Juz 11
۞ إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ وَهُمْ أَغْنِيَاءُ ۚ رَضُوا بِأَن يَكُونُوا مَعَ الْخَوَالِفِ وَطَبَعَ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
الزام کی راہ تو بس اُن لوگوں پر ہے جو مال دار ہونے کے باوجود آپۖ سے رخصت طلب کرتے ہیں ۔ یہ لوگ (پیچھے رہ جانے والی) خانہ نشین عورتوں کے ساتھ بیٹھے رہنے پر راضی ہو گئے ۔ اور اللہ نے (اِسی وجہ سے) ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے ۔ سو وہ جانتے ہی نہیں (کہ ہمارا نفع نقصان کس چیز میں ہے)
يَعْتَذِرُونَ إِلَيْكُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَيْهِمْ ۚ قُل لَّا تَعْتَذِرُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّأَنَا اللَّهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ ۚ وَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَىٰ عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
پارے مکمل ہوئےپارہ نمبر گیارہ یَعتَذِرُونَ(اے ایمان والو) جب تم ان کی طرف (سفرِ تبوک سے) واپسی اختیار کرو گے تو یہ (منافق) تمہارے سامنے (طرح طرح کے) عُذر پیش کریں گے ۔ (اے میرے حبیبۖ) اِن سے فرما دینا " بہانے مت بناؤ ہم ہرگز تمہاری کسی بات کا یقین نہیں کریں گے ۔ ہمیں اللہ نے تمہارے حالات سے باخبر کر دیا ہے ۔ اب اللہ اور اُس کا رسولۖ تمہارا طرزِ عمل دیکھیں گے ۔ پھر تم اؙس کی طرف پلٹائے جاؤ گے جو ہر پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا ہے ۔ پھر وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو"
سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْهُمْ ۖ فَأَعْرِضُوا عَنْهُمْ ۖ إِنَّهُمْ رِجْسٌ ۖ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
(اے ایمان والو) اب وہ تمہارے رُوبَرو ضرور اللہ کی قَسمیں کھائیں گے جب تم اؙن کی طرف لَوٹ کر جاؤ گے ، تاکہ تم اُن سے درگزر کرو ۔ سو تم بھی اؙنہیں اِن کی حالت پر چھوڑ دو ۔ (کیونکہ) بلاشبہ وہ ہیں ہی ناپاک اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔ یہ بدلہ ہے اُن (بُرائیوں) کا جو وہ کماتے رہے ہیں
يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ ۖ فَإِن تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَرْضَىٰ عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ
�ہ تمہارے سامنے قَسمیں کھائیں گے تاکہ ہم اؙن سے راضی ہو جاؤ تو (ایے ایمان والو) اگر تم ان سے راضی ہو بھی جاؤ تو بےشک اللہ نا فرمان لوگوں سے راضی نہیں ہوتا
الْأَعْرَابُ أَشَدُّ كُفْرًا وَنِفَاقًا وَأَجْدَرُ أَلَّا يَعْلَمُوا حُدُودَ مَا أَنزَلَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
(ان منافقین میں سے جو) گنوار دیہاتی لوگ ہیں وہ کفر اور نفاق میں زیادہ سخت ہیں ۔ اور وہ اسی لائق ہیں کہ جو احکامِ شریعت اللہ نے اپنے رسولۖ پر نازل فرمائے ہیں اُن سے بے خبر ہی رہیں ۔ اور اللہ تو سب کچھ جاننے والا بڑی حکمت والا ہے
وَمِنَ الْأَعْرَابِ مَن يَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ مَغْرَمًا وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَائِرَ ۚ عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
اور ان گنوار دیہاتی لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو (اللہ کی راہ میں) خرچ کرنے کو اپنے اوپر زبردستی کا تاوان سمجھتا ہے اور تمہارے لئے زمانے کی گردشوں کا منتظر رہتا ہے (کہ مومن کسی مصیبت میں پھنسیں تو ہم نظامِ اسلام کے بوجھ کو اُتار پھینکیں ، حالانکہ ﺰمانے کی) بُری گردش اُنہی پر ہے اور اللہ تو خوب سُننے والا ، جاننے والا ہے
وَمِنَ الْأَعْرَابِ مَن يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنفِقُ قُرُبَاتٍ عِندَ اللَّهِ وَصَلَوَاتِ الرَّسُولِ ۚ أَلَا إِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ ۚ سَيُدْخِلُهُمُ اللَّهُ فِي رَحْمَتِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
اور (ان) بادیہ نشینوں میں وہ (شخص) بھی ہے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور جو کچھ (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتا ہے وہ اؙسے اللہ کی قُربت اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی (رحمت بھری) دعائیں لینے کا ذریعہ بناتا ہے ۔ سنو!! بے شک یہ (خرچ کرنا) ان کے لئے قُربت (کا ذریعہ) ہے ۔ عنقریب اللہ اؙنہیں اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا ۔ بے شک اللہ بخشنے والا ، رحم کرنے والا ہے
وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
اور وہ سبقت لے جانے والے سب سے پہلے (ایمان لانے والے) مہاجرین میں سے اور انصار میں سے اور وہ جنہوں نے احسان مندی کے ساتھ ان کی پیروی کی ، اللہ ان (سب) سے راضی ہو گیا اور وہ (سب) اُس سے راضی ہو گئے ۔ اللہ نے ان کے لئے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے دامن میں نہریں بہہ رہی ہیں ۔ وہ ان (باغات) میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔ یہی ہے بڑی کامیابی
وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ ۖ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ۖ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ ۖ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ ۚ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٍ
اور (ایمان والو) تمہارے گردوپیش کے گنوار دیہاتیوں میں (بعض) منافق ہیں ۔ اور (اسی طرح) خود مدینہ کے رہنے والوں میں (بھی منافق موجود ہیں) ۔ یہ (لوگ) منافقت پر اڑے ہوئے ہیں ۔ تم انہیں نہیں جانتے ، ہم انہیں جانتے ہیں ۔ عنقریب ہم اؙنہیں دوہرا عذاب دیں گے ۔ پھر وہ (قیامت کے دن) بڑے عذاب کی طرف دھکیل دیئے جائیں گے
وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللَّهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(ان کے علاوہ) کچھ دوسرے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کر لیا ہے ۔ اُنہوں نے ملے جُلے عمل کئے تھے ، کچھ بھلے اور کچھ بُرے - اُمید ہے کہ اللہ ان پر توجہ فرمائے گا ۔ بے شک اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے
خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
آپۖ ان کے اموال میں سے صدقہ قبول کر لیں اور اس کے باعث آپۖ اُنہیں (گناہوں کے آثار سے) پاک صاف کر دیں اور (روحانی طور پر بھی) ان کا تزکیہ نفس کیجئے اور ان کے حق میں دعا کیجئے ۔ بے شک آپۖ کی دعا ان کے لئے باعثِ تسکین ہوگی ۔ اور اللہ تو سب کچھ سنتا جانتا ہے
أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
کیا اُن (لوگوں) کو معلوم نہیں کہ بے شک وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور اُن کے صدقات کو شرفِ قبولیت بخشتا ہے ! اور بلا شبہ اللہ ہی ہے جو بہت توبہ قبول فرمانے والا رحم فرمانے والا ہے
وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ ۖ وَسَتُرَدُّونَ إِلَىٰ عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
اور فرما دیجئے کہ تم عمل کرتے رہو عنقریب اللہ تمہارے عمل کو دیکھ لے گا اور اس کا رسولۖ بھی اور ایمان والے بھی (سب دیکھیں گے کہ اب تمہارا طرزِ عمل کیا رہتا ہے ؟) اور پھر تم عنقریب اُس کی طرف لوٹائے جاؤ گے جو ہر پوشیدہ اور کھلی (بات) کو جاننے والا ہے ۔ پھر وہ تمہیں اُن سب (اعمال) کے بارے میں بتائے گا جو تم کرتے رہے ہو
وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ اللَّهِ إِمَّا يُعَذِّبُهُمْ وَإِمَّا يَتُوبُ عَلَيْهِمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
اور کچھ دوسرے (لوگ) ہیں جن کا معاملہ اللہ کے حکم پر ٹھہرا ہوا ہے ۔ چاہے اؙنہیں سزا دے یا چاہے اُن پر از سرِ نو مہربان ہو جائے ۔ اور اللہ تو سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے
وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا وَتَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَإِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ مِن قَبْلُ ۚ وَلَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا الْحُسْنَىٰ ۖ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ
اور (منافقین میں سے وہ بھی ہیں) جنہوں نے (مسلمانوں کو) نقصان پہنچانے اور کفر (کو مضبوط) کرنے اور اہلِ ایمان میں پھوٹ ڈالنے کے لئے ایک مسجد (ضرار) بنائی ۔ تاکہ اؙس (شخص) کے لئے گھات لگانے کی جگہ بنائیں جو پہلے ہی اللہ اور اس کے رسولۖ کے ساتھ جنگ کرتا رہا تھا ۔ وہ ضرور قَسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ (اس مسجد کے بنانے میں) ہمارا ارادہ سوائے بھلائی کے اور کچھ نہ تھا ۔ اور اللہ تو گواہی دیتا ہے کہ وہ قطعی جھوٹے ہیں
لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا ۚ لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ ۚ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا ۚ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ
(اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم) آپۖ ہرگز اس (عمارت) میں کھڑے نہ ہونا ۔ البتہ وہ مسجدِ (قباء) جس کی بنیاد پہلے دن ہی سے تقوٰی پر رکھی گئی ہے وہ زیادہ حق دار ہے کہ آپۖ اس میں (عبادت کے لئے) کھڑے ہوں ۔ اس میں ایسے (خوش نصیب) لوگ ہیں جو پاک صاف رہنے کو پسند کرتے ہیں ۔ اور اللہ تو پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے
أَفَمَنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىٰ تَقْوَىٰ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ أَم مَّنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىٰ شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ
پھر کیا وہ (شخص) جس نے اپنی عمارت (یعنی مسجد) کی بنیاد اللہ کے تقوٰی اور اُس کی رضا (کی طلب) پر رکھی ہو بہتر ہے یا وہ (شخص) جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایسی کھائی کے کنارے پر اُٹھائی جو گرنے والی ہے ۔ پس وہ اسے لے کر جہنم کی آگ میں جاگری اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
لَا يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِي بَنَوْا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ إِلَّا أَن تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
�ہ (عمارت) جو اُنہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں (بے یقینی کے باعث) کھٹکتی رہے گی ، بجز اس کے کہ اُن کے دل ہی پارہ پارہ ہو جائیں اور اللہ خوب جاننے والا ، حکمت والا ہے
۞ إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَىٰ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ ۚ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ وَالْقُرْآنِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ ۚ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
بے شک اللہ نے مومنوں سے اؙن کی جانیں اور اؙن کے مال جنت کے بدلے خرید لئے ہیں ۔ (اب) وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں ۔ سو وہ (حق کی خاطر) قتل کرتے ہیں اور (خود بھی) قتل کئے جاتے ہیں ۔ ان سے (جنت کا وعدہ) اللہ کے ذمے ایک پختہ وعدہ ہے ، تورات میں اور انجیل میں اور قرآن میں (بھی) اور اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدے کو پورا کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے ! سو (ایمان والو) خوشیاں مناؤ اپنے اس سودے پر جو تم نے اللہ سے کیا ہے ۔اور یہی سب سے بڑی کامیابی ھے
التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنكَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللَّهِ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ
(یہ مومنین جنہوں نے اللہ سے سودا کر لیا) وہ توبہ کرنے والے ، عبادت کرنے والے ، (اللہ کی) حمد و ثنا کرنے والے ، (اؙس کی خاطر) سیاحت کرنے والے ، (خشوع خضوع سے) رکوع کرنے والے ، (قربِ الٰہی کی خاطر) سجدہ کرنے والے ، نیکی کا حکم دینے والے اور بُرائی سے منع کرنے والے اور اللہ کی (مقرر کردہ) حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔ اور(اے میرے حبیبۖ) ان اہلِ ایمان کو خوشخبری سنا دیجئے