Juz 8
۞ وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَىٰ وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ
اور اگر ہم ان پر فرشتے بھی اُتار دیتے اور مُردے (قبروں سے اُٹھ کر) اُن سے باتیں کرنے لگتے اور ہم (دنیا بھر کی) تمام چیزوں کو اُن کے رُوبرو جمع کر دیتے ، تب بھی وہ ایمان لانے والے نہ تھے ۔ سوائے اس کے کہ اللہ کی مرضی ہوتی (کہ وہ ایمان لے آئیں) لیکن ان میں سے اکثر جہالت کی باتیں کرتے ہیں
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا ۚ وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ
اور اِسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے انسانوں اور جنّوں میں سے شیطانوں کو دشمن بنا دیا جو چکنی چپڑی باتیں فریب کے طور پر ایک دوسرے کے دلوں میں چپکے چپکے ڈالتے رہتے ہیں ۔ اور اگر آپۖ کا رب چاہتا تو وہ ایسا ہرگز نہ کر پاتے ۔ پس آپۖ انہیں (ان کے حال پر) چھوڑ دیں ۔ اور (اُسے بھی) جو بہتان وہ باندھ رہے ہیں
وَلِتَصْغَىٰ إِلَيْهِ أَفْئِدَةُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَلِيَرْضَوْهُ وَلِيَقْتَرِفُوا مَا هُم مُّقْتَرِفُونَ
(ہم اُنہیں یہ سب کچھ اس لئے کرنے دے رہے ہیں کہ) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اُن کے دل اس (خوشنما دھو کے) کی طرف مائل ہو جائیں اور وہ اس سے راضی (بھی) ہو جائیں اور (اؙن برائیوں کا) ارتکاب کریں جن کے وہ خود مرتکب ہو رہے ہیں
أَفَغَيْرَ اللَّهِ أَبْتَغِي حَكَمًا وَهُوَ الَّذِي أَنزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلًا ۚ وَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُ مُنَزَّلٌ مِّن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ
پھر جب حال یہ ہے تو اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ذرا پو چھئے))تو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں ، حالانکہ وہ (اللہ) ہی ہے جس نے تمہاری طرف تفصیل کے ساتھ کتاب نازل کر دی ہے ۔ اور (رہے) وہ لوگ جنہیں ہم نے (پہلے) کتاب دی تھی ، وہ (اچھی طرح) جانتے ہیں کہ بے شک یہ (قرآن) آپۖ کے رب کی طرف سے برحق نازل کیا گیا ہے ۔ پس آپۖ تردّد کرنے والوں میں سے نہ ہونا
وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا ۚ لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
اور آپۖ کے رب کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے پوری ہو چکی (اور سن لو) اؙس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہ خوب سننے والا ، جاننے والا ہے
وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُونَ
اور اگر آپۖ زمین میں (موجود) لوگوں کی اکثریت کا کہا مان لیں تو وہ آپۖ کو اللہ کی راہ سے ہٹا دیں گے ۔ وہ تو صرف وہم و گمان کے تابع ہیں اور محض قیاس آرائیاں کرتے رہتے ہیں
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ مَن يَضِلُّ عَن سَبِيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ
بے شک آپۖ کا رب خوب جانتا ہے جو اُسکی راہ ہٹا ہُوا ہے اور وہی ہدایت یافتہ لوگوں سے (بھی) خوب واقف ہے
فَكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ إِن كُنتُم بِآيَاتِهِ مُؤْمِنِينَ
پھر اگر تم (لوگ) اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو اس (ذبیحہ) سے کھایا کرو جس پر (ذبح کرتے وقت) اللہ کا نام لیا گیا ہو
وَمَا لَكُمْ أَلَّا تَأْكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًا لَّيُضِلُّونَ بِأَهْوَائِهِم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِينَ
اور تمہیں کیا ہے کہ تم وہ (چیز) نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ۔ حالانکہ جو کچھ حالتِ اضطرار کے سوا (دوسری تمام حالتوں میں اللہ نے) تم پر حرام کر دیا ہے تمہارے لئے اؙن کی تفصیل (پہلے) بیان کی جا چکی ھے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بہت سے لوگ بے علمی کے باعث اپنی خواہشات کی بنا پر(دوسروں کو) گمراہ کرتے ہیں ۔ بے شک آپۖ کا رب ان حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے
وَذَرُوا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَكْسِبُونَ الْإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوا يَقْتَرِفُونَ
(اے لوگو) وہ گناہ جو تم سب کے سامنے کرتے ہو اور جو چھپ کر کرتے ہو(دونوں کو) چھوڑ دو ۔ (اور یاد رکھو) جو لوگ گناہ کا اکتساب کرتے ہیں عنقریب وہ اپنی اس کمائی کا بدلہ پا کر رہیں گے
وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ ۗ وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰ أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ ۖ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ
اور جس (جانور) پر ( ذبح کرتے ہوئے) اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو (اُس کا گوشت) مت کھاؤ اور بے شک (اُس کا کھانا) گناہِ کبیرہ ہے اور بے شک شیاطین اپنے ساتھیوں کے دلوں میں (وسوسے) ڈالتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم (لوگوں) نے اُن کا کہنا مان لیا تو تم یقیناً مشرک ہو جاؤ گے
أَوَمَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكَافِرِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
کیا وہ (شخص) جو پہلے مُردہ تھا (حیاتِ ایمان سے محروم) پھر ہم نے اُسے زندگی بخشی (یعنی روحِ ہدایت عطا فرمائی) اور اُس کے لیے (ایمان و معرفت کا) وہ نُور پیدا فرمایا جس کے اؙجالے میں وہ لوگوں کے درمیان چلتا پھرتا (عوام کی راہنمائی کرتا) ہے ۔ تو کیا وہ اُس (شخص) کی مانند ہو سکتا ہے جو (جہالت و گمراہی کے) اندھیروں میں (گرا) پڑا ہے اور کسی طرح بھی ان سے نکلنے والا نہیں ۔ اِسی طرح کافروں کے لئے وہ اعمال خوشنما بنا دیئے گئے جو وہ کرتے ہیں
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَابِرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمْكُرُوا فِيهَا ۖ وَمَا يَمْكُرُونَ إِلَّا بِأَنفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ
اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں (وہاں کے) وڈیروں کو (اُن کا ہٹ دھرمی اور تکبر کی وجہ سے) جرائم میں ملوث کر دیا کہ وہ اس میں اپنے مکر و فریب کا جال بچھائیں ۔ (حقیقت تو یہ ہے کہ) وہ اپنے آپ کو ہی فریب دے رہے ہیں ۔ مگروہ (اس حقیقت کو) سمجھتے نہیں
وَإِذَا جَاءَتْهُمْ آيَةٌ قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّهِ ۘ اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ ۗ سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُوا صَغَارٌ عِندَ اللَّهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُوا يَمْكُرُونَ
اور جب اُن کے پاس کوئی نشانی آتی تو کہتے ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ ہمیں بھی ویسی ہی (نشانی) دی جائے جیسی اللہ کے رسولوں کو دی گئی ۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ رسالت کا حق دار کسے بنایا جائے ۔ عنقریب ایسے مجرموں کو اپنی مکاریوں کے بدلے اللہ کی طرف سے ذلّت و رسوائی اور سخت عذاب پہنچے گا
فَمَن يُرِدِ اللَّهُ أَن يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ ۖ وَمَن يُرِدْ أَن يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَصَّعَّدُ فِي السَّمَاءِ ۚ كَذَٰلِكَ يَجْعَلُ اللَّهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ
پس اللہ جس (خوش نصیب) کو(اس کی نیک نیتی کی وجہ سے) ہدایت دینے کا ارادہ فرماتا ہے تو اُس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے اور جسے (اؙسکی بدنیتی کی وجہ سے) گمراہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا سینہ (ایسی) شدید گھٹن کے ساتھ تنگ کر دیتا ہے کہ جیسے وہ بمشکل بلندی کی طرف چڑھ رہا ہو ۔ اسی طرح الله اؙن لوگوں پر (کفر کی) گندگی ڈال دیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے
وَهَـٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِيمًا ۗ قَدْ فَصَّلْنَا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَ
اور (اے میرے حبیبۖ) یہ ہے راستہ آپۖ کے رب کا سیدھا (راستہ) اور (اس راستے کے) نشانات اُن لوگوں کے لئے واضح کر دیئے گئے ہیں جو نصیحت قبول کرتے ہیں
۞ لَهُمْ دَارُ السَّلَامِ عِندَ رَبِّهِمْ ۖ وَهُوَ وَلِيُّهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
اُن کے لئے اُن کے رب کے پاس سلامتی کا گھر (یعنی جنت) ہے اور وہی اُن کا سرپرست ہے ۔ اُن (صالح) اعمال کے باعث جو وہ انجام دیا کرتے تھے
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُم مِّنَ الْإِنسِ ۖ وَقَالَ أَوْلِيَاؤُهُم مِّنَ الْإِنسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَبَلَغْنَا أَجَلَنَا الَّذِي أَجَّلْتَ لَنَا ۚ قَالَ النَّارُ مَثْوَاكُمْ خَالِدِينَ فِيهَا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ
اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا (اور فرمائے گا) اے جنّوں کے گروہ ! تم نے (انسانوں کو بہکا کر) ان سے بہت سے فائدے حاصل کئے ۔ (یہ سن کر) انسانوں میں سے جو ان (شیاطین) کے ساتھی تھے وہ کہیں گے ، اے ہمارے رب ہم نے ایک دوسرے سے (خوب) فائدے حاصل کئے اور (اسی مفاد پرستی اور دنیاوی حرص و ہوا میں مبتلا) اب اُس وقت پر آپہنچے جو تُو نے ہمارے لئے مقرر کر دیا تھا ۔ (اللہ) فرمائے گا (اب) آگ ہی تمہارا ٹھکانا ہے ۔ ہمیشہ اسی میں (جلتے) رہو گے مگر جِسے اللہ (بچانا) چاہے ۔ بے شک آپۖ کا رب بڑی حکمتوں کا مالک ، سب کچھ جاننے والا ہے
وَكَذَٰلِكَ نُوَلِّي بَعْضَ الظَّالِمِينَ بَعْضًا بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
اور اِسی طرح ہم ظالموں کو ایک دوسرے پر مسلّط کرتے رہتے ہیں اُن (کرتوتوں) کی وجہ سے جو وہ کرتے رہتے ہیں
يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَـٰذَا ۚ قَالُوا شَهِدْنَا عَلَىٰ أَنفُسِنَا ۖ وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَشَهِدُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا كَافِرِينَ
اس موقع پر اللہ تعالےٰ اُن سے یہ بھی سوال کرے گا کہ) "اے گروہ جن و انس ! کیا تمہارے پاس تمہی میں سے رسول نہیں آئے تھے ؟ جو تمہارے سامنے میری آئتیں بیان کرتے تھے اور تمہیں اس دن کی پیشی سے ڈراتے تھے ؟ "وہ کہیں گے ۔ "ہم اپنے خلاف خود گواہی دیتے ہیں" ۔ اور اؙنہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا ۔ اور (اُس وقت) اؙنہوں نے خود اپنے خلاف گواہی دی کہ وہ کافر تھے