Al-Bayan
Arabic size
ا
Urdu size
ا

Juz 26

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ حم

1

حامیم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں)

تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ

2

(اس) کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے جو سب پر غالب ، بڑی حکمت والا ہے

مَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ وَالَّذِينَ كَفَرُوا عَمَّا أُنذِرُوا مُعْرِضُونَ

3

اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان دونوں کے درمیان ہے بَرحق اور مدتِ مقررہ کے ساتھ پیدا فرمایا ہے ۔ اور وہ جنہوں نے کفر کیا اُس (حقیقت) سے منہ موڑے ہوئے ہیں جس سے اؙن کو خبردار کیا گیا ہے

قُلْ أَرَأَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ أَرُونِي مَاذَا خَلَقُوا مِنَ الْأَرْضِ أَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمَاوَاتِ ۖ ائْتُونِي بِكِتَابٍ مِّن قَبْلِ هَـٰذَا أَوْ أَثَارَةٍ مِّنْ عِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ

4

(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اِن سے) پوچھئے ۔ " کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا ہے کہ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ، مجھے دکھاؤ تو سہی کہ اؙنہوں نے زمین میں کیا تخلیق کیا ہے یا آسمانوں کی (کی تخلیق) میں ان کی کیا حصہ داری ہے ؟ ۔ (ان سے کہئے کہ) لاؤ میرے پاس کوئی کتاب جو اس سے پہلے (اؙتری ہو) یا کوئی دوسرا علمی ثبوت ؟ اگر تم واقعی سچے ہو ! "

وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ

5

اور اس (بدبخت) سے بڑھ کر بہکا ہوا شخص اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ کو چھوڑ کر اُن (بتوں) کو پکارے جو قیامت کے دن تک اُسے جواب نہیں دے سکتے ۔ اور وہ (بُت) اُن کی پکار سے بھی بے خبر ہیں

وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ

6

اور جب لوگ (روزِ محشر) جمع کئے جائیں گے تو وہ (معبودانِ باطلہ) ان کے دشمن ہونگے اور اؙن کی عبادت کا صاف انکار کر دیں گے

وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ هَـٰذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ

7

اور جب اُن پر ہماری صاف صاف آیات پڑھی جاتی ہیں اور حق اؙن کے سامنے آجاتا ہے تو یہ کافر کہتے ہیں ۔ یہ تو کھلا جادو ہے

أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ إِنِ افْتَرَيْتُهُ فَلَا تَمْلِكُونَ لِي مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَا تُفِيضُونَ فِيهِ ۖ كَفَىٰ بِهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ ۖ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ

8

کیا وہ کہتے ہیں کہ اِس (قرآن) کو (نبیۖ نے) خود گھڑ لیا ہے ۔ آپۖ فرما دیں کہ اگر اسے میں نے گھڑا ہے تو تم مجھے اللہ (کی پکڑ) سے (بچانے کا) کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے ۔ اور وہ اؙن (باتوں) کو خوب جانتا ہے جو تم اس (قرآن) کے بارے میں کرتے ہو ۔ وہ (اللہ) میرے اور تمہارے درمیان بطور گواہ کافی ہے اور وہ بہت بخشنے والا رحیم ہے

قُلْ مَا كُنتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ وَمَا أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ

9

آپۖ فرما دیں (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کہ میں (لوگوں کی طرف) کوئی پہلا رسول نہیں آیا ۔ اور مَیں (از خود یہ) نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا (سلوک) کیا جائے گا اور نہ وہ جو تمہارے ساتھ کیا جائے گا ۔ مَیں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف کی جاتی ہے ۔ اور مَیں تو صرف (وحی کے علم کی بنا پر) صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں

قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن كَانَ مِنْ عِندِ اللَّهِ وَكَفَرْتُم بِهِ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّن بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَىٰ مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ

10

فرما دیجئے کیا تم نے کبھی سوچا کہ اگر یہ (قرآن) اللہ کی طرف سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کر دیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا) ۔ حالانکہ اس جیسے کلام پر بنی اسرائیل سے ایک گواہ گواہی بھی دے چکا ہے اور وہ ایمان بھی لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے ۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا

وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُونَا إِلَيْهِ ۚ وَإِذْ لَمْ يَهْتَدُوا بِهِ فَسَيَقُولُونَ هَـٰذَا إِفْكٌ قَدِيمٌ

11

اور جن لوگوں نے ماننے سے انکار کر دیا اؙنہوں نے اہل ایمان سے کہا ۔ اگر یہ (دینِ محمدیۖ) بہتر ہوتا تو یہ لوگ (اسے قبول کرنے میں) ہم سے سبقت نہ لے جا سکتے تھے ۔ اور جب اؙنہوں نے اس سے ہدایت نہ پائی تو اب کہتے ہیں یہ تو پرانی من گھڑت باتیں ہیں

وَمِن قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَىٰ إِمَامًا وَرَحْمَةً ۚ وَهَـٰذَا كِتَابٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَانًا عَرَبِيًّا لِّيُنذِرَ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَبُشْرَىٰ لِلْمُحْسِنِينَ

12

اور اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب (تورات) راہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے ۔ اور (اؙسکی) تصدیق کرنے والی یہ کتاب عربی (زبان) میں ہے ۔ تاکہ ظالموں کو (عذابِ الٰہی سے) ڈرائے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے

إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

13

بے شک جن لوگوں نے کہا ۔ " اللہ ہمارا رب ہے " پھر وہ اس پر ڈٹ گئے اُن کے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے

أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ

14

�ہی لوگ جنّتی ہیں جو اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔ یہ اؙن اعمال کی جزا ہے جو وہ کیا کرتے تھے

وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا ۖ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا ۖ وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا ۚ حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي ۖ إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ

15

اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم فرمایا ۔ اس کی ماں نے بڑی مشقت کے ساتھ (پیٹ میں) اُٹھائے رکھا ۔ اور تکلیف سے اس کو جنم دیا ۔ اور اس کا (پیٹ میں) اٹھانا اور اس کا دودھ چھڑانا تیس ماہ (میں پورا ہوتا) ہے ۔ یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جاتا ہے ۔ اور (پھر) وہ چالیس برس (کی پختہ عمر) کا ہو گیا ۔ تو کہتا ہے : اے میرے پروردگار ۔ مجھے توفیق عطا فرما کہ میں تیری اُس نعمت کا شکر ادا کروں جو تُو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک اعمال کروں کہ تُو راضی ہو جائے اور میری خاطر میری اولاد کو صالح بنا دے ۔ بے شک مَیں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور یقیناً میں فرماں برداروں میں سے ہوں

أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجَاوَزُ عَن سَيِّئَاتِهِمْ فِي أَصْحَابِ الْجَنَّةِ ۖ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ

16

�ی وہ (خوش نصیب) لوگ ہیں جن کے نیک اعمال کو ہم قبول کرتے ہیں اور ان کی کوتاہیوں سے درگزر فرماتے ہیں ۔ یہ اہلِ جنت میں ہوں گے ۔ یہ سچا وعدہ ہے جو ان سے کیا جاتا تھا

وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَّكُمَا أَتَعِدَانِنِي أَنْ أُخْرَجَ وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُونُ مِن قَبْلِي وَهُمَا يَسْتَغِيثَانِ اللَّهَ وَيْلَكَ آمِنْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَيَقُولُ مَا هَـٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ

17

اور جس نے اپنے والدین سے کہا ۔ میں تم سے بے زار ہوں ۔ کیا تم مجھے خوف دلاتے ہو اس بات سے کہ میں (قبر سے دوبارہ زندہ کر کے) نکالا جاؤں گا ۔ حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکیں (اُن میں سے تو کوئی اُٹھ کر نہ آیا) اور وہ دونوں (ماں باپ) اللہ کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہیں (اور لڑکے سے کہتے ہیں) تُو ہلاک ہو گیا ایمان لے آ ۔ بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے ۔ مگر وہ کہتا ہے ۔ " یہ (دھمکیاں) اگلے لوگوں کی فرسودہ کہانیوں کے سوا اور (کچھ) نہیں

أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا خَاسِرِينَ

18

�ہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں (عذاب کا) فیصلہ صادر ہو چکا ، جِنّات اور انسانوں کی بہت سے گروہ جو پہلے گزر چکے ہیں (وہ بھی اس میں شامل ہیں) ۔ بے شک وہ (سب) خسارہ اُٹھانے والوں میں تھے

وَلِكُلٍّ دَرَجَاتٌ مِّمَّا عَمِلُوا ۖ وَلِيُوَفِّيَهُمْ أَعْمَالَهُمْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

19

اور ہر ایک (گروہ) کے لئے اؙن کے اعمال کے مطابق درجات ہوں گے ۔ تاکہ (اللہ) اؙن کو اؙن کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے اور اؙن پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا

وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِينَ كَفَرُوا عَلَى النَّارِ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُم بِهَا فَالْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَفْسُقُونَ

20

اور (وہ دن بھی آئے گا) جس دن کافروں کو آگ کے سامنے لا کھڑا کیا جائے گا (تو ان سے کہا جائے گا) تم دنیا کی زندگی میں اپنی من بھاتی نعمتوں کا حصہ حاصل کر چکے اور اُن سے خوب خوب لطف اٹھا چکے ۔ پس آج کے دن تمہیں ذِلّت کے عذاب کی سزا دی جائے گی اؙس تکبر کی وجہ سے جو تم زمین میں ناحق کیا کرتے تھے اور وہ نافرمانیاں (بھی اِسکی وجہ بنیں) جن کا اِرتکاب تم کیا کرتے تھے