Juz 19
۞ وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَائِكَةُ أَوْ نَرَىٰ رَبَّنَا ۗ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِي أَنفُسِهِمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيرًا
وَ قَالَ الَّذِینَاور جو لوگ ہماری ملاقات کی اُمید نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں ، ہم پر فرشتے کیوں نہیں اؙتارے گئے ؟ یا (پھر) ہم اپنے رب کو (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیتے ۔ حقیقت میں وہ اپنے جی میں بڑا گھمنڈ لے بیٹھے ہیں ۔ اور وہ اپنی سرکشی میں حد سے گزر گئے ہیں
يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلَائِكَةَ لَا بُشْرَىٰ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِينَ وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَّحْجُورًا
جس دن وہ فرشتوں کو دیکھیں گے (تو) اؙس دن مجرموں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہ ہوگی ۔ بلکہ وہ (اؙنہیں دیکھ کر ڈر کے مارے) کہیں گے ، کوئی روکنے والی آڑ ہوتی (جو ہمیں ان سے بچا لیتی)
وَقَدِمْنَا إِلَىٰ مَا عَمِلُوا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَّنثُورًا
اور (پھر) ہم اؙن اعمال کی طرف متوجہ ہوں گے جو انہوں نے (زندگی میں) کئے ، تو ہم اؙنہیں گرد و غبار بنا کر اُڑا دیں گے
أَصْحَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَأَحْسَنُ مَقِيلًا
اُس دن اہلِ جنّت کا بہت اچھا ٹھکانا ہوگا اور دوپہر گزارنے کی جگہ بہت آرام دہ ہوگی
وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَائِكَةُ تَنزِيلًا
اور اُس دن آسمان پھٹ کر بادل (کی طرح دھویں) میں بدل جائے گا اور فرشتے گروہ در گروہ اُتار دیئے جائیں گے
الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ ۚ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَافِرِينَ عَسِيرًا
اُس دن حقیقی بادشاہی الرحمٰن کی ہو گی اور وہ دن منکروں کے لئے بڑا سخت ہوگا
وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا
اور اؙس دن ہر ظالم (مایوسی اور غصّے کے عالم میں) ہاتھوں کو کاٹ کھائے گا اور کہے گا ۔ " کاش میں نے رسولِ (کریم صلی اللہ علیہ وسلم) کی معیت میں (ہدایت کا) راستہ اختیار کر لیا ہوتا !! "
يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا
" ہائے میری بد بختی ---- کاش میں نے فلاں شخص کو (اپنا) دوست نہ بنایا ہوتا ! "
لَّقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَنِي ۗ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِلْإِنسَانِ خَذُولًا
" بے شک اؙس نے مجھے بہکا دیا اؙس نصیحت سے جو میرے پاس آئی تھی ۔ شیطان انسان کے حق میں بڑا ہی بے وفا نکلا "
وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَـٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا
اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) عرض کریں گے ۔ " اے رب ! بے شک میری قوم نے اس قرآن کو بالکل نظر انداز کر دیا تھا
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِينَ ۗ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ هَادِيًا وَنَصِيرًا
اور (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح یہ لوگ آپۖ کے دشمن بن کر اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں) اِسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے جرائم پیشہ لوگوں میں سے دشمن بنائے تھے ۔ اور ہاں (آپۖ مطمئن رہیں) آپۖ کے لئے آپۖ کا رب ہی راہنمائی اور مدد کو کافی ہے
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً ۚ كَذَٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ ۖ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا
اور کافر کہتے ہیں کہ اس (رسولۖ) پر قرآن ایک ہی بار (پورے کا پورا) کیوں نہیں اؙتارا گیا ؟ (تھوڑا تھوڑا کر کے بتدریج اس لئے اؙتارا گیا) تاکہ ہم اس سے آپۖ کے دل کو مضبوط کریں اور (اِسی وجہ سے) ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا ہے
وَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِيرًا
اور یہ (لوگ) آپۖ کے پاس کوئی (ایسی) مثال (سوال یا اعتراض کے طور پر) لے کر آتے ہی ہیں کہ ہم آپۖ کے پاس اس کا ٹھیک جواب اور (اس سے) بہتر وضاحتی بیان لے آتے ہیں
الَّذِينَ يُحْشَرُونَ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ إِلَىٰ جَهَنَّمَ أُولَـٰئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَأَضَلُّ سَبِيلًا
�ہی ہیں وہ لوگ جو اپنے (مکروہ) چہروں کے بَل جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے ۔ انہی کا ٹھکانہ بہت بُرا ہے اور وہی سب سے بڑھ کر گُم کَردہِ راہ ہیں
وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَجَعَلْنَا مَعَهُ أَخَاهُ هَارُونَ وَزِيرًا
اور بے شک ہم نے موسٰی (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی اور ہم نے ان کے ساتھ (اُن کی معاونت کے لئے) اؙن کے بھائی ہارونؑ کو وزیر بنایا
فَقُلْنَا اذْهَبَا إِلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَدَمَّرْنَاهُمْ تَدْمِيرًا
پھر ہم نے کہا تم دونوں اُس قوم کی طرف جاؤ جنہوں نے ہماری آئتوں کو جھٹلایا ہے ۔ (وہ متکبر ہماری تکذیب سے پھر بھی باز نہ آئے تو) ہم نے اؙنہیں ہلاک کر کے رکھ دیا
وَقَوْمَ نُوحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ أَغْرَقْنَاهُمْ وَجَعَلْنَاهُمْ لِلنَّاسِ آيَةً ۖ وَأَعْتَدْنَا لِلظَّالِمِينَ عَذَابًا أَلِيمًا
(اسی طرح) جب نوحؑ کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا تو ہم نے اؙنہیں بھی غرق کر دیا ۔ اور (اس طرح) ہم نے اؙنہیں (دوسرے) لوگوں کے لئے نشانِ عبرت بنا دیا ۔ اور (یہ بھی جان لو کہ) ہم نے ظالموں کے لئے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے
وَعَادًا وَثَمُودَ وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَيْنَ ذَٰلِكَ كَثِيرًا
اور (اسی طرح) عاد اور ثمود اور باشندگانِ رس (یعنی کنویں والوں) کو اور ان کے درمیان گزرنے والی بہت سی قوموں کو بھی (تباہ کر دیا)
وَكُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْأَمْثَالَ ۖ وَكُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِيرًا
اور ہم نے ہر ایک (قوم) کو (سمجھانے کے لئے طرح طرح کی) مثالیں پیش کیں ۔ اور (جب وہ سرکشی سے باز نہ آئے تو) ہم نے اؙن سب کو نیست و نابود کر دیا
وَلَقَدْ أَتَوْا عَلَى الْقَرْيَةِ الَّتِي أُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ ۚ أَفَلَمْ يَكُونُوا يَرَوْنَهَا ۚ بَلْ كَانُوا لَا يَرْجُونَ نُشُورًا
اور یہ (مشرکینِ مکہ) کئی بار اؙس بستی کے پاس سے گزر چکے ہیں جس پر بُری طرح (پتھروں کی) بارش برسائی گئی تھی ۔ تو کیا اؙنہوں نے (تباہ شدہ بستی کا حال) دیکھا نہ ہو گا ؟ (مگر ایسی بات نہیں) بلکہ یہ تو (مرنے کے بعد) اٹھائے جانے کی امید ہی نہیں رکھتے