Juz 23
۞ وَمَا أَنزَلْنَا عَلَىٰ قَوْمِهِ مِن بَعْدِهِ مِن جُندٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَمَا كُنَّا مُنزِلِينَ
اؙس (کی شہادت) کے بعد ہم نے اؙس کی قوم پر آسمان سے کوئی شکر نہیں اتارا اور نہ ہی ہم اُتارنے والے تھے
إِن كَانَتْ إِلَّا صَيْحَةً وَاحِدَةً فَإِذَا هُمْ خَامِدُونَ
بس ایک دھماکہ ہُوا اور وہ سب بجھ کر رہ گئے
يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ ۚ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
�ائے افسوس اؙن بندوں پر ! جو رسول بھی اُن کے پاس آیا وہ اس کا مذاق میں اؙڑاتے رہے
أَلَمْ يَرَوْا كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّنَ الْقُرُونِ أَنَّهُمْ إِلَيْهِمْ لَا يَرْجِعُونَ
کیا اؙنہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے اُن سے پہلے کتنی ہی قومیں ہلاک کر ڈالیں (اور) وہ (آج تک) اُن کی طرف لوٹ کر نہ آئے
وَإِن كُلٌّ لَّمَّا جَمِيعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُونَ
اور وہ سب کے سب (ایک روز) ہمارے حضور حاضر کئے جائیں گے
وَآيَةٌ لَّهُمُ الْأَرْضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَاهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ
اور ان کے لئے ایک نشانی مُردہ زمین ہے ۔ جسے ہم نے زندگی بخشی اور ہم نے اس سے غلّہ نکالا ۔ وہ اس میں سے کھاتے ہیں
وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّاتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَابٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ الْعُيُونِ
اور ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کئے ۔ اور ہم نے اس کے اندر سے چشمے بھی جاری کر دیئے
لِيَأْكُلُوا مِن ثَمَرِهِ وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ ۖ أَفَلَا يَشْكُرُونَ
تاکہ وہ اس کے پھل کھائیں اور یہ (سب کچھ) ان کے اپنے ہا تھوں نے نہیں بنایا ۔ پھر کیا وہ شکر ادا نہیں کرتے
سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ
پاک ہے وہ ذات جس نے ہر چیز کا جوڑا جوڑا پیدا کیا ۔ (خواہ) وہ زمین کی نباتات میں سے ہو یا خود ان کی اپنی جنس (یعنی نوعِ انسانی) میں سے یا اؙن (اشیاء) میں سے جن کو وہ جانتے تک نہیں
وَآيَةٌ لَّهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظْلِمُونَ
اور اؙن کے لئے ایک نشانی رات (بھی) ہے ۔ ہم اس میں سے دن کو کھینچ لیتے ہیں ۔ سو وہ اؙس وقت اندھیرے میں پڑے رہ جاتے ہیں
وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
اور سورج ، وہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے ۔ یہ زبردست ، بہت علم والے (رب) کا باندھا ہوا حساب ہے
وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ حَتَّىٰ عَادَ كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ
اور چاند ، ہم نے اس کی (حرکت و گردش) کی منزلیں مقرر کر رکھی ہیں ۔ یہاں تک کہ وہ گھٹتے گھٹتے کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہو جاتا ہے
لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ ۚ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ
نہ سورج کے بس میں ہے کہ وہ (اپنا مدار چھوڑ کر) چاند کو جا پکڑے اور نہ رات (ہی) دن سے پہلے نمودار ہو سکتی ہے ۔ اور سب (سیارے اور ستارے) اپنے مدار میں حرکت پذیر ہیں
وَآيَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِي الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ
اور ان کے لئے ایک نشانی یہ (بھی) ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری کشتیِ (نوحؑ) میں سوار کر (کے بچا) لیا تھا
وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِ مَا يَرْكَبُونَ
اور ہم نے ان کے لئے اس (کشتی) کی مانند اور (سواریاں) پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں
وَإِن نَّشَأْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِيخَ لَهُمْ وَلَا هُمْ يُنقَذُونَ
اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کر دیں ۔ تو کوئی ان کی فریاد سننے والا نہ ہوگا اور نہ وہ بچائے جاسکیں گے
إِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَمَتَاعًا إِلَىٰ حِينٍ
سوائے ہماری رحمت کے (جو انہیں پار لگاتی ہے) اور (یہ زندگی میں) ایک مقررہ مدت تک کا فائدہ اُٹھانے کا موقع دیتی ہے
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّقُوا مَا بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَمَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ بچو اُس (انجام) سے جو تمہارے آگے (آ رہا) ہے اور جو تمہارے پیچھے (گزر چکا) ہے ۔ تاکہ تم پر رحم کیا جائے (تو یہ سُنی ان سُنی کر جاتے ہیں)
وَمَا تَأْتِيهِم مِّنْ آيَةٍ مِّنْ آيَاتِ رَبِّهِمْ إِلَّا كَانُوا عَنْهَا مُعْرِضِينَ
(ان کے سامنے) ان کے رب کی آیات میں سے جو بھی آیت آتی ہے تو وہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ أَنفِقُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ قَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنُطْعِمُ مَن لَّوْ يَشَاءُ اللَّهُ أَطْعَمَهُ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو تو کافر لوگ ایمان والوں سے کہتے ہیں کیا ہم اس (غریب شخص) کو کھلائیں جسے اگر اللہ چاہتا تو (خود ہی) کھلا دیتا ۔ تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو