Surah Sad
Sad • 88 Ayahs • Meccan
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ص ۚ وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ
ص (صاد) (حقیقی معنی اللہ اور رسولۖ بہتر جانتے ہیں) نصیحت بھرے قرآن کی قسم (آپۖ حق پر ہیں)
بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي عِزَّةٍ وَشِقَاقٍ
بلکہ یہ لوگ جنہوں نے ماننے سے انکار کیا ہے ، تکبر اور ضد میں (اندھے ہو چکے) ہیں
كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّن قَرْنٍ فَنَادَوا وَّلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ
�م نے کتنی ہی اؙمتوں کو ان سے پہلے ہلاک کر دیا تو وہ (عذاب کو دیکھ کر) فریاد کرنے لگے ۔ یہ وقت بچ نکلنے کا نہیں تھا
وَعَجِبُوا أَن جَاءَهُم مُّنذِرٌ مِّنْهُمْ ۖ وَقَالَ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ
اور اؙنہوں نے اس بات پر بڑا تعجب کیا کہ (اللہ کے عذاب سے) ڈرانے والا خود انہی میں سے آگیا ۔ منکرین کہنے لگے : یہ تو جادو گر ہے ، سخت جھوٹا ہے
أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَـٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَـٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ
کیا اس نے بہت سے خداؤں کی جگہ ایک ہی خدا بنا ڈالا ؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے
وَانطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَىٰ آلِهَتِكُمْ ۖ إِنَّ هَـٰذَا لَشَيْءٌ يُرَادُ
اور ان کے سردار (حضرت ابوطالب کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل سے اؙٹھ کر) چل کھڑے ہوئے ۔ (باقی لوگوں کو) یہ کہتے ہوئے کہ تم بھی چلو اور اپنے خداؤں (کی پوجا) پر ڈٹے رہو ۔ ضرور یہ کوئی ایسی بات ہے جس میں ان کی کوئی غرض (پوشیدہ) ہے
مَا سَمِعْنَا بِهَـٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْآخِرَةِ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ
�م نے اس (عقیدہِ توحید) کو آخری ملّت (یعنی نصرانیت) میں بھی نہیں سنا ۔ یہ تو بس ایک من گھڑت بات ہے
أَأُنزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِن بَيْنِنَا ۚ بَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِّن ذِكْرِي ۖ بَل لَّمَّا يَذُوقُوا عَذَابِ
بلکہ (اصل بات تو یہ ہے کہ) یہ میرے ذکر (یعنی قرآنِ حکیم) پر شک کر رہے ہیں اور (یہ ساری باتیں اس لئے کر رہے ہیں کہ) اؙنہوں نے (ابھی) میرے عذاب کا مزا نہیں چکھا
أَمْ عِندَهُمْ خَزَائِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيزِ الْوَهَّابِ
کیا اُن کے پاس آپۖ کے رب کی رحمت کے خزانے ہیں ؟ جو غالب ہے ، بہت عطا کرنے والا ہے
أَمْ لَهُم مُّلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ فَلْيَرْتَقُوا فِي الْأَسْبَابِ
(اور) کیا اُن کے پاس آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اؙس کی بادشاہت ہے ؟ (اگر ہے) تو اؙنہیں چاہئے کہ وہ رسیاں باندھ کر عالمِ اسباب کی بلندیوں پر چڑھ جائیں
جُندٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُومٌ مِّنَ الْأَحْزَابِ
(کفار کے) جتھّوں میں سے یہ تو ایک چھوٹا سا جتھّہ ہے جو اِسی جگہ شکست کھانے والا ہے
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ ذُو الْأَوْتَادِ
ان سے پہلے نوحؑ کی قوم نے اور عاد نے اور بڑی مضبوط حکومت (یعنی میخوں والے) فرعون نے (بھی) جھٹلایا تھا
وَثَمُودُ وَقَوْمُ لُوطٍ وَأَصْحَابُ الْأَيْكَةِ ۚ أُولَـٰئِكَ الْأَحْزَابُ
اور ثمود نے اور قومِ لُوطؑ نے اور ایکہ کے رہنے والے (قوم شعیبؑ نے) بھی (جھٹلایا تھا) ۔ یہی وہ بڑے لشکر تھے
إِن كُلٌّ إِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ
(ان میں سے) ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا تو (ان پر) میرا عذاب واجب ہو گیا
وَمَا يَنظُرُ هَـٰؤُلَاءِ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً مَّا لَهَا مِن فَوَاقٍ
اور یہ سب (کفارِ مکہ) تو بس ایک ہولناک آواز (یعنی چنگھاڑ) کے منتظر ہیں ۔ جس کے بعد کوئی مہلت نہ ہو گی
وَقَالُوا رَبَّنَا عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ
اور (مذاقاً) کہتے ہیں اے ہمارے رب ! یومِ حساب سے پہلے ہی ہمیں ہمارے حصہ (کا عذاب) جلدی دے دے
اصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُودَ ذَا الْأَيْدِ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ
(اے نبیِ اکرمۖ) جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں اس پر صبر کیجئے ۔ اور (ان کے سامنے) ہمارے بندے داؤدؑ کا تذکرہ کیجئے ۔ جو بڑی قوتوں کا مالک تھا ۔ بےشک وہ (ہر معاملے میں ہماری طرف) رجوع کرنے والا تھا
إِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ
�م نے پہاڑوں کو اؙس کے ساتھ مسخّر کر رکھا تھا جو (اؙس کے ساتھ) شام کو اور صبح کو تسبیح کیا کرتے تھے
وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً ۖ كُلٌّ لَّهُ أَوَّابٌ
اور پرندے سمٹ آتے اور سب کے سب اؙس (کی تسبیح) کی طرف متوجہ ہو جاتے
وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ
اور ہم نے اؙس کی سلطنت مضبوط کر دی تھی اور اؙسے حکمت عطا کی تھی اور فیصلہ کُن اندازِ خطاب عطا کیا تھا