً ۚ قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا
(زکریاؑ نے) عرض کیا ۔ اے میرے رب میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما ۔ ارشاد ہُوا ۔ تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم تین راتیں مسلسل لوگوں سے بات نہ کر سکو گے
فَخَرَجَ عَلَىٰ قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرَابِ فَأَوْحَىٰ إِلَيْهِمْ أَن سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا
پھر (ﺰکریاؑ) محراب سے نکل کر اپنی قوم کی طرف آئے تو ان کی طرف اشارہ کیا (اور سمجھایا) کہ تم صبح و شام (اللہ کی) تسبیح کرو
يَا يَحْيَىٰ خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ ۖ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا
(یہ بشارت پوری ہوئی ، یحیٰؑ پیدا ہوئے اور جب وہ سنِ رُشد کو پہنچے تو فرمایا) ۔ اے یحیٰؑ (ہماری) کتاب (توریت) کو مضبوطی سے تھام لو ۔ اور ہم نے تو اؙنہیں بچپن ہی میں حکمت وبصیرت (حق و باطل میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت) عطا فرمادی تھی
وَحَنَانًا مِّن لَّدُنَّا وَزَكَاةً ۖ وَكَانَ تَقِيًّا
اور اُنہیں اپنی طرف سے سوزو گداز (یعنی رقّتِ قلب) اور ( ظاہر و باطن کی) پاکیزگی (سے بھی نوازا تھا) ۔ وہ بڑے پر ہیز گار تھے
وَبَرًّا بِوَالِدَيْهِ وَلَمْ يَكُن جَبَّارًا عَصِيًّا
اور وہ والدین کے ساتھ بھلائی کرنے والے (تھے) اور (عام جوانوں کی طرح) سرکش و نافرمان بھی نہ تھے
وَسَلَامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا
اور سلام ہو یحیٰؑ پر جس دن وہ پیدا ہوئے اور جس دن اُن کی وفات ہوگی اور جس دن اؙنہیں دوبارہ اُٹھایا جائے گا
وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا
اور (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اب) آپۖ اِس کتاب (یعنی قرآنِ مجید) میں مریم (علیہا السلام) کا تذکرہ بھی کر دیجئے ۔ جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر (بیت المقدس کے) مشرق کی طرف گوشہ نشین ہو گئی تھیں
فَاتَّخَذَتْ مِن دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا
پس اِس نے اُن کی طرف ایک پردہ لٹکا لیا ۔ پھر (اس حالت میں) ہم نے اؙس کی طرف اپنی روح (یعنی جبرئیلؑ) کو بھیجا جو اس کے سامنے ایک پورے انسان کی شکل میں نمودار ہو گیا
قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَـٰنِ مِنكَ إِن كُنتَ تَقِيًّا
(مریمؑ اُسے دیکھتے ہی) بول اُٹھی ۔ اگر تُو (کوئی) خدا ترس آدمی ہے تو مَیں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں
قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا
اُس نے کہا ۔ " میں تمہارے رب کا بھیجا ہُوا ہوں (اور اس لئے بھیجا گیا ہوں) تاکہ تمہیں ایک پاکیزہ فرزند عطا کروں "
قَالَتْ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ وَلَمْ أَكُ بَغِيًّا
(مریمؑ نے حیرت سے) کہا ۔ " میرے ہاں لڑکا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ مجھے کسی بَشر نے چُھوا تک نہیں ۔ اور میں کوئی بدکار (عورت) بھی نہیں "