Al-Bayan
Arabic size
ا
Urdu size
ا

Juz 7

۞ لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا ۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ

82

�قیناً آپۖ اہلِ ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پائیں گے ۔ اور ایمان والوں کے لئے محبت میں قریب تر اُن لوگوں کو پائیں گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصارٰی ہیں ۔ یہ اس وجہ سے کہ اُن میں عبادت گزار عالم اور تارک الدنیا فقیر پائے جاتے ہیں ۔ اور یہ بھی کہ وہ تکبر نہیں کرتے

وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ ۖ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ

83

اور (ایسے مخلص مسیحی لوگ) جب اس (کلام) کو سنتے جو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل کیا گیا تو آپۖ نے دیکھا کہ حق شناسی کی وجہ سے اُن کی آنکھیں آنسوؤں سے تَر ہو جاتی ہیں ۔ وہ بول اُٹھتے ہیں : " اے ہمارے رب ہم ایمان لے آئے ۔ تو ہمارا نام (حق کی) گواہی دینے والوں میں لکھ لے "

وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا جَاءَنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن يُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِينَ

84

اور (وہ کہتے ہیں کہ) ہمیں کیا ہے کہ ہم ایمان نہ لائیں اللہ پر اور اؙس حق پر جو ہمارے پاس آچکا ہے جب کہ ہم (بھی یہ) خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں کے ساتھ (اپنی رحمت میں) داخل فرمائے !

فَأَثَابَهُمُ اللَّهُ بِمَا قَالُوا جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَاءُ الْمُحْسِنِينَ

85

اُن کی اس (محبت بھری) بات کی وجہ سے اللہ نے اؙنہیں ایسی جنتیں عطا کیں ہیں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور نیک رویہ اپنانے والوں کی یہی جزا ہے

وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ

86

رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اؙنہیں جھٹلایا تو وہی لوگ دوزخی ہیں

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ

87

اے ایمان والو ! اللہ نے جو پاکیزہ چیزیں تمھارے لئے حلال کی ہیں اؙنہیں (اپنے اوپر) حرام نہ کر لو ۔ اور حد سے نہ بڑھو ، بے شک اللہ حد سے تجاوﺰ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

وَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلَالًا طَيِّبًا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي أَنتُم بِهِ مُؤْمِنُونَ

88

اور جو حلال پا کیزہ رﺰق اللہ نے تمھیں عطا کیا ہے اؙس میں سے کھاؤ اور اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو جس پر پر تم ایمان لائے ہو

لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَـٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ ۖ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ۚ ذَٰلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ ۚ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

89

اللہ تمھاری فضول (بے مقصد) قسموں پر تمھاری گرفت نہیں کرتا لیکن اؙن قسموں پو تمھاری پکڑ ضرور ہو گی جنہیں تم پختہ کر چکے ہو ۔ (اگر تم ایسی مضبوط قسم توڑ ڈالو تو) اسکا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو (دو وقت کا) درمیانی قسم کا کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو ۔ یا اؙنہیں کپڑے پہنائے جائیں (موسم کے لحاظ سے) یا ایک غلام آﺰاد کیا جائے ۔ پس جو یہ نہ (کر) پائے تو وہ تین دن روﺰے رکھے ۔ یہ کفارہ ہے تمھاری قَسموں کا جب تم قَسم اؙٹھا بیٹھو ۔ اور (دیکھو) اپنی قَسموں کی حفاظت کیا کرو ۔ اِسی طرح اللہ اپنی آئیتوں کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم (عمل کر کے اس کے) شکر گزار بن جاؤ

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

90

اے ایمان والو ! بلاشبہ یہ شراب اور جؤا اور (عبادت کے لئے) نصب کئے گئے ؙبت اور (قسمت معلوم کرنے کے لئے) فال کے یہ تِیر ، سب گندے شیطانی کام ہیں ۔ تم ان سے (مکمل) پرہیز کرو ، تاکہ تمہیں (زندگی کی حقیقی) کامیابی نصیب ہو

إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ

91

شیطان یہی تو چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمھارے درمیان عداوت اور بُغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماﺰ سے روک دے ۔ پھر کیا تم (ان شرانگیز باتوں سے) باﺰ رہو گے ؟

وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَاحْذَرُوا ۚ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ

92

اور دیکھو اللہ اور اؙس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بات مان لو اور باﺰ آ جاؤ لیکن اگر تم (لوگوں) نے (ہماری ہدایت سے) منہ موڑ لیا ۔ تو جان لو کہ ہمارے رسولۖ پو بس صاف صاف (حکم) پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے (جو اؙنہوں نے پوری کر دی)

لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوا وَّآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوا وَّآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوا وَّأَحْسَنُوا ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ

93

(تم میں سے) جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرنے لگے ، اؙنہوں نے (حُرمت کے حکم سے) پہلے جو کچھ کھایا پیا اس پر کوئی گناہ نہیں جب کہ وہ (دیگر گناہوں سے) بچتے رہے ، ایمان پر قائم رہے اور نیک اعمال کرتے رہے ۔ پھر (جب ان اشیاء کی حرمت کے احکامات آئے تو بھی) بچتے رہے اور ایمان پر قائم رہے پھر صاحبانِ تقوٰی ہوئے اور (آخرِکار) صاحبانِ احسان بن گئے ۔ اور اللہ (تو پھر) احسان والوں سے بڑی محبت کرتا ہے

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللَّهُ بِشَيْءٍ مِّنَ الصَّيْدِ تَنَالُهُ أَيْدِيكُمْ وَرِمَاحُكُمْ لِيَعْلَمَ اللَّهُ مَن يَخَافُهُ بِالْغَيْبِ ۚ فَمَنِ اعْتَدَىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ

94

اے ایمان والو ! اللہ تمہیں اؙس شکار کے ذریعے ضرور آﺰمائش میں ڈالے گا جو بالکل تمھارے ہاتھوں اور نیزوں کی ﺰد میں ہو گا یہ دیکھنے کے لئے کہ تم میں سے کون اؙس سے غائبانہ ڈرتا ہے ۔ پھر جس نے اس (تنبیہہ) کے بعد بھی (اللہ کی مقرر کی ہوئی حد سے) تجاوﺰ کیا اؙس کے لئے دردناک عذاب ہے

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنتُمْ حُرُمٌ ۚ وَمَن قَتَلَهُ مِنكُم مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ أَوْ عَدْلُ ذَٰلِكَ صِيَامًا لِّيَذُوقَ وَبَالَ أَمْرِهِ ۗ عَفَا اللَّهُ عَمَّا سَلَفَ ۚ وَمَنْ عَادَ فَيَنتَقِمُ اللَّهُ مِنْهُ ۗ وَاللَّهُ عَزِيزٌ ذُو انتِقَامٍ

95

اے صاحبانِ ایمان ! (ایک نصیحت اور سُن لو) تم احرام کی حالت میں شکار کو مت مارو اور (یاد رکھو کہ) تم میں سے جس نے بھی جان بُوجھ کر اسے مارا تو اسکا بدلہ (تمھارے جانوروں میں سے) اؙس کے ہم پلہ کوئی جانور ہے جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل شخص کریں گے کہ یہ قربانی کعبہ میں پہنچنے والی ہو یا اس کا کفّارہ (چند) مسکینوں کو کھانا کھلانا ہو گا یا اِسی کے برابر روﺰے رکھنا ہوں گے تاکہ وہ اپنے کئے کی سزا (کا مزہ) چکھے ۔ (ہاں) اس سے پہلے جو کچھ ہو چکا اللہ نے اؙسے معاف فرما دیا ۔ اور (اب اگر) کسی نے اس (حرکت) کو دہرایا تو اللہ اُس سے انتقام لے گا اور اللہ ﺰبردست بدلہ لینے والا ہے

أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ ۖ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا ۗ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

96

(البتہ) تمھارے لئے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے ۔ تمھارے اپنے فا ئدے کے لئے اور قافلے کے (مسافروں کی سہولت کے) لئے بھی اور (البتہ) جب تک تم احرام کی حالت میں ہو خشکی کا شکار تم پر حرام کیا گیا ہے اور اؙس اللہ کی نافرمانی سے بچو جس کے حضور تم سب کو گھیر کر حاضر کیا جائے گا

۞ جَعَلَ اللَّهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِّلنَّاسِ وَالشَّهْرَ الْحَرَامَ وَالْهَدْيَ وَالْقَلَائِدَ ۚ ذَٰلِكَ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ

97

اللہ نے کعبہ کو جو حُرمت والا گھر ہے لوگوں کے لئے (اجتماعی ﺰندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا ہے اور حُرمت والے مہینے کو اور قربانی کے جانوروں کو اور گلے میں علامتی پٹے والے جانوروں کو بھی (اس میں معاون بنا دیا) ۔ تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے کے اللہ آسمانوں اور ﺰمین کے سب حالات سے باخبر ہے ۔ اور بے شک اللہ ہر چیز کا علم (بھی) رکھتا ہے

اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ وَأَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

98

خوب جان لو کہ بے شک اللہ سخت سزا دینے والا ہے اور (اس کے ساتھ ساتھ) یقیناً اللہ بخشنے والا رحیم (بھی) ہے

مَّا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغُ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ

99

رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر تو صرف پیغام پہنچا دینے کی ذمے داری ہے (آگے) تمھارے کھلے اور چُھپے (سب حالات کا) جاننے والا اللہ ہے

قُل لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيثِ ۚ فَاتَّقُوا اللَّهَ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

100

(اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم) اِن سے فرما دیں کہ ناپاک اور پاک (بہرحال) یکساں نہیں ہیں ۔ اگرچہ ناپاک (چیزوں) کی کثرت تمہیں پُرکشش ہی لگے ۔ اے عقل والو اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو تاکہ تمہیں (دین و دنیا کی) کامیابی نصیب ہو

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِن تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللَّهُ عَنْهَا ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ

101

اے ایمان والوں ! ایسی چیزوں بارے مت پوچھا کرو کہ اگر وہ تمھارے لئے ظاہر کر دی جا ئیں تو وہ تمھیں بُری لگیں اور اگر ان کے بارے میں ایسے وقت پوچھو گے جب کہ قرآن ناﺰل کیا جا رہا ہے تو وہ تمھارے لئے ظاہر کر دی جائیں گی (اور تم مصیبت میں پڑ جاؤ گے ، اس وقت تو) اللہ نے ان سے درگزر فرمایا ہے اور اللہ بخشنے والا بُردبار ہے