Juz 2
۞ سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَن قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا ۚ قُل لِّلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
لوگوں میں سے جو احمق ہیں وہ عنقریب (یہ بات) کہیں گے کہ اِن (مسلمانوں) کو کس نے اِن کے قبلہ سے پھیر دیا جس پر وہ (پہلے) تھے ! (اے رسولۖ) اِن سے کہہ دو مشرق و مغرب (توسب) اللہ ہی کے ہیں ، وہ جِسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا ۗ وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ ۚ وَإِن كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۗ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ
اور اِسی طرح ہم نے تمہیں (اِفراط و تفریط سے پاک) ایک معتدل اُمت بنا دیا تاکہ تم (دنیا کے) سب لوگوں پر (حق کی) گواہی دینے والے بن جاؤ اور (اللہ کا) رسولۖ تم پر گواہ بنے ۔ اور (اے رسولۖ) آپ جس (قبلہ) پر پہلے تھے اُسے ہم نے اس لئے مقرر کیا تھا کہ ہم جان لیں کہ کون رسولۖ کی پیروی کرتا ہے اور کون اُلٹے پاؤں پھر جاتا ہے ۔ یہ (آزمائش) تھی تو بہت بڑی مگر اُن لوگوں کے لئے نہیں تھی جن کو اللہ نے ہدایت دی ، اور اللہ ایسا نہیں کہ (اس طرح کی آزمائش سے) تمہارے ایمان کو ضائع کرے ۔ بے شک اللہ تو لوگوں کے ساتھ بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے
قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ ۖ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا ۚ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ ۗ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ
(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) آپۖ کے چہرے کا آسمان کی طرف بار بار اُٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں ۔ تو ہم ضرور پھیر دیں گے آپۖ کو اُس قبلہ کی طرف جسے آپۖ پسند کرتے ہیں ۔ لو (میرے حبیبۖ) اب اپنا چہرہ مسجدِ حرام کی طرف پھیر لو ۔ (اور اعلان کر دو کہ ایے مسلمانو !) تم جہاں کہیں بھی ہوں (دوانِ نماز) اپنے چہروں کا رُخ مسجدِ حرام کی طرف پھیر لیا کرو ۔ اور بے شک وہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی تھی وہ (خوب) جانتے ہیں کہ (تحویلِ قبلہ کا یہ حکم) اُن کے ربّ کی طرف سے بالکل حق ہے اور (اس کے باوجود) جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ اس سے بے خبر نہیں
وَلَئِنْ أَتَيْتَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ بِكُلِّ آيَةٍ مَّا تَبِعُوا قِبْلَتَكَ ۚ وَمَا أَنتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ ۚ وَمَا بَعْضُهُم بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ ۚ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم مِّن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ إِنَّكَ إِذًا لَّمِنَ الظَّالِمِينَ
اور(ایے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اگر آپۖ ان اہلِ کتاب کے سامنے تمام نشانیاں بھی لے آئیں تو (پھر بھی) وہ آپۖ کے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے ۔ اور نہ آپۖ کے لئے (ممکن) ہے کہ اؙن کے قبلہ کی پیروی کریں ۔ اور نہ وہ (آپس میں) ایک دوسرے کے قبلہ کو ماننے والے ہیں ۔ اور اگر آپۖ نے اؙس علم کے بعد جو (بذریعہ وحی) آپۖ کے پاس آ چکا ، اُن کی خواہشات کی پیروی کی (جو کہ ناممکن ہے) تو بے شک آپۖ اس وقت ظالموں میں (شمار) ہوں گے
الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ ۖ وَإِنَّ فَرِيقًا مِّنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی وہ اِنہیں (یعنی رسولِ اکرمۖ کو) اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں ۔ اور بے شک ان میں سے ایک گروہ (ایسا) ہے جو جانتے بوجھتے حق کو چھپاتا ہے
الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ
(لیکن واضح بات یہ ہے کہ) یہی حق ہے تمہارے رب کی طرف سے ۔ لہذا (اس بارے میں) آپۖ کو ہرگز کسی شک میں نہیں پڑنا چاہیے
وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا ۖ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ ۚ أَيْنَ مَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
ہر ایک کے لئے ایک سَمت (مقرّر) ہے جس کی طرف وہ (وقتِ عبادت) اپنا رُخ کرتا ہے ۔ پس تم (اِنہیں چھوڑو اور) نیکیوں میں سبقت حاصل کرو ۔ تم جہاں کہیں بھی ہوں گے اللہ تم سب کو اکٹھا کر لے گا ۔ یقین رکھو اللہ ہر چیز پر قادر ہے
وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۖ وَإِنَّهُ لَلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
اور (اے حبیبۖ) آپۖ کا گزر جس مقام سے بھی ہو (وقتِ نماز) اپنا رُخ مسجدِ حرام کی طرف کر لیا کریں ۔ بلاشبہ تمہارے رب کی طرف سے یہی حق ہے اور اللہ ( تم لوگوں کے) اعمال سے بے خبر نہیں ہے
وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي وَلِأُتِمَّ نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ
اور (دوبارہ تاکید کی جاتی ہے کہ) آپۖ جہاں سے بھی گزریں (وقتِ نماز) اپنا رُخ مسجدِ حرام کی طرف پھیر لیا کریں ۔ اور(ایے مسلمانو ! عام حالات میں بھی) تم جہاں بھی ہوں اُسی کی طرف رُخ کیا کرو ۔ اِس لئے کہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجّت نہ ملے ۔ ہاں البتہ اُن میں سے جو ظالم ہیں (وہ اعتراض کرتے رہیں گے) سو تم اُن سے نہ ڈرو (بلکہ صرف) مجھ سے ڈرا کرو ۔ اور اس لئے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کر دوں تاکہ تم ہدایت یافتہ ہو جاؤ
كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِّنكُمْ يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ
جیسا کہ ہم نے (اسی مقصد کی تکمیل کے لئے) تمہارے درمیان تم میں سےایک رسولۖ بھیجا ، جو تمہیں ہماری آیات سناتا ہے اور تمہارا تزکیہ کرتا ہے اور تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے
فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ
پس تم مجھے یاد رکھو ، میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کرو اور ناشکری نہ کرو
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ
اے ایمان والو - صبر اور نماز کے ساتھ (اللہ سے) مدد مانگو ۔ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَـٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں اؙنہیں مُردہ نہ کہو بلکہ وہ (حقیقت میں) زندہ ہیں ، مگر تمہیں (اؙن کی زندگی کا) شعور نہیں
وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ
(زندگی کی اس راہ میں) ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے (کبھی) کچھ خوف اور بھوک سے اور کبھی کسی قدر مال و جان اور پھلوں کے نقصانات میں مبتلا کر کے ۔ اور (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اُن صابرین کو (دنیا اور آخرت میں کامیابی کی) بشارت دے دو
الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
کہ جب بھی اُن پر کوئی مصیبت پڑی تو اؙنہوں نے کہا ۔ کہ بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اُسی کی طرف پلٹ کر جائیں گے
أُولَـٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ
یہی وہ (خوش نصیب) لوگ ہیں جن پر اُن کے رب کی طرف سے (بے شمار) عنایتیں ہیں اور (اُس کی) رحمت ۔ اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں
۞ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا ۚ وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ
بے شک صَفا اور مَروہ (کی پہاڑیاں) اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ لہذا جو بھی (اس) گھر کا حج کرے یا عمرہ کرے اُس پر کوئی حرج نہیں کہ وہ ان دونوں کے درمیان چکر لگائے (جو کہ ایک نیکی کا کام ہے) اور جو خوشی کے ساتھ کوئی بھلائی کا کام کرے گا تو (یاد رکھیں) الله قدر دان اور (ہر چیز کا) علم رکھنے والا ہے
إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ مِن بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ ۙ أُولَـٰئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ
بے شک جو لوگ ہماری نازل کردہ روشن تعلیمات اور ہدایت کو چھپاتے ہیں ، باوجود اس کے کہ ہم نے سب انسانوں (کی راہنمائی) کے لئے اپنی کتاب میں کھول کر بیان کردیا تھا ۔ (یقین جانو) یہی ہیں وہ (بد نصیب) لوگ جن پر اللہ لعنت کرتا ہے اور (تمام) لعنت کرنے والے بھی اُن پر لعنت بھیجتے ہیں
إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَيَّنُوا فَأُولَـٰئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
مگر جو توبہ کرلیں اور(اپنے طرزِ عمل کی) اصلاح کرلیں اور (جو وہ چھپاتے تھے) اُسے کھول کر بیان کر دیں تو مَیں ایسے لوگوں کی توبہ قبول کر لوں گا ۔ اور میں بہت توبہ قبول کرنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہوں
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ أُولَـٰئِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
بلا شبہ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اوروہ حالتِ کفر ہی میں مر گئے یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ اور فرشتوں اور سب انسانوں کی لعنت ہے